Daily Mashriq


افغانستان میں پائیدار امن

افغانستان میں پائیدار امن

افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ایک ماہ کی مصروفیت کے بعد واشنگٹن پہنچنے کے بعد طالبان کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے تعمیری کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ گزشتہ ماہ کے مذاکرات میں امریکہ اور طالبان ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں تاہم حتمی معاہدہ تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ''افغانستان میں سابقہ حکومتیں خواہ وہ طالبان کی رہی ہوں خواہ دوسروں کی' وہ اس لیے ناکام رہی ہیں کہ وہ اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتی تھیں۔ دوحا مذاکرات میں انہوں نے یہ فرق محسوس کیا ہے کہ اب طالبان سمیت سبھی فریق ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنے پر تیار ہیں۔'' اس طرح زلمے خلیل زاد کے لیے سبھی افغان گروپوں کیلئے قابل قبول معاہدے کی تیاری کیلئے حالات سازگار ہیں۔ انہوں نے اہم ترین فریق طالبان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے حوالے سے بنیادی رضامندی حاصل کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت حالیہ ماسکو مذاکرات بھی دیکھنے میں آئی جن میں افغان حکومت کے سوا دوسرے اہم افغان سیاسی عنصر بھی شریک ہوئے جن میں سابق صدر حامد کرزئی اور افغان حکومت کی کابینہ کی ایک خاتون رکن بھی نمایاں تھیں اور عبدالرشید دوستم موجود نہ ہونے کی وجہ سے نمایاں تھے۔ بنیادی طور پر طالبان سے امریکہ کے مذاکرات کی کامیابی افغان امن کی طرف ایک اہم سنگِ میل ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ طالبان ایک اہم عنصر ہیں افغانستان کے دوسرے گروپوں کا اتفاقِ رائے حاصل کیاجانا بھی ضروری ہو گا۔ اس کیلئے امریکہ طالبان مذاکرات کے تسلسل میں ان گروپوں کی رائے کی شمولیت بھی ضروری ہو گی۔ دوحا اور ماسکو مذاکرات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے سبھی اہم عناصر امن کے خواہاں ہیں۔ رہی کابل حکومت کی بات تو اس پر طالبان کو جو مذاکرات کا اہم ترین فریق ہیں اعتراض یہ ہے کہ وہ افغانستان کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اور امریکہ کی محض کٹھ پتلی ہے اسلئے اسے فریق شمار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایسے اشارات بھی ملے ہیں کہ آئندہ مذاکرات میں اس گروپ کی نمائندگی بھی ممکن ہو سکے گی۔

زلمے خلیل زاد اور امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے افغان امن مذاکرات ممکن بنانے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔جنرل ووٹل نے کہا ہے کہ امن معاہدہ میں پاکستان کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئندہ جولائی تک جب کابل حکومت کی جانب سے عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے حتمی معاہدہ کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مذاکرات کو تمام معاملات طے ہونے تک جاری رہنا چاہیے اور کسی مقررہ تاریخ کو ہدف کے طور پر اختیار کرنے کو معاملات طے کرنے پر ترجیح دینا مناسب نہیں ہو گا۔ اگر خیال یہ ہے کہ جولائی میںہونے والے انتخابات میں طالبان بھی حصہ لیں تو انہیں اس پر یہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے کہ طالبان کیونکہ کابل حکومت کو جائز شمار نہیںکرتے اور نہ وہ اس آئین کو تسلیم کرتے ہیں جس کے تحت کابل حکومت قائم ہے۔ اس لیے جہاں تک پاکستان کے مفادات کا تعلق ہے وہ یہی ہو سکتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو 'دونوں ملکوں کی سرحد محفوظ ہو جائے' افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو اور افغان مہاجرین واپس اپنے وطن جائیں۔ لیکن افغانستان میں پائیدار امن محض کسی معاہدے پر دستخط کی تقریب سے قائم نہیں ہو سکتا خواہ اس پر تمام فریقین کے دستخط ہوں۔ زلمے خلیل زاد کی اس تفہیم سے اتفاق کرتے ہوئے کہ آج افغانستان میں سب فریق ایک دوسرے کو گنجائش دینے کیلئے تیار ہیں' یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ رضامندی افغانستان میں قیام امن کی خواہش کی بنا پر ہے اور قیام امن کی خواہش امن کے ثمرات کے حصول کی بنیاد پر ہے دیرپا امن کیلئے یہ ضروری ہے کہ کسی امن معاہدے کے ساتھ ہی افغانستان میں اس بربادی کے ازالے کی کوشش نظر آنی شروع ہو جائے جو گزشتہ اٹھارہ سالہ جنگ کے باعث ہوئی ہے۔ اس کیلئے افغانستان میں تعمیر و ترقی کا ایک ماسٹر پلان شروع کرنے کی ضرورت کو اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے جتنی کسی امن معاہدے پر دستخط کو۔ امریکہ کا ایک بار پھر افغانستان کو یکایک خیرباد کہنا ایک بار پھر وہی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جو ماضی کا ایک تلخ تجربہ ہے ۔ یہ ماسٹر پلان اقوام متحدہ کا مرتب کردہ ہونا چاہیے جس کی رضامندی سے افغانستان میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کی فوجیں آئیں اور اس کیلئے زیادہ تر فنڈز فراہم کرنا بھی انہی ملکوںکی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ افغانستان میں امن اسی صورت میں پائیدار ہو سکتا ہے جب امن کے ثمرات بھی افغان عوام تک اس کے اعلان کیساتھ ہی پہنچنا شروع ہو جائیں۔ افغانستان میں قومی فوج کا ازسرِ نو تشکیل دیا جانا ضروری ہونا چاہیے جس میںموجودہ لشکریوں کے علاوہ دوسرے گروپوں کے لوگ بھی شامل ہوں۔ افغانستان میں امن قائم رکھنے کے ذمہ داروں کے بارے میں بھی یہی پالیسی کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس کیساتھ تعمیر وترقی کا ایک ہمہ گیر پروگرام شروع ہوگا تو افغان عوام کو روزگار میسر آئیگا اور پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں ہجرت کرنے والے افغان وطن واپس آئینگے اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ تعمیر وترقی کے پروگرام کا عرصہ افغان عوام میں یک جہتی کو فروغ دیگا۔

متعلقہ خبریں