Daily Mashriq


وزیراعلیٰ کے دورے کے موقع پر دعوے کی عملی نفی

وزیراعلیٰ کے دورے کے موقع پر دعوے کی عملی نفی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا اچانک دورہ اس بناء پر خوشگوار نہ تھا کہ ہسپتال میں عوام کو توقعات کے مطابق علاج کی سہولیات نہیں مل رہی تھیں جس کا دعویٰ حکومت کرتی آئی ہے۔ ان دعوئوں کا پول کھلنے پروزیراعلیٰ کی برہمی فطری امر تھا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور غیر حاضر ڈاکٹر اور دیگر عملے کو فوری طور پر برطرف کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعظم عمران خان کا پمز ہسپتال کا اچانک دورہ اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آمد کو اس بناء پر خوش آئند امر نہیں قرار دیا جاسکتا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اگر دیگر اہم ذمہ داریوں پر توجہ دینے کی بجائے ایک ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیویا ایم ایس کی سطح کے کاموں پر توجہ دینے لگیں تو باقی کاموں کا کیا بنے گا لیکن دوسری جانب ایسا کر کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے صورتحال کا بچشم خود جائزہ لیکر صحت کے شعبے میں حکومتی کارکردگی کی جو جانچ کی ہے اس سے وہ حقیقت حال سے خوب باخبر ہوتے ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایچ ایم سی کے دورے کے موقع پر ڈاکٹروں اور عملے کی غیر حاضری کا جو مسئلہ سامنے آیا یہ پورے صوبے کے ہسپتالوں کا مسئلہ ہے بلکہ اس سے زیادہ سنگین مسائل ہیں جب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جیسے صوبے کے تیسرے بڑے تدریسی ہسپتال جو صوبائی دارالحکومت کے ایک بہتر رہائشی علاقے میں واقع ہے ہی۔یہاں کا انتظام وانصرام کا عالم یہ ہوگا تو کسی دور دراز علاقے کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور بی ایچ یوز کا کیا عالم ہوگا۔

کیا یہ ہے نیا پاکستان؟

پروٹوکول شکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیلئے یہ خبر کسی اطمینان کا باعث نہ ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں وی وی آئی پی سیکورٹی کے حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور پہلے نمبر پر ہیں جن کی سیکورٹی پر مجموعی طو رپر 111پولیس اہلکار تعینات ہیں ۔گورنر پنجاب کی ذاتی رہائشگاہ پر دو جبکہ گورنر ہائوس میں 109 پولیس اہلکار تعینات ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر کیلئے کل چار اہلکار تعینات ہیں جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ذاتی گھر پر ایک اہلکار ہے ۔ اسی طرح وفاقی وزرا ء شفقت محمود اور محمود سلطان کے ذاتی گھروں پر دو ،دو اہلکار تعینات ہیں ۔ صوبائی وزرا کے گھروں پر بھی دو ،دو پولیس اہلکار تعینات ہیں۔صوبائی خزانے سے تنخواہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی سرکاری کے علاوہ ذاتی گھر وں پر تعیناتی کسی طور بھی تحریک انصاف کی پالیسی کے مطابق نہیں اور یہ ان دعوئوں کی عملی نفی ہے جس کا دعویٰ یہ جماعت کرتی آئی ہے ۔گورنر پنجاب اب بھی لاٹ صاحب ہی کے برابر بلکہ اس سے زیادہ کے لائولشکر رکھتے ہیں کیا بچت اور سادگی اس طرح اختیار کی جاتی ہے ۔ اب تو گورنر ہائوس لاہور کے رقبے کے سکڑنے کی امید بھی ختم ہوگئی ہے اور تنقید کرنے والوں نے احتراز کی بجائے اپنے ہی دعوئوں کی نفی شروع کردی ہے۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان۔قول و فعل کا یہ تضاد ہی تو ہے جو قوم کی ہر کس و ناکس کی امیدوں کے خون کا باعث بن رہا ہے۔ عوام کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو تحریک انصاف سے جو توقعات تھیں اور ا ن کو اس امر کا یقین تھا وہ نوجوان جوجذباتی حد تک تحریک انصاف کے دیوانے تھے یہی وہ نوجوان تھے جو تبدیلی کے خواہاں بھی تھے اور پر عزم بھی۔ جب محولہ قسم کے حالات اُن کے سامنے آئیں گے تو اُن کی مایوسی کا کیا عالم ہوگا اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ وی آئی پی پروٹوکول میں کمی کے دعوئوں کی جو نفی پنجاب میں سامنے آئی ہے اس پر تحریک انصاف کی قیادت کو سوچنا چاہیئے اور وزیراعظم عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے ۔

حیات آباد میں گھپ اندھیرا

حیات آباد فیز 6سیکٹر ایف نائن کی سٹریٹ لائٹس مکمل طور پر منقطع کرنے سے علاقے میں گھپ اندھیرا ہونے پر مکینوں کے احتجاج کا سخت نوٹس لیا جانا چاہیئے۔ علاقے میں بہت پہلے ہی سے ہر گلی میں ایک ہی سٹریٹ لائٹ لگتی تھی اور لوگوں کومشکلات کا سامنا تھا لیکن اس پر اکتفانہ کرتے ہوئے سٹریٹ لائٹس کا مکمل انقطاع سمجھ سے بالاتر ہے۔ پی ڈی اے اگرسٹریٹ لائٹس کے انتظام کے بھی قابل نہیں تو پھر صوبائی حکومت کو اس خدمت کیلئے کسی دوسرے ادارے کو مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔حیات آباد کے ایک سیکٹر میں سٹریٹ لائٹس کی بندش سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سردیوں میں جب بجلی بچانے کیلئے شہریوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے تو گرمیوں میں نجانے کیا ہوگا؟۔

متعلقہ خبریں