Daily Mashriq


 ہماری سیاست، بازیچۂ اطفال

ہماری سیاست، بازیچۂ اطفال

ہم پاکستانی عوام بے چارے صبح وشام اپنے نامور سیاستدانوں کے شاندار بیانات وفرمودات سنتے رہتے ہیں۔ کیا حزب اقتدار اور کیا حزب اختلاف، سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے لگتے ہیں۔ عوام اس اُمید پر رات کو اپنا ہاتھ سرہانہ بنا کر سو جاتے ہیں کہ شاید آج صبح اُٹھیں تو کوئی خوشخبری دے کہ پٹرول وڈیزل سستا ہوگیا ہے اور اس کی ارزانی کے اثرات ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لیکر روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں لیکن جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ سو روپے والی دوائی حکومت کی انتظامی گرفت کی کمزوری کے باعث آٹھ سو اور ہزار روپے میں بکتی ہے اور زندگی کی گاڑی کو جوں توں کر کے کھینچنے کیلئے جس ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کی پہنچ سے روز بروز ناراض ہوتی دکھائی دیتی ہے تو ان پر مایوسی کی چادر اوڑھ جاتی ہے۔لوگوں نے خدا خدا کرکے گزشتہ دو حکومتوں سے تحریک انصاف کو تیسری قوت کے طور پر ووٹ دیا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ عمران خان کو پنجاب اور وفاق میں ایسی حکومتیں ملیں جو بہت گرگ باراں دیدہ اتحادیوں کے رحم وکرم پر بس چل ہی رہی ہیں اور دوسری طرف اگرچہ اپوزیشن متحد نہیں ہو سکی ہے لیکن اپنی اپنی جگہ پر بہت تلخ وتیز اپوزیشن جماعتوں سے واسطہ پڑا ہے۔ ان حالات کے سبب وہ تبدیلی جس کے وعدے پر موجودہ حکومت وجود میں آئی ہے، ابھی تک عوامی سطح پر نظر آنے میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام سی نظر آتی ہے۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان بذات خود دن رات ایک کرکے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ ملک کو اس معاشی دلدل سے نکالیں جو یار لوگوں کے ہاتھ بن چکا ہے۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست لگتی ہے کہ آخر کوئی تو بتائے کہ وطن عزیز اور عوام کے نام پر لئے گئے قرضے آخر کہاں گئے۔ وطن عزیز کے کس مقام پر لالہ زار گل وگلزار بنائے گئے ہیں اور اس بات میں آخر کیا قباحت ہے کہ ہمارے یہ نامدار سیاستدان بتا دیں کہ اندرون اور بیرون ملک ہماری جائیدادیں، پلازے، بلڈنگز، اکاؤنٹس، ان ذرائع سے ہیں، کسی کو شک ہے تو انگلی اُٹھائے۔لیکن یہاں تو عجیب صورتحال بلکہ ایک بازیچۂ اطفال سا بنا ہوا ہے کہ جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ حضور! یہ رکشوں اور کھوکھے والوں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کہاں سے اور کس طرح آئے؟ تو جواب میں عمران خان کا شجرہ نسب سننے کو ملتا ہے حالانکہ ان باتوں کا سیدھا سادہ جواب یہ ہونا چاہئے کہ اگر کسی کو ہماری کسی بات اور عمل پر اعتراض ہے تو عدالت عالیہ میں جائے لیکن ہمارا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دوسری طرف ہماری نیب بھی عجیب انداز رکھتی ہے۔ بغیر ٹھوس دلائل اور استغاثہ کے ہاتھ ڈال لیتی ہے اور احتساب عدالتوں میں مار کھاتی ہے۔ اس کے علاوہ نیب کی سب سے بڑی کمزوری یہ سامنے آئی ہے کہ یہ اپنے آپ کو حکومت سے بے لاگ طور پر الگ اور غیر جانبدار ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دیتی رہی ہے اور جس انداز میں اس کے بعض افسروں کے کرتوت سامنے آئے ہیں جس پر چیف جسٹس یہاں تک برہم نظر آئے ہیں کہ کیوں نہ نیب والوں کو ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کرنے کیلئے کہا جائے اور کئی بار یہ تنبیہہ کی ہے کہ لوگوں کی پگڑیاں نہ اُچھالی جائیں۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ بے لاگ احتساب اور بیرونی ممالک سے پاکستان کا چوری شدہ پیسہ واپس لانا عمران خان کا انتخابی نعرہ تھا اور گزشتہ حکومتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے احتساب کے مقدمات تحریک انصاف حکومت سے قبل نیب کے ہاں درج ہو چکے تھے اور نیب تحقیقات کر رہی تھی لیکن موجودہ حکومت میں اس کی رفتار میں تیزی اور چند رہنماؤں کا جیل میں جانا اور بعض کا ECL میں آنا ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بہت ناگوار گزرا ہے اور ان اقدامات نے ملک کی سیاست میں بہت تلخی پیدا کی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک نامی گرامی سیاستدان سندھ میں بلاوجہ جلسوں کے دوران مختلف روپ دھار کر حکومت اور ملکی اداروں کو دھمکانے پر اُتر آئے ہیں۔ سندھی پگ اور ٹوپی واجرک کے ذریعے سندھ کارڈ کے استعمال کے اشارے بھی دینے سے گریز نہیں کیا جاتا لیکن میرے خیال میں سندھ کارڈ یا پاکستان میں کوئی اور کارڈ کھیلنے کا وقت گزر چکا ہے۔اسلئے عمران خان اس وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نیب کو صحیح معنوں میں غیرجانبدار بنانے کیلئے ضروری اقدامات پارلیمنٹ کے ذریعے کرائیں اور ان سیاستدانوں کے معاملات جن پرکرپشن کے الزامات ہیں نیب کے حوالے کرکے اپنی بھرپور توجہ عوام کی فلاح وبہبود کے کاموں پر صرف کریں۔ عرب شیوخ، ترکی اور ملایشیا، چین اور روس کیساتھ تجارتی تعلقات کو خوب ترقی دیں تاکہ پاکستان جلد ازجلد اپنے معاشی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرلے، معیشت ٹھیک ہوجائے تو عوام خوشحال ہوکر اگلی دفعہ دو تہائی اکثریت کیساتھ تحریک انصاف کو جتوائیں گے لیکن عمران خان کو اپنی ٹیم پر نگاہ رکھنا ہوگی۔ تحریک انصاف کے اندر کی کہانی کوئی زیادہ خوشگوار نہیں۔

متعلقہ خبریں