Daily Mashriq

تھر میں موت کے سائے

تھر میں موت کے سائے

آ ج کل پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ چیئرمین تحریک انصاف عمران کی مبینہ تیسری شادی بنا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان کا اتنا بڑا مسئلہ بن چکا ہے کہ اس مسئلے تلے پٹرول کی گرانی، گیس کی نایابی جیسے سنجیدہ ملکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت ترین ٹوئٹس جیسے عالمی مسائل دب کر رہ گئے ہیں۔ میڈیا ہو کہ سوشل میڈیا، بس اسی مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری وساری ہیں۔ اس میں اب عمران خان کی کرشماتی شخصیت کو دوش دیا جائے یا میڈیا کی سستی ریٹنگ کے حصول کو کوسا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں خان صاحب کی تیسری شادی کی معلومات زیادہ عزیز ہیں، چاہے وہ سچ ہوں یا جھوٹ۔ حالانکہ آج کے اخبار ہی کی خبر ہے کہ تھرپارکر میں غذائی قلت کی وجہ سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ بدانتظامی کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ رواں مالی سال میں اموات کی تعداد 13ہو چکی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے مارچ 2014 میں تھر کی ایسی ہی حالت پر اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا تھا، افسوس کہ چار برس بیتنے کو ہیں لیکن موت کو اب بھی تھر سے بھگایا نہیں جا سکا۔ تھر کا موسم بڑا عجیب ہے۔ بارش کے بادل یہاں آنے سے کتراتے ہیں۔ یہاں کی زمین اسی بارش کی محتاج ہوتی ہے۔ یہاں کی حیات کو یوں بھی زندگی سے لڑنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مال مویشی، جانور تو قدرت کی ستم ظریفی کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں چرند اور پرند کے بعد اب انسانوں پر بھی غذائی قلت کے اثرات سامنے آئے ہیں۔ ان مشکلات کا سب سے پہلا شکار بچے بنے ہیں، اللہ جانے اب تک کتنے بچے انتقال کر چکے ہیں اور اللہ ہی جانے کہ یہ تعداد کہاں تک پہنچے گی۔ کتنے بچے عہد طفولیت ہی میں اپنا سفر ختم کر دیں گے۔ ان بچوں کو تو معلوم ہی نہیں کہ زندگی کتنی خوبصورت ہے۔ ان کی آنکھوں نے تو بس لق ودق صحرا ہی دیکھا ہے۔ میٹرو بس کی سواری انہوں نے کی نہ کراچی کی روشنیاں دیکھ پائے۔ خیبر کے یخ بستہ پہاڑوں کے حسن سے وہ بچے ناواقف ہی رہے۔ پیٹ بھی عجیب ہے۔ ایسی اس کی آگ کہ بجھتی ہی نہیں۔ صبح شام اس کو ایندھن چاہئے کہ یہی پیٹ کی بھٹی زندگی کی گاڑی کو چلاتی ہے۔ میکڈونلڈ، پیزاہٹ اور کے ایف سی(فاسٹ فوڈز) کی غیر ملکی چینز کے کھانوں کی لذتوں سے ناآشنا تھر کے یہ لوگ جن کیلئے دانہ گندم ہی زندگی کی حرارت ہے، مل جائے تو زندگی نہ ملے تو موت۔ دانہ دانہ زندگی اور دانہ دانہ موت۔ اربوں کھربوں کے بجٹ ہر سال بنتے ہیں۔ اسلحے خریدے جاتے ہیں۔ سڑکوں، پلوں، ڈیموں کیلئے پیسے مختص کئے جاتے ہیں لیکن انسان کی زندگی تو دانہ گندم کی محتاج ہے۔ اس کی فکر کسی کو لاحق نہیں ہے۔ کروڑوں روپے سندھ فیسٹول پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں۔ اجرک ڈے منا لیا جاتا ہے مگر ادھر تھر کے ریگستان میں دانہ دانہ کی محتاجی کی فکر کسی کو بھی لاحق نہ رہی۔ موت تو یوں بھی ہمارے ہاں سب سے ارزاں جنس ہے۔ ہم جو تقسیم ہوچکے ہیں، ہر علاقے کا اپنا نصیب۔ کہیں بم دھماکے تو کہیں قحط سالی۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پاکستان کہاں ہے اور اس وقت کیا کر رہا ہے۔ کیا تھر آفت زدہ نہیں، اگر نہیں تو پھر آفت کیا اور کیسی ہوتی ہے۔ چار برس پہلے بھی اسی ادارے کے سربراہ نے فرمایا تھا کہ صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے۔ ساٹھ ستر، سو پچاس بچوں کا مر جانا یقیناً بقول ان کے ’’صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنی کہ بتائی جا رہی ہے‘‘ صورتحال بالکل بھی خطرناک نہیں ہے بس صرف لاکھوں انسانوں کی زندگی مسلسل قحط سے سخت خطرے میں ہے۔ علاقے کے اڑھائی لاکھ انسانوں کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ مویشی گائیں، بھیڑیں، بکریاں، اونٹ، گھوڑے، مرغیاں اور جنگلی حیات میں جانوروں اور پرندوں کی بہت سی نایاب اقسام کے ناپید ہو جانے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ علاقے سے ہزاروں خاندان اپنی زندگی بچانے کیلئے صوبے کے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ علاقے کی جنگلی حیات جس میں مور، ہرن، چکور اور طوطے وغیرہ شامل ہیں، مسلسل خشک سالی کی وجہ سے شدید خطرے میں ہے۔ اگر واقعی یہ بحران اتنا خطرناک نہیں ہے تو پھر اس پر کنٹرول بھی آسان ہونا چاہئے۔ ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ہر نیا دن ایک نئی مصیبت لئے ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ بہت سی بری باتوں کی ہمیں پیشگی اطلاع ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس خطرے کو ٹالنے کی بجائے اس کی آمد کا انتظار کرتے ہیں کہ جب وہ ہونی ہو جائے تب اس کا تدارک ہو لیکن کیا کیا جائے۔ ہمیں قوم ہی نہیں بننے دیا گیا کہ قوم کی مثال تو ایک بدن کی سی ہوتی ہے کہ ایک اندام تکلیف میں ہو توسارے بدن کو پریشانی لاحق ہوجائے۔ تھر تو بس ایک ریگستان ہے جہاں نہ سبزہ ہے نہ ہی فصل۔ وہاں زندگی تلف بھی ہو جائے تو کسی کو کیا پرواہ۔ بے حسی کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے ایک علاقے میں موت گدھ کی طرح لاشوں کو نوچ رہی ہے مگر کسی لیڈر کا کوئی بیان تک سامنے نہیں آیا۔ تھر سے تو روہنگیا والے خوش قسمت تھے کہ اس پر بیانات تو صادر ہوجاتے تھے۔ ایسے موقع پر سوائے دعا کے اور کیا کہا بھی جا سکتا ہے کہ اللہ تھر کے بہن بھائیوں کی غیبی امداد فرما اور ہمیں ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

متعلقہ خبریں