Daily Mashriq


نیب قوانین‘ حکومت اور حزب اختلاف کے تحفظات

نیب قوانین‘ حکومت اور حزب اختلاف کے تحفظات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نیب کا ہیلی کاپٹر کیس وزیر اعظم اور پاکستان کے سسٹم کی توہین ہے اس کیس پر پوری دنیا ہنس رہی ہے۔ نیب کو یہ کیس ختم کردینا چاہئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف نیب کیسز کو حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا اپوزیشن رہنمائوں نے اپنے ادوار میں بے دردی سے ملکی خزانہ لوٹا۔ اس پروگرام میں شریک سابق وزیر اطلاعات مریم اور نگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس الزامات کی تکرار کے سوا کچھ نہیں نیب قوانین میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہو اور یہ تاثر ختم کہ نیب انتقامی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی گفتگو اور موقف میں اس بنیادی سوال کو نظر انداز کردیا کہ کیا کسی جماعت کے سربراہ کو حکومتی منصب نہ رکھنے کے باوجود حکومتی وسائل استعمال کرنے کا حق ہے۔ ثانیاً یہ کہ تحریک انصاف نے وزیر اعظم‘ وزیر دفاع اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے خلاف نیب میں موجود مقدمات کو عدالتی عمل کے ذریعے مکمل کروانے میں وفاق میں اقتدار سنبھالنے سے قبل دلچسپی کیوں نہ لی؟ ہو سکتا ہے حکومتی اکابرین کے خلاف مقدمات میں جھول ہوں نیب اپنا موقف ثابت نہ کرپائے مگر کیا کوئی مقدمہ محض اس لئے توہین قرار دیا جائے گا کہ جن کے خلاف تحقیقات جاری ہے وہ اہم حکومتی مناسب پر فائز ہیں۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جناب وزیر اعظم نیب میں جاری تفتیش مکمل ہونے کا انتظار کرتے یا پھر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرتے کہ نیب کیس سے ان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے عدلیہ اپنی نگرانی میں تحقیقات مکمل کروالے۔ کمیشن ‘ اقربا پروری‘ اختیارات سے تجاوز اور حکومتی وسائل کو غیر حکومتی لوگوں کا استعمال کرنا حیران کن ہر گز نہیں۔ ان الزامات یا مقدمات کی آزادانہ تحقیقات سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔ نیب کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے ان دنوں نون لیگ کے رہنما اٹھتے بیٹھتے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ نیب قوانین کے یکطرفہ استعمال پر کوئی قدغن نہیں یہ ادارہ حکومتی خواہش پر حزب اختلاف کو نشانہ بناتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2008ء میں بر سراقتدار آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے نیب قوانین میں اصلاحات کے ساتھ اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے حوالے سے مسودہ قانون پر اس وقت کی پارلیمان میں موجود جماعتوں سے مشاورت کے عمل کا آغاز کیا تھا یہ سلسلہ ناکام اس لئے ہوا کہ نون لیگ کے رہنما کہتے تھے حکومت احتساب کے عمل کو روندنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی بعض ایسے اداروں تک احتساب کا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہے جو ملکی سلامتی کے ضامن ہیں۔ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں بھی نون لیگ نے نیب لاء میں ترامیم کی تجاویز کو حقارت کے ساتھ مسترد کیا اب لیگی رہنما نیب قوانین کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے نہیں تھکتے۔ بلا شبہ نیب قوانین میں اصلاحات ہونی چاہئیں بنیادی شہری حقوق اور نظام انصاف سے متصادم قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مختلف ٹی وی پروگراموں میں تینوں بڑی پارلیمانی جماعتوں کے اکابرین اس امر پر اتفاق بھی کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ تجاویز و ترامیم کے لئے پارلیمان سے رجوع کرنے اور عملی طور پر ذمہ داریاں پوری کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہئے اور نیب کے دائرہ کار کو بھی بڑھایا جانا ضروری ہے۔ کسی ادارے کا یہ موقف کہ ادارہ جاتی احتساب کے نظام کی موجودگی میں نیب کا دائرہ ان کے یا دوسرے اداروں تک بڑھانا ضرورت رہ جاتی ہے؟ کیا نیب کے قیام کے ساتھ ہی ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے محکموں کے کردار کو محدود نہیں کر دیا جانا چاہئے۔ ثالثاً یہ کہ کیا سیاستدانوں کے احتساب کے لئے پارلیمانی احتسابی کمیٹی قائم نہیں ہونی چاہئے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ احتساب کے لئے ضروری ہے کہ نیب قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے نیب کے سربراہ کی تقرری کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیشن قائم ہو اس کے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔قومی اسمبلی اور سینٹ کے مساوی ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیشن میں نیب کی سربراہی کے لئے نامزد فرد یا تجویز کردہ پینل کے ناموں پر تفصیلی غور اور مکالمے کے بعد اس ادارے کے سربراہ کی تقرری کی منظوری دے۔ جہاں تک وزیر اعظم اور ان کے بعض رفقاء کے خلاف نیب میں جاری تحقیقات پر وفاقی وزیر اطلاعات اور حکومتی رہنمائوں کے موقف کا تعلق ہے تو یہ موقف شخصی وفاداری سے عبارت ہے۔ انہیں تو فخر کے ساتھ یہ کہنا چاہئے کہ نیب وزیر اعظم ‘ وزیر دفاع‘ صوبائی وزیر اعلیٰ اور دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے حکومت نے برا منایا نہ مداخلت کی ہے۔ بار دیگر عرض ہے حکومتی رہنمائوں کو بعض امور پر گفتگو کرتے ہوئے یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ وہ اب اپوزیشن میں نہیں بلکہ حکومت میں ہیں محض الزامات کی بنیاد پر حکومتی رہنما اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں یا سندھ کے وزیر اعلیٰ کے حوالے سے جن خیالات اور مطالبات کی تکرار کرتے ہیں ان کے تناظر میں اپنے رہنمائوں سے ویسی توقع اور مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انصاف کی بالادستی اور بلا امتیاز احتساب کے نعروں پر اقتدار میں تحریک انصاف کی حکومت سے لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ اس کا دور دوسروں سے مختلف ہوگا۔ کیا حکومتی اکابرین اس توقع پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے یا محض الزام الزام کھیلتے رہیں گے؟۔

متعلقہ خبریں