Daily Mashriq

سیاسی کارکنوں کے کلچر کے خاتمے سے ہوا نقصان

سیاسی کارکنوں کے کلچر کے خاتمے سے ہوا نقصان

سوال تو بنتا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے مارشل لاؤں کی تاریک راہوں میں مارے گئے زمین زادوں کے پسماندگان اور زندہ بچنے والے بدحال جمہوریت پرستوں کیلئے ان کی اُن جماعتوں نے کیا کیا جن کے پلیٹ فارموں سے انہوں نے جدوجہد کی؟۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ یہ سوال کس سے کریں؟۔ ہماری (جمہوریت پسندوں کی) بدقسمتی یہ ہے کہ سڑکیں زمین زادوں کے لہو سے رنگین ہوئیں، حوالاتیں اور جیلیں ہی نہیں بدنام زمانہ تفتیشی بوچڑ خانے بھی ان فرزانوں کے دم سے آباد ہوئے۔ ان کی قربانیوں کے بدلے میں حکومتیں پانے والوں نے اپنے کارکنوں کیلئے کیا کیا اور کیوں سیاسی کارکنوں کی جگہ ٹھیکیداری نظام نے لے لی۔ ان سوالوں پر جب کہیں بات ہوتی ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دو دن اُدھر نوجوان ترقی پسند اور سماج سدھار کارکن کاشف حسین نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کر کے بحث چھیڑ دی۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ میڈیا سٹڈی کے پہلے سال میں زیرتعلیم میری صاحبزادی مجھ سے اکثر سوال کرتی ہے۔ ’’بابا جانی! جس جمہوریت، سماجی انصاف، معاشی مساوات اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے آ پ نے زندگی کے5 سال جیلوں اور عقوبت خانوں میں بسر کئے اور عذاب بھگتے، وہ جمہوریت، سماجی انصاف، معاشی مساوات اور اظہار رائے کی آزادی والی نعمتیں ہماری نسل کو کیوں نہیں ملیں؟۔‘‘ ہر بار بھیگی آنکھوں کیساتھ اپنی صاحبزادی کو سمجھاتا ہوں کہ ’’جان پدر، ہماری نسل کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے سماج میں طبقاتی شعور پروان نہ چڑھا پائے۔ سماج میں نظریات کی یاوری کی بجائے اندھی شخصیت پروان چڑھی اور شدت پسندی کو بڑھاوا ریاست کی سرپرستی میں ملا، نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے پاس جمہوریت، آزادی اور مساوات کا وہ نور نہیں ہے جس سے اگلی نسل کو راہ دکھا سکیں‘‘۔ سچ یہی ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور انصاف ومساوات کیخلاف ریاست، بالادست طبقات اور مذہبی قوتوں میں ہمیشہ اتحاد رہا۔ رعایا کو عوام بنتا کوئی نہیں دیکھ سکتا کہ عوام کے تو حقوق ہوتے ہیں، وہ بولتے بھی ہیں۔ رعایا تو غلامی کے ہر حال پر ’’شاکر وصابر‘‘ ہوتی ہے کیونکہ شکر اور صبر میں بڑی جزا ہے۔ یہ بھی بجا ہے کہ پاک وہند کے اس پورے خطے میں خاندانوں کی اجارہ داری صدیوں سے نہیں ہزاریوں سے ہے۔ کچھ خاندانوں نے تو اس قیادت وسیادت کو برقرار رکھنے کیلئے عملی جدوجہد کی اور قربانیاں بھی دیں مگر زیادہ تر خاندان چڑھتے سورج کے پجاری تھے اور ہیں۔ چڑھتے سورج کے پجاری خاندانوں کو سماج کے ان لوٹوں سے سب سے زیادہ بیر رہا جنہیں عرف عام میں سیاسی کارکن کہا جاتا ہے۔ یہ کارکن دراصل اپنے سیاسی شعور کی بنا پر بات کرتے ہیں۔ جنرل ضیاء کے مارشل لاء کا دور ہو یا بعد کی چار لولی لنگڑی حکومتیں1977 سے 1999کے درمیان بائیس سالوں میں بالادست خاندانوں نے ریاستی وسائل کے بل بوتے پر سیاسی کارکنوں کی جگہ ٹھیکیداری سسٹم کو متعارف کروایا، سیاست کو کاروبار بنانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ جب سیاسی عمل میں شرکت کیلئے نظریئے کی جگہ پیسے کو اہمیت حاصل ہوگی تو نالی موری کے ٹھیکیدار آگے آتے جائیں گے اور سیاسی کارکن جو عمومی طور پر سماج کے نچلے طبقات سے ہوتے ہیں روزمرہ کے حالات سے تنگ آکر دو میں سے ایک راستہ اپنائیں گے، نالی موری کے ٹھیکیدار اور بھتہ بردار بنیں یا پھر سیاسی عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ نظریاتی طور پر کمزور لوگوں نے وہی کیا جو بالادست چاہتے تھے یعنی حالات کے دھارے پر چل نکلے اور باشعور سیاسی کارکنوں نے کچھ عرصہ تو مزاحمت کی لیکن پھر حالات کی ستم ظریفی نے انہیں توڑ کر رکھ دیا۔ آج کے سیاسی منظر نامے کو دیکھ لیجئے، اکا دکا پرانی نسل کے سیاسی کارکن کہیں کسی جماعت میں دکھائی دینگے کیونکہ عام شہری سطح کے پارٹی عہدے کیلئے بھی جس سماجی حیثیت کو معیار بنا لیا گیا ہے اس میں نظریاتی کارکن تو فٹ ہی نہیں ہو پاتا۔ بالادست طبقات کی سازشوں کو سیاسی جماعتیں ناکام بنا سکتی تھیں اگر وہ جماعتی سطح پر کارکنوں کی تربیت کیلئے ادارے قائم کرتیں۔ کیوں نہیں کئے تربیتی ادارے قائم؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر نظریات کی جگہ مالک خاندان کی وفاداری نے لے لی۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر سے سیاسی کارکنوں کا کلچر پروان چڑھے؟ یہی بنیادی نوعیت کا سوال ہے کیونکہ سیاسی کارکنان معاملات کو اندھی تقلید کی بجائے شعور کی روشنی میں دیکھتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کا کلچر پھر سے متعارف ہو اور پروان چڑھے اس کیلئے دوکاموں کی فوری ضرورت ہے، اولاً سیاسی جماعتیں اپنے منشور کی پابند ہوں مالک خاندانوں کی نہیں۔ سیاست کو سماج سدھاری اور اصلاحات کا ذریعہ بنایا جائے کاروبار کا نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر کارکن سازی کے ادارے قائم ہوں۔ اے این پی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف اگر واقعتاً سنجیدہ ہیں سماجی ومعاشی مساوات وانصاف کیلئے تو پھر ان جماعتوں کو شخصیات کے سحر سے نکال کر نظریاتی بنیادوں پر منظم کرنا ہوگا۔ ثانیاً یہ چاروں جماعتیں یہ وعدہ کریں کہ مستقبل میں اقتدار ملنے کی صورت میں ایسے ادارے قائم کر یں گی جو سیاسی کارکنوں کو باعزت روزگار کمانے میں معاونت کریں۔ ماضی کی جمہوری تحریکوں میں جان ومال کی قربانیاں دینے والوں کے خاندانوں کی مستقل کفالت کا بندوبست کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نصاب ہائے تعلیم کو ازسرنو دیکھا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جمہوریت کی بحالی کیلئے جان قربان کرنے والوں کا تعارف اور جمہوری نظام کے حقیقی ثمرات کے ابواب شامل کئے جائیں تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ ان سے پچھلی نسلوں نے ان کیلئے کیا قربانیاں دیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہو پائے گا؟۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو عوامی جمہوریت کی منزل مزید دور ہوتی چلی جائے گی۔

متعلقہ خبریں