Daily Mashriq

قانونی اصلاحات اور ریاست کی ذمہ داری

قانونی اصلاحات اور ریاست کی ذمہ داری

ایک ٹی وی پروگرام میں نہایت اہم سوال اُٹھایا گیا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد متعدد ٹاسک فورسز اور کمیٹیاں حکومت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات تجویز کرنے کے لیے تیار کی تھیں لیکن ساڑھے چار مہینے گزرنے کے باوجود یہ معلوم نہیںہو سکا کہ ان ٹاسک فورسز اور کمیٹیوں نے کیا سفارشات پیش کی ہیں ۔ اگر کی ہیں تو یہ کس مرحلے پر ہیں ‘ ان پر بحث کب ہو گی اور ان پر عمل درآمد کب ہو گا۔ اسی پروگرام میں ایک صحافی نے ان ٹاسک فورسز کے بارے میں اپنی معلومات کے کم ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے البتہ یہ بتایا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں قانونی اصلاحات میں سفارشات مرتب کرنے کے لیے جو ٹاسک فورس بنائی گئی تھی اس نے اپنا کام مکمل کیا ہے اور جو مسودہ ہائے قانون مرتب کیے ہیں وہ قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ اس اعتراف کے بعد کہ یہ معلومات نامکمل ہیں یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کن قوانین کے بارے میں سفارشات مرتب ہو چکی ہیں اور مسودہ ہائے قانون تیار ہو چکے ہیں اور کب یہ مسودے قومی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ مسودہ ہائے قانون تیار ہو گئے ہیں تو ابھی تک ایسی کوئی خبر نہیں آئی کہ یہ کابینہ کو بھی پیش کیے جا چکے ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا ہو چکا ہوتا تو میڈیا اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ چونکہ یہ خبر آ چکی ہے کہ قانونی اصلاحات کے بارے میں تجاویز مرتب ہو چکی ہیں اس لیے اس موضوع پر بات ہونی چاہیے۔ قانونی اصلاحات کی ضرورت بہت عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ دسمبر 2014ء میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر جو نیشنل ایکشن پلان منظور کیا تھا اس میں بھی کریمنل جسٹس سسٹم یعنی فوجداری مقدمات کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور اسے بہتر بنانا شامل تھا۔ ایسے بیانات حکومت کی طرف سے آئے ہیں کہ دیوانی مقدمات کو بھی جلد فیصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے ابھی تک قانونی اصلاحات پر مامور کمیٹی کی سفارشات منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان ٹاسک فورسز کو فعال تر کیا جائے گا تاکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ایجنڈے کا یہ پہلو واضح ہو اور اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر آئے۔ قانونی اصلاحات کی کمیٹی کے سامنے فوجداری مقدمات کا عدالتی نظام یقینا ہو گا کیوں کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کا بھی حصہ ہے لہٰذا سفارشات منظر عام پر آنے سے پہلے اس موضوع پر بات کی جا سکتی ہے۔ فیصلے عدالتیں کرتی ہیں لیکن یہ فیصلے مروجہ قانون ‘ گواہوں‘ شہادتوں اور دلائل کی روشنی میں کیے جاتے ہیں اور تحریر کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی عدالت میں قانون کے اطلاق کے حوالے سے کوئی ضعف ہو تو اس سے بڑی عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ تاہم فوجداری مقدمات میں ضمانت کے ضابطوں اور قوانین پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔عدالتیں گواہوں ‘ واقعاتی اور دستاویزی شہادتوں اور وکلاء کے دلائل پر انحصار کرتی ہیں۔ یعنی کسی مقدمے کے انجام تک پہنچنے میں ریاست کے اہل کاروں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ کردار جرم کی رپورٹ درج کرنے سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بالعموم ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے پولیس تفتیش کرتی ہے اس کا مقصد غالباً جھوٹی اطلاعات کا انسداد ہے۔ جھوٹی شکایت درج کرانا جرم ہے لیکن اس حوالے سے مقدمات کی تعداد کچھ زیادہ نظر نہیں آتی۔ شکایت درج نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس طرح تھانے کو مقررہ عرصے کے بعد یہ رپورٹ دینی ہوتی ہے کہ کتنی شکایات درج ہوئیں اور ان پر کیا کارروائی کی گئی۔ لہٰذا شکایات کی تعداد کم رکھنے کے لیے بھی ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس تاخیر سے ملزم پارٹی کو تھانے کے حکام سے رسائی حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تفتیش اور ایف آئی آر میں اگر کمزوری رہ جائے تو یہ فیصلے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تفتیش اور ایف آئی آر کے اندراج کے ذمہ دارا اہل کاروں کے انتخاب کے معیار کو بہتر بنانا ضروری ہونا چاہیے۔ گواہوں کا انتخاب اور دستاویزی شہادتوں کا پیش کیا جانا اپنی جگہ اہم ہے۔ گواہوںکا پیش نہ کرنا اور ان کا منحرف ہو جانا بھی مقدمے کو متاثر کرتا ہے اس کی سزا قانون میںموجود ہے تاہم اس کی سزا کڑی ہونا ضروری ہونا چاہیے اور الزام ثابت کرنا آسان ہونا ضروری ہے ۔فوجداری جرائم کی صورت میں وکیل استغاثہ کا کردار اہم ہوتا ہے۔ وہ اگر کمزوری دکھائے تو فیصلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ وکلائے صفائی لمبی تاریخیںلیتے رہتے ہیں اس رویے کا کوئی تدارک ہونا چاہیے اور وکلاء کی تنظیموں کا اس حوالے سے تعاون حاصل کیا جاناچاہیے۔ عدالتیں انہی دلائل اور شواہد کی روشنی میں فیصلے کرتی ہیں جو ان کے سامنے پیش کیے جائیں۔ یہ بات باعث حیرت ہونی چاہیے کہ مقدمہ درج ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ملزم عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو تے ہیں۔ بعض ملزم کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میںبند رہنے کے بعد بری ہو جاتے ہیں۔ یعنی انصاف ناکام ہوتا ہے یا انصاف کے نام پر کسی کا حق آزادی سلب ہو جاتا ہے۔ انصاف کی اس ناکامی کی ذمہ داری ریاست کے اہل کاروں پر یعنی ریاست پر عائد ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کی جان‘ مال اور آبرو کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ کم از کم فوجداری مقدمات میں تفتیش میں کمزور ی‘ ایف آئی آر میں سقم ‘ دستاویزات میں تحریف اور شواہد میں تبدیلی‘ دلائل میں ضعف مقدمہ کے دورانیہ میں تاخیر قابلِ مواخذہ ہونے چاہئیں۔ ریاست انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوتی ہے اور سزا مظلوم کے مظلوم رہنے کی صورت میں اسے ملتی ہے۔ مظلوم کے نقصان کے ازالے کی ذمہ دار ریاست ہونی چاہیے۔ جب کوئی فیصلہ بڑی عدالت میں غلط ثابت ہو جاتا ہے تو پہلی عدالت کے منصف کو کیوں قابلِ مواخذہ نہ سمجھا جائے۔ جب کوئی مقدمہ ناکام ہو جاتا ہے تو مقدمہ کے مختلف مراحل میں ملوث اہل کار اور گواہ کیوں قابل مواخذہ نہ سمجھے جائیں۔ اس مواخذہ کے لیے قانون اور ضوابط مؤثر ہونے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں