Daily Mashriq

وہ منتظر ہی رہا دوسرے کنارے پر

وہ منتظر ہی رہا دوسرے کنارے پر

کیا پشاور لندن بننے جارہا ہے ؟کیا اس شہر کے دوٹکڑے ہونے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ؟ بقول ہمارے ایک بزرگ’’مقصدمنزل‘‘ تک پہنچنے کیلئے ہم اپنے لڑکپن کے دور میں سنا ہوا لطیفہ آپ تک پہنچانے کیلئے اسے آپ کے گوش گزار کردوں؟کیونکہ وہ لطیفہ سنے بغیر وہ مسئلہ آپ کی سمجھ میں آہی نہیں سکتا جس کی نشاندہی ضروری ہے۔تولطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار ہم جیسے کچھ سادہ بندے انگلینڈ گئے ، ہوٹل میں ٹھہرے، تھکان اتارکر نیچے سڑک پر آئے اور سیر سپاٹا کرنے لگے۔فٹ پاتھ پر دوسرے لوگوں کی طرح بازار کے ایک کونے سے دوسرے سرے تک بڑی بڑی بلڈنگوں میں قائم بڑے بڑے سٹورز کا نظارہ کرتے رہے یعنی وہ جو ونڈو شاپنگ کہلاتی ہے ، شوکیسوں میں پڑی اشیاء کوحیرت سے تکتے رہے،اور ایک آدھ پیالی چائے بھی سڑک کنارے ریسٹورنٹ میں پی کر واپس آگئے۔ یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا، پھرانہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اب سڑک کی دوسری جانب جاکر وہاں کی سیر کی جائے ، بے چارے شہر کے آداب سے زیادہ واقف بھی نہیں تھے ، اور تیز رفتار ٹریفک کو دیکھ کر سڑک پار کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی، جبکہ ہوٹل کے سامنے دوسری جانب بھی انہیں چند افراد کھڑے دکھائی دیتے جو انہی کی طرح سامنے والی فٹ پاتھ پر کھڑے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے، ان کا تعلق بھی’’دیسی‘‘ گھرانوں سے تھا اس لئے انہوں نے سامنے والوں کو اونچی آواز میں پکارکر اپنی جانب متوجہ کیا اور پوچھا،آپ لوگ سڑک کے اس طرف کیسے گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، ہم توسڑک کی اس جانب نہیں گئے بلکہ ہم تو پیدا ہی یہاں ہوئے ہیں، گویا بقول عزیز اعجاز

میں پل نہ باندھ سکا پانیوں کے دھارے پر

وہ منتظر ہی رہا دوسرے کنارے پر

کوئی ہمارے خدشات تو دور کرے کہ یہ جو بی آرٹی کا منصوبہ ہے اس کی تکمیل کے بعد کیا اہل پشاور بھی دوٹکڑوں میں تقسیم ہونے جارہے ہیں؟یعنی جو اس منصوبے کیلئے تعمیر کی جانے والی سڑک کے ایک جانب ہیں اور جو دوسری جانب،یہ مستقل اپنی ہی اطراف رہنے پر مجبور کر دیئے جائیں گے یا انہیں سڑک کے ایک جانب سے دوسری جانب جانے کیلئے کہیں کوئی راستہ مل جائے گا!صورتحال یہ ہے کہ ابتداء میں یوٹرن نہ ہونے پر انہی کالموں میں گزارشات کرنے پر توجہ دیکر منصوبے میں تبدیلی کردی گئی اورجہاں یوٹرن بند کر دیئے گئے تھے وہاں دوبارہ تعمیر کرنے کا اہتمام کیا گیا ، مگر جیسے جیسے یہ منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے پیدل سڑک پار کرنے والوں کیلئے کہیں کوئی’’روزن‘‘ دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ وہ جو کئی ایک مقامات پر یا تو انڈر گرائونڈ راستے تعمیر کئے گئے تھے اس منصوبے کی وجہ سے وہ بھی توڑ کر منصوبے کا حصہ بنا دیئے گئے ہیں اور خاص طور پر ان زیر زمین راستوں میں قائم دکانیں بھی ختم کر دی گئیں اور جو بے چارے دکاندار لاکھوں کا سرمایہ لگا کر وہاں کاروبار کررہے تھے انہیں اگرچہ متبادل جگہیں فراہم کرنے کی یقین دہانی تو کرائی گئی تھی مگر اب وہ کس حال میں ہیں کچھ معلوم نہیں ،اسی طرح جہاں جہاںاوور ہیڈ پل بنا کر پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرنے کی سہولت دی گئی تھی وہ بھی توڑ دیئے گئے ہیں ، حالانکہ ہماری دانست میں انہیں توڑنے کا کوئی جواز نہیں تھا کہ نیچے سے سڑک کی تعمیر میں اوورہیڈ پل کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کر رہے تھے، اب صورتحال یہ ہے کہ منصوبے میں نئی نئی اور بار بار تبدیلیوں سے جو شکل ابھر رہی ہے اس سے تو پتہ نہیں چلتا کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو سڑک پار کرنے والوں کیلئے کوئی راستہ موجودہوگا۔ ممکن ہے کہ منصوبہ سازوں نے یہ سوچا ہو کہ جہاں جہاں سٹاپ بنیں گے ، وہاںلوگوں کو بسوں پر چڑھنے اترنے والوں کیلئے جو اوورہیڈپل تعمیر کئے جارہے ہیں انہیں سے عام لوگ بھی استفادہ کریں گے مگر یہ سٹیشنزاتنے فاصلے پر ہیں کہ صرف انہیں علاقوں کے لوگ تو فائدے میں رہیں گے جبکہ دیگر حصوں کے لوگوں کو ان سٹیشنز تک جانے اوروہاں سے اپنے علاقوں تک آنے جانے کیلئے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا، اور جہاں یوٹرن بنائے جارہے ہیں ان پر عام ٹریفک کا اس قدر رش ہوگا کہ پیدل چلنے والوں کو سوبار سوچ کر اس بے ہنگم ٹریفک کے سمندر میں اترنے کی جرات ہوسکے گی کیونکہ پیچھے سے آنے والی ٹریفک کے بہائو میں کئی قسم کے خطرات موجود ہوں گے اور گاڑیوں میں سوار ڈرائیور تو پیدل سڑک کراس کرنے والوں کو سرے سے انسان ہی نہیں سمجھتے اس لئے ہر روز حادثات کے خطرات سر پر منڈلاتے رہیں گے ، اسی لئے یا تو منصوبہ ساز اس بات کی وضاحت کردیں کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد سڑک کو پار کرنے والوں کیلئے کیا بندوبست کیا جارہا ہے ، آیا ان کیلئے مختلف جگہوںپر ایک بار پھر اوورہیڈپل بنائے جائیں گے یا پھر انہیں’’اللہ‘‘کے سپرد کر کے چین کی بانسری بجانا شروع کردیں گے۔ اگر ایسی صورتحال ہوگی تو شہر کے لوگ ابھی سے اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور دوست احباب کو خدا حافظ کہنے کی تیاری کرلیں کیونکہ اس کے بعد تو جو جس طرف پیدا ہوگا وہیں کا باشندہ بن کر رہنے پر مجبور ہوگا۔ جیسے کہ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں امریکہ اور روس نے جرمنی کے دو ٹکڑے کر کے دیوار برلن تعمیر کردی تھی ،مگریہاں تو ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے البتہ شہر کی’’تقسیم‘‘ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، جس کا واحدعلاج رکشوں، ٹیکسیوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے حصے میں داخل ہونا ہی قرار دیا جائے گا۔

بیٹھے ہیں سب سکون سے کہتا نہیں کوئی

کیسا یہ شور ہے پس دیوار دیکھنا

متعلقہ خبریں