Daily Mashriq


درس وتدریس اور طالب علموں کے مسائل

درس وتدریس اور طالب علموں کے مسائل

ایسے خطوط اور برقی پیغامات موصول ہوتی ہیں جس پر ہمدردی کے جذبات تو لبریز ہو جاتے ہیں، مراسلہ نگار سے عدم اتفاق کو بھی دل نہیں چاہتا مگر چونکہ معاملات قانون اور اصول وضوابط سے متعلق ہوتے ہیں اسلئے ان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ قارئین مجھے قانون کے اندھا ہونے کے محاورے کی حقیقی سمجھ اب آئی ہے کہ کسی سے آپ کی ہمدردی بھی ہو لیکن اس کی گنجائش سرکار کے قانون میں موجود نہ ہونے کی بناء پر آپ اس کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

ہم طلباء نے ایف ایس سی سرجیکل ٹیکنالوجی پشاور بورڈ سے کی ہے اب ہم مزید تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن یونیورسٹی والے (ایف ایس سی پری میڈیکل) کی ایکولینسی مانگتے ہیں۔ بورڈ والے ایکولینسی دینے سے انکاری ہیں۔ بورڈ والوں کا کہنا ہے کہ یہ (ایف ایس سی میڈیکل فیکلٹی) کے برابر ہے، آپ اس پر سرجیکل ٹیکنیشن کے طور پر جاب کر سکتے ہیں، لیکن جب ہم جاب کیلئے اپلائی کرتے ہیں تو ہسپتال والے کہتے ہیں کہ آپ اس کے اہل نہیں ہیں، صرف فیکلٹی ڈپلومہ والے اس کے اہل ہیں حالانکہ سرجیکل ٹیکنالوجی اور فیکلٹی کا کورس ایک جیسا ہے، سائل نے خود دو مرتبہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں جاب کیلئے اپلائی کی ہے لیکن انہوں نے سائل کی (ایف ایس سی سرجیکل ٹیکنالوجی) کو ریجیکٹ کیا، استفسار پر ایڈمن ڈائریکٹر ظفر آفریدی (کے ٹی ایچ) نے زبانی بتایا کہ آپ اس سرٹیفیکیٹ سے جاب کے اہل نہیں، اسلئے آپ کو کال لیٹر نہیں بھیجا گیا۔ ایف ایس سی سرجیکل ٹیکنالوجی پر نہ ہم مزید پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی جاب کے اہل ہوں گے، تو ہمارے مستقبل کا کیا بنے گا؟۔ اس کے بعد جب ڈی جی ہیلتھ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کے واقعی آپ حق پر ہیں مگر یہ میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے لہٰذا آپ عدالت سے رجوع کریں جبکہ ہم جیسے غریب طلباء عدالتوں کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ اب آپ سے اُمید رکھتے ہیں کہ آپ ہمارے اس مسئلے کو اُجاگر کریں۔

کرک سے صدیق خٹک لکھتے ہیں کہ ایک کالم ان کام چور اساتذہ کے بارے میں بھی لکھا جائے جو بچوں سے گپ شپ میں پیرئڈ گزار دیتے ہیں۔ میرے خیال میں اساتذہ کرام کیلئے کام چور کا لفظ مناسب نہیں ان کا ادب واحترام ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے، جہاں تک اساتذہ کرام کے اس کردار وعمل کا تعلق ہے یہی وہ بنیادی دراڑ ہے جس کے باعث ہمارے سرکاری سکولوں کا معیار اُٹھ نہیں پاتا اور وطن عزیز میں تعلیمی ترقی ممکن نہیں ہو پارہی۔ جو لوگ بچوں کو پڑھانے جیسے مقدس فریضے سے روگردانی کرنیوالے ہوں ان کا تلاش روزگار اور حصول روزگار کیلئے تعلیم کے شعبے میں آنا بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ شعبہ تعلیم میں ایسے لوگوں کو آنا چاہئے جو محنتی اور قوم کے بچوں کیلئے دل میں درد رکھتے ہوں، کاش ایسا ہو جائے مگر عملی طور پر ایسا کرنے کا کوئی طریقہ اور ذریعہ نہیں، ہر اُمیدوار چہرے پر معصومیت لاکر ہی انٹرویو میں بیٹھتا ہے مگر شاید اب ایسا اسلئے ضروری نہیں کہ اسامیاں پہلے سے پُر ہوتی ہیں باقی کارروائی رسمی ہی پوری کی جاتی ہیں۔

ہیڈ ماسٹر غلام سردار کو شکایت ہے کہ وہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گریڈ سترہ میں بھرتی ہوئے تو ان کی تقرری کرک کے سرحدی علاقے میں کر دی گئی جو میانوالی سے قریب ہے اب جبکہ وہ ٹینیور مکمل کر چکے اور ان کے قریبی علاقے میں ہیڈ ماسٹر کی پوسٹ خالی ہوئی تو تحریک انصاف کے ایم پی اے ملک قاسم کی سفارش پر کسی اور کی تقرری کر دی گئی۔ پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں میرٹ کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس انتظامی اختیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، پھر بھی ایسا محکمے کی صوابدید پر ہونا چاہئے نہ کہ کوئی ممبر صوبائی اسمبلی اس کا فیصلہ کرے، بہرحال انہوں نے بھی سیاست کرنی ہوتی ہے تو ایسا ہی چلتا ہے۔ محکمہ تعلیم میں میرٹ کی پاسداری کے دعویداروں کو اپنے ممبران اسمبلی کو کم ازکم سرکاری امور میں مداخلت سے باز رکھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے تاکہ اس قسم کی شکایات سامنے نہ آئیں۔

عرفان اللہ نے تخت بھائی مردان سے بہت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے مفصل برقی پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامیہ کالج، ایڈورڈز کالج اور گورنمنٹ کالج اور اسی طرح کے دوسرے سرکاری کالجز کے پروفیسرز ولیکچرر صاحبان ٹیوشن سنٹرز میں جتنی محنت سے پڑھاتے ہیں اور طالب علموں پر جتنی توجہ دیتے ہیں یہی توجہ اور محنت وہ اپنے کالجوں میں سرکار کی معقول تنخواہ حلال کرنے کیلئے کیوں نہیں کرتے۔ یہ لوگ ٹیوشن سنٹرز میں چھ ماہ کا کورس دو ماہ میں مفصل طور پر پڑھاتے ہیں صرف اسلئے کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کمائی کر سکیں۔ اگر ان ٹیوشن سنٹرز کو بند کرنا ممکن نہیں تو سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو یہاں پڑھا نے سے روک دیا جائے تاکہ علم کو کاروبار بنانے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔ نوجوان طالب علم کا سوال حقیقت میں وزن رکھتا ہے۔ میرے خیال میں اساتذہ کو فارغ وقت میں اضافی محنت سے روکنا مناسب نہ ہوگا، البتہ ان اساتذہ کے سرکاری کالجوں اور ٹیوشن سنٹرز میں پڑھانے کے طریقہ کار کا موازنہ کرنے کے بعد ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ جس مضمون کو آپ نے سرکاری کالج میں اتنا وقت لگا کر پڑھایا اور سمجھایا ہے تو پھر ٹیوشن سنٹر میں اس کے برخلاف کیوں کیا، اگر ان کے دونوں جگہوں پر لیکچرز میں زیادہ فرق نہ ہو تو پھر گنجائش ہونی چاہئے اور اگر حاضری وقت اور معیار پر سمجھوتہ ثابت ہو تو ایسے اساتذہ پر ٹیوشن مراکز میں پڑھانے پر پابندی لگا دینی چاہئے۔

نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی شکایات 03379750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔ اسکے علاو ہ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے پتے پر بھجوا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی آراء اور جوابی وضاحت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔

متعلقہ خبریں