Daily Mashriq


نہ وقت مناسب ہے اور نہ طرز عمل

نہ وقت مناسب ہے اور نہ طرز عمل

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کیلئے17 جنوری سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہے جبکہ ا س طرح کی صورتحال میں امن وامان بر قرار رکھنے کی ذمہ داریاں بھی مشکل ہو جاتی ہیں اور عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا حکومت کے خاتمے کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اب ن لیگ کے برسر اقتدار رہنے کا جواز ختم ہوگیا ہے۔17 جنوری سے حکومت کے خاتمے کیلئے احتجاجی تحریک شروع کریں گے، ہمارے آگے سارے آپشنز کھلے ہیں اور ہمیں ان کی ظلم اور کرپشن کی سلطنت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک حکومت کے خاتمے تک نہیں رکے گی، یہ ماڈل ٹائون کے شہیدوں کے خون کا حساب بھی دیں گے، یہ لوٹ مار کا حساب بھی دیں گے، ن لیگ نے عقیدہ ختم نبوتؐ پر ڈاکہ زنی کی، اسے اس کا حساب بھی چکانا ہوگا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو اس ضمن میں دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے حمایت کی یقین دہانی تو کرا دی گئی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کا تادیر طاہرالقادری کا ساتھ دینے کے امکانات زیادہ نہیں اور خود طاہرالقادری کا میدان گرم کرکے اچانک مراجعت کی طبیعت بھی حائل ہوگی۔ بہرحال اس سب امکانات کے باوجود ان کی تحریک سے حکومت کیلئے پریشانی اور دباؤ کی کیفیت میں اضافہ فطری امر ہوگا۔ جہاں تک معاملے کی ٹھوس نوعیت اور امکانات کا تعلق ہے و ہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کیلئے حصول انصاف کا نعرہ ہے جو عدالتی راستہ اختیارکر کے ہی ممکن ہے، اسے حکومت گرانے کی تحریک کے طور پر اختیار کرنا کس حد تک درست یا غلط ہوگا یہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور اس کے حامی سیاسی جماعتوں پر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں اور کس حد تک جاتے ہیں۔ ہمارے تئیں اس ضمن میں سڑکوں پر نکلنا اس لئے موزوں نہیں کہ اس سے عدالتی معاملات متاثر ہوں گے اور اگر اس کا فیصلہ سڑکوں پر ہی کرنا ہے تو پھر عدالت سے انصاف کی توقع اور عدالت پر اعتماد کے معاملے کو کس تناظر میں دیکھا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں احتجاج اور عوامی دباؤ کا مظاہرہ غلط نہیں، دنیا میں تحریکیں چلانے اور ان کی کامیابیوں سے ہمکنار ہونا بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن جو مسئلہ عدالت سے حل ہونیوالا ہو اس کا فیصلہ سڑکوں پر ممکن نہیں اور جن ذمہ داروں کے نام لئے جا رہے ہیں اصولی طور پر انہی عناصر کو سزا کا مطالبہ ہونا چاہئے نہ کہ اسے سیاسی بساط کی ایک مطالبے کی صورت دی جائے اور اس سے سیاسی مفادات کے حصول کی سعی ہو۔ جن لوگوں کی جانیں اس واقعے میں چلی گئیں تھیں وہ لوگ بھی کسی واضح سیاسی مقصد کیلئے پولیس سے نہیں بھڑ گئے تھے بلکہ تجاوزات کیخلاف کارروائی کے موقع پر مبینہ طور پر دوطرفہ فائرنگ ہوئی تھی جس کے باعث قانونی طور پر بھی اس میں پیچیدگیاں ہیں جبکہ اس واقعے کی جس منصف سے عدالتی تحقیقات کرائی گئیں ان کی رپورٹ میں بھی کسی کا نام نہیں۔ اس صورتحال سے قطع نظر ڈاکٹر طاہرالقادری بضد ہیں کہ اب استعفیٰ مانگا نہیں زبردستی لیا جائے گا جو کہ مشکل ہونے کیساتھ ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ جہاں تک قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج کا معاملہ ہے اس کی نہ صرف گنجائش ہے بلکہ طاہرالقادری لاہور اور اسلام آباد میں اس تجربے سے گزر چکے ہیں اور اپنی تحاریک کو اپنے اعلان اور پروگرام کے تحت نتائج کے حصول میں کامیابی حاصل کرنے سے محروم رہے ہیں، اگر اس مرتبہ بھی وہ پرامن طور پر ایسی تحریک یا دھرنا کا راستہ چنتے ہیں تو پھر حکومت کی حکمت عملی ڈھیل والی ہی ہوگی، اس مرتبہ فیض آباد دھرنا ختم کرنے کے حکم دینے کا عدالت سے بھی اعادہ شاید ہی ہو، ڈاکٹر طاہرالقادری اگر سول نافرمانی اور ہنگامہ آرائی کا راستہ چنتے ہیں تو پھر ان کا حکومت سے براہ راست تصادم ہوگا جس کے نہ وہ خود متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی اب تک کی جدوجہد کا نمایاں پہلو ان کے اپنے آرام کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے شرکاء سے قربانی کی وصولی ہے جس کی تازہ صورتحال میں گنجائش کم ہی نظر آتا ہے۔ ایک غیر ملکی شہری ہونے کے ناتے بھی ان کی مجبوریاں اور معاملات سے صرف نظر ممکن نہیں، بہرحال کامیابی وناکامی اپنی جگہ اور حکمت عملی جو بھی اختیار کی جائے ملکی سیاسی جماعتوں کو بیرونی دنیا سے پاکستان کے معاملات اور اندرون ملک ایک ایسے وقت میں حکومت گرانے کی کوشش کے طور پر ہنگامہ آرائی وانتشار کی کیفیت پیدا کرنا جب حکومت خود سے مقررہ وقت پورا کر کے سبکدوش ہونے جا رہی ہو کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہ ہوگا اور اس فیصلے کو عوام کی تائید وحمایت کا حاصل ہونا بھی سوالیہ نشان ہوگا۔ بہرحال تحریک چلانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن اس وقت ملک جس صورتحال سے دوچار ہے اس کے تناظر میں اتنی گزارش کی جا سکتی ہے کہ یہ تحریک ملک میں کسی انتشار کی صورت اختیار کر کے ملک کی مشکلات میں اضافہ کا باعث نہ بنے۔

متعلقہ خبریں