Daily Mashriq

افغان مہاجرین کی واپسی میں مزید تاخیر نہ کی جائے

افغان مہاجرین کی واپسی میں مزید تاخیر نہ کی جائے

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مجلس شوریٰ کے ممبران نے پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اور عذر پیش کی ہے اس پر ان سے ہمدردی کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان سے اتفاق اسلئے ممکن نہیں کہ افغان مہاجرین کو وطن واپسی اور کاروبار سمیٹنے کی دی گئی یہ پہلی ڈیڈلائن نہیں، دوم یہ کہ کسی کو ان کے اپنے گھر اور ملک واپس جانے کیلئے ڈیڈلائن دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مہمان ازخود اس کا تعین کرتا ہے۔ یہاں چالیس سالوں کی میزبانی ہوئی اور اب بھی اصرار ہو رہا ہے کہ مزید کچھ عرصہ چاہئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک نسل جوان ہو کر عمر ڈھلنے کی منزل پر آگئی مزید کتنا عرصہ درکار ہے۔ پاکستانی حکومت اور عوام دونوں ہی اب اپنے مہاجرین بھائیوں کی وطن واپسی کیلئے پوری طرح خواہاں ہیں تاکہ وہ واپس جاکر اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ جہاں تک افغانستان واپسی کے بعد ان کو بسانے کے انتظامات کا سوال ہے تو کیا پاکستان آتے وقت ان کو یقین تھا کہ ان کو یہاں اپنے شہریوں جتنی سہولیات میسر آئیں گی۔ ان کو اپنے ملک واپس جانے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور واپسی کی راہ لینی چاہئے۔ جہاں تک ان کے کاروبار سمیٹنے کا تعلق ہے اس کیلئے ان کو بہتر مواقع دیئے گئے مگر چونکہ افغان تجار واپسی کے خواہاں ہی نہیں اسلئے وہ ہر بار کسی نہ کسی طرح توسیع کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر اس مرتبہ صورتحال مختلف ہے، افغان کاروباری عناصر کو اس ضمن میں پاکستان سے مطالبات کرنے کی بجائے اپنی حکومت اور اتحادی ملک امریکہ سے مطالبات کرنے کی ضرورت ہے جو ان کی واپسی اور بسائے جانے کے انتظامات کے ذمہ دارہیں۔ پاکستان کو مقررہ ڈیڈلائن میں کسی قسم کی توسیع نہیں کرنی چاہئے اور افغان تجار کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وطن واپسی کا فیصلہ کریں۔

باعث صد افسوس واقعہ

مردان میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں سے ایک ہفتے کے دوران زچگی کیلئے لائی جانیوالی دوسری خاتون کو واپس بھجوانا اور راستے میں بچوں کی پیدائش کے بعد اب ہسپتال کی پوری انتظامیہ اور شعبہ امراض زنانہ کے پورے عملے کو تبدیل کرنا اور ذمہ دار عناصر کو سزا دینا لازم ٹھہرتا ہے۔ اسے غیر ذمہ داری کی انتہا قرار دیا جائے یا پھر نااہلی کی انتہا، اسے جو بھی نام دیا جائے بڑا ہی شرمناک اور افسوسناک واقعہ ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہاں عورتیں ہی عورت دشمنی کی ذمہ دارہیں۔ کسی گائنی وارڈ سے کسی مریضہ کا مطمئن رخصت ہونا کم ہی سنا گیا ہے جس کی وجہ تریاہٹ قسم کے معاملات اور شکایات ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ خیبر ٹیچنگ اور لیڈی ریڈنگ جیسے بڑے تدریسی ہسپتالوں میں خواتین پروفیسر وں کی چپقلش کے باعث وارڈ ’’اے‘‘ کی مریضہ کو وارڈ ’’بی‘‘ کا عملہ ہاتھ بھی نہیں لگاتا خواہ وہ سیڑھیوں پر بچہ جنم دے یا کوئی اور حادثہ ہو جائے اس صورتحال سے ہسپتالوں کی انتظامیہ بھی تنگ آچکی ہوتی ہے مگر ان کے پاس کوئی متبادل راستہ نہ ہونے کے باعث خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے بلکہ آخر کب تک اس طرح کی صورتحال جاری رہے گی کہ ہسپتالوں کے موجود ہونے کے باوجود زچگیاں راستوں اور برآمدوں میں ہوتی رہیں گی۔ مردان میڈیکل کمپلیکس میں مختصر مدت کے دوران اپنی نوعیت کے اس دوسرے واقعے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ ناکام ہو چکی ہے جبکہ شعبہ امراض نسواں پر ہٹ دھرم اور نااہل عناصر کا قبضہ ہے۔ صحت کا انصاف دینے کے دعویداروں کو اب تو خواب غفلت سے جاگ جانا چاہئے اور کوئی ایسا ٹھوس فیصلہ کرنا چاہئے کہ باقی ہسپتالوں کا عملہ بھی عبرت پکڑے۔

بدترین ٹریفک جام اور پولیس کی مکمل ناکامی

پیر کے روز ٹریفک جام کی جو صورتحال شہر میں دیکھی گئی اور ٹریفک پولیس کی جس طرح کی بدترین ناکامی سامنے آئی اس کا نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک پولیس کے اعلیٰ ترین سطح کے افسران کو فوری طور پر صوبہ بدر کرنے کی عوامی خواہش کا احترام کیا جانا چاہئے اور کارخانوں مارکیٹ میں تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا جاناچاہئے جنہوں نے ٹریفک کی صورتحال سنگین ہونے کے باوجود درجنوں ٹرالروں اور ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی جس کے باعث پشتہ خرہ چوک تک ٹرالروں کی قطاریں لگ گئیں اور مرکزی مقام پر ٹریفک کی بندش کے باعث پورے شہر کا ٹریفک متاثر ہوگیا۔ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کا موقع سے بے بس ہو کر فرار ہونے سے بھی صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائے اور صورتحال کے ذمہ دار تمام عناصر کو بلا امتیاز سزا دی جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس غفلت کا اعلیٰ ترین سطح پر سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اور لوگوں کو اپنے ہی شہر میں قیدی بننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں