Daily Mashriq


رسم و رہ دنیا

رسم و رہ دنیا

، نام ہے خانہ آبادی کا، لیکن جس شادی کی قیمت سعودی ریال، امریکن ڈالر اور ڈھیر سارے موبائیلز لٹوا کر ادا کی جائے اسے ہم خانہ آبادی کہیں یا خانہ بربادی، سر دست اس کا فیصلہ ہمارے بس کا روگ نہیں۔ ہم تو رحیم یار خان میںہونے والی اس قسم کی شادی کا چرچا پڑھ کر انگلیوں کو دانتوں تلے دبا بیٹھے

خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے

ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

بیاہ شادی یا خوشی کے موقع پر آپے سے باہر ہونا ایک پرانی روایت ہے۔ دھن دولت والے شادی کی خوشیوں کے ہنگاموں کو دوآتشہ بنانے کی غرض سے اپنی دھن دولت کے بل پر کرائے پر ملتی حوا کی بیٹیوں کو منگوا کر ان کا مجرا برپا کروا دیتے ہیں اور یوں ان پر کرنسی نوٹوں کی بارش کرنے کی جانے کب سے جاری رسم ادا کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں شادی بیاہ کی تقریب میں اسلحہ کی نمائش اور جانے اس قسم کی کتنی قباحتوں کو چشم حیرت سے دیکھ کر یادوں کی گٹھڑی میں باندھا۔ ہمیں وہ بھی یاد ہیں جب دولہا میاں کو گھوڑی پر سوار کیا جاتا اور اس کے سر پر قمقمے لگا تاج سجایا جاتا، اور بینڈ باجے والے

دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا

امڑی دے دل دا سہارا نی ویر میرا گھوڑی چڑھیا

کی دھن بجاتے اور شادی کی خوشیاں منانے والے دولہا کی گھوڑی کے آگے ناچ ناچ کر اسے اپنی دوستی کا خراج پیش کرتے۔ اس دوران چڑھاوے دینے والے کرنسی نوٹ نچھاور کرنے لگتے۔ ان رسم ورواج کی باقیات اب بھی جاری ہیں لیکن ان میں نمایاں طور پر کمی ہوگئی ہے۔ تاہم ولیمہ کی دعوت میں شریک ہونے والے جہاں دلہا کو تحفہ دینے کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہاں کرنسی نوٹوں سے گوندھا ہوا کینٹھہ اسکے گلے میں ضرور پہناتے ہیں۔ پشاور کے علاوہ یہ سب کچھ پاکستان کے اور شہروں میں بھی ہوتا ہوگا؟ اس کا ہمیں علم نہیں۔ لیکن دیس ہزارے پھولوں کے کھارے کے مرکزی شہر میں یہ سب کچھ ہوتا نہ دیکھ کر دل کو قدرے تسلی ہوئی۔ ہوا یوں کہ دسمبر2017 کے رخصت ہونے سے چند دن پہلے کلام مجید فرقان حمید کے پہلے ہندکو مترجم بابائے چاربیتہ اور متعدد کتابوں کے مصنف راجہ حیدر زمان حیدر نے اپنے نواسے راجہ عبدالوہاب کے ولیمہ میں شرکت کرنے کی دعوت دی اور میں اپنی بڑھیا رانی، داماد اور بیٹی کو لیکر ایبٹ آباد کے اس شادی ہال میں پہنچ گیا جہاں سرمئی رنگ کے تھری پیس انگریزی سوٹ میں ملبوس راجہ عبدالوہاب اور اس کے بھائی بند شادی ہال کے دروازے پر میری فیملی کی آمد کا سن کر استقبال کیلئے آن کھڑے ہوئے تھے۔ جب ہم پہنچے تو شادی ہال میں میزبانوں کے سوا کوئی بھی نہیں تھا لیکن پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پورا شادی ہال مہمانوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ میں نے نوٹ کیا کہ ولیمہ کی دعوت میں آنیوالوں میں سے کوئی ایک بھی کرنسی نوٹ، پھولوں یا سلمے ستارے کا کینٹھہ نہ لایا۔ وہ سب شادی ہال میں جمع ہونے کے بعد دلہا میاں کی آمد کا انتظار کرنے لگے اور پھر میں نے دلہا میاں کو اپنے سنگی ساتھیوں کے ہمراہ نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ قطار اندر قطار لگی ٹیبلوں کے گرد بیٹھے مہمانوں سے باری باری مل کر ان کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتا رہا۔ اول تا آخر جب سب مہمانوں سے ملاقات کر چکا تو شادی ہال انتظامیہ نے ہر میز پر کھانا لگانا شروع کر دیا اور یوں مہمانان گرامی اہتمام کام ودہن میں مگن ہوگئے۔ اس دوران مجھے کم وبیش بیس سال پہلے ایبٹ آباد کے بانڈہ بھگواڑیاں میں شاعر، ادیب اور راجہ حیدر زمان حیدر کے جواں مرگ لخت جگر راجہ منیر حیدرکی دعوت ولیمہ یاد آگئی جس میں شرکت کیلئے پشاور کے چند نامور قلم کار دوست بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے پشاوری رسم کے مطابق کرنسی نوٹوں کا قد آدم کینٹھہ بنوایا اور اسے لیکر حیدر زمان حیدر کے پرمنظر گاؤں بانڈہ بھگواڑیاں ایبٹ آباد میں پہنچ گئے۔ راجہ منیر حیدر پشاور سے لائے گئے کرنسی نوٹوں بھرے اس اکلوتے کینٹھے کو گلے میں لٹکائے دعوت ولیمہ میں آنیوالے ہر مہمان کا خندہ پیشانی سے استقبال کر رہا تھا۔ ایسے میں ایک منا سا بچہ دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور اپنے دوست شہساز علی کے متعلق پوچھنے لگا کہ انکل آپ کا بیٹا شہساز علی کیوں نہیں آیا آپ کیساتھ۔ یاد نہیں میں نے اسے کیا جواب دیا تھا۔آج یہی منا سا بچہ گبرو جوان بن کر کویت سے عرب دوشیزہ کو بیاہ کر لایا ہے، اس نے آج بھی مجھ سے پہلا سوال شہساز علی کے بارے میں کیا، لیکن میں اسے نہیں بتا سکا کہ وہ ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتا ہے اور دوم یہ کہ وہ تم سے بہت پہلے ازدواج کی زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے۔ راجہ عبدالوہاب کے دعوت ولیمہ کے دوران زیڈ آئی اطہر کی کمی محسوس ہوئی اور ان کے یاد آتے ہی ہمیں بانڈہ بھگواڑیاں ایبٹ آباد کی وہ شادی بھی یاد آگئی جہاں ہم دونوں چاربیتہ سننے کے شوق میں پہنچے تھے۔ غالباً ستر کی دہائی کی بات ہوگی جب ہمیں اس دولہا کے درشن نصیب ہوئے تھے جو اپنے سر پر دلہنوں جیسا گھونگھٹ ڈالے، مہندی لگے ہاتھوں سے گھونگھٹ کا پلو تھامے اپنا چہرہ چھپا رہا تھا۔

ہمیں ماتھے پہ بوسا دو کہ ہم کوجگنووں کے تتلیوں کے دیس جانا ہے

کتنی مہذب دعوت ولیمہ تھی راجہ حیدر زمان حیدر کے نواسے راجہ عبدالوہاب کی، کتنی عجیب شادیاں ہوتی ہیں قائداعظم کی تصویر چھپے کرنسی نوٹوں کو نچھاور کرنیوالی پرہنگام شادیوں کی، اور کیا نام دیں ہم اس شادی کو جس میں ڈالر، ریال اور موبائلوں کی بارش کی گئی ۔

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

متعلقہ خبریں