Daily Mashriq


کشمیر میں داعش کچھ حقیقت کچھ افسانہ

کشمیر میں داعش کچھ حقیقت کچھ افسانہ

دنیا میں عالمی ایجنڈے کی حامل عسکری تحریکوں کوگزشتہ عشروں میں جس بے دردی سے کچل ڈالا گیا اس سے بھی زیادہ دردناک ان کی تباہی پر حاصل کی جانے والی داد وتحسین یا گہری خاموشی ہے ۔انہیں کچلنا چونکہ امن عالم اور بقائے انسانیت کے لئے ناگزیر بنا دیا تھا اسی لئے یہ عمل کسی آنکھ کواشکبار تو دور نمناک کرنے کا باعث نہ بنا ۔ایسی تحریکیں آندھی کی طرح اُٹھیں اور بگولوں کی طرح غائب ہوگئیں ۔القاعدہ سے داعش تک اس کہانی کے کئی کردار اور کئی نام ہیں ۔جن داخلی تحریکوں نے عالمی نظام سے مایوسی ،غصے اور شکوے شکایات کے باوجود خود کو ان تحریکوں سے بریکٹ ہونے سے بچایا وہ آج بھی اپنی قوت کے بل پر جار ی ہیں ۔فلسطین اور کشمیر کی مزاحمت کی تحریکیں اس لحاظ سے خوش قسمت ٹھہریں کہ گزشتہ دہائیوں میں گلوبل ایجنڈے کی حامل ان تنظیموں کی لہرمیں اپنے داخلی کردار کو بچانے میں کامیاب ہوئیں ۔کشمیر اول وآخر ایک سیاسی مزاحمت کی تحریک تھی جس کی بنیاد حق خودارادیت کا مسلمہ اصول تھا ۔القاعدہ کے عروج وزوال کے دور میں اس تنظیم نے خود کو کشمیر سے اور کشمیریوں نے خود کو القاعدہ سے پرہیز کی حد تک رکھا۔اُ سامہ بن لادن نے اپنے بیانات میں کشمیر پر بہت کم بلکہ نہ ہونے کی حد تک لب کشائی سے گریز کئے رکھا ۔اب القاعدہ کی جگہ گلوبل ایجنڈے کی علمبردار تنظیم داعش کا ظہور ہو امگر ماضی کے برعکس متعدد با ر وادی کی مزاحمت کے دروازے پر داعش کی دستک سنائی دیتی ہے ۔ماضی میں بھارتی ایجنسیاں داعش کی وادی میں موجودگی کا انکشاف بھی کرتی رہی ہیں اور پھر خود اس کے وجود اورموجودگی کی تردید بھی کرتی رہی ہیں جبکہ کشمیر کی حریت پسند سیاسی اور عسکری قیادت کا القاعدہ کے بعد اب داعش کے حوالے سے بھی یہ سخت موقف ہے کہ ان کی تحریک کا کوئی گلوبل ایجنڈا ہے اور اگر اس ایجنڈے کی حامل کوئی تنظیم وادی میں متعارف بھی ہوتی ہے تو اسے بھارتی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہوگی ۔احتجاجی مظاہروں میں داعش کے پرچم پراسرار انداز میں وقتاََفوقتاََلہرائے جاتے رہے ہیں مگر کچھ عرصہ قبل جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کے بعد چند نوجوان اچانک داخل ہوکر منبر پر چڑھ کر داعش کا سیاہ پرچم لہراتے پائے گئے۔ یہ نوجوان داعش کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔جامع مسجد کشمیر کی وہ تاریخی قدیمی مسجد ہے جس کا انتظام وانصرام صدیوں سے میرواعظ خاندان کے پاس ہے اور اس وقت حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اس مسجد کے نگران ہیں اور ہر جمعہ کو باقاعدہ اپنا خطبہ دیتے ہیں۔یہ مسجد سر ی نگر کے اس حصے میں واقع ہے جو تقسیم کے وقت شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں پاکستان کے حامیوں کا گڑھ سمجھا جا رہا ہے۔جامع مسجد کے ساتھ انجمن نصرۃ الاسلام کے زیر اہتمام کئی دینی ،اشاعتی ادارے بھی کا م کر رہے ہیں اور یہیں میرواعظ خاندان کی سیاسی تنظیم عوامی مجلس عمل کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے ۔اس مسجد کا کشمیر کی مزاحمت اور سیاست میں گہرا کردار ہے ۔مقامی اور بھارتی ہی نہیں بین الاقوامی میڈیا اس جامع مسجد کے اس کردار کو رپورٹ کرتا اور اس پر نظر رکھتا ہے ۔گزشتہ برس ایک امریکی اخبار نے جامع مسجد کے اس کردار کو ایک مضمون میں موضوع بحث بنایا تھا۔اب جامع مسجد کے منبر پر داعش کا پرچم لہرانا حالات کو ایک نئی نہج پر ڈالنے کے مترادف ہے ۔مشترکہ مزاحمتی فورس اورعسکری تنظیموں نے اس کوشش کو بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دے کر اس کی بھرپور مذمت کی حتیٰ کہ ان تنظیموں نے یوم تقدس جامع مسجد کے نام سے ایک دن بھی منایا۔ان کا خیال ہے بھارت کشمیریوں کی سیاسی اور مقامی مزاحمت میں گلوبل ایجنڈے کا اضافہ کرکے بین الاقوامی دنیا کے سامنے اس تحریک کو کچلنے کا جواز پیدا کر نا چاہتا ہے ۔کشمیر کے حالات سے دنیا لاتعلق سہی مگر نہتے نوجوانوں کا لہو کہیں نہ کہیں اورکسی نہ کسی فورم پر بھارت سے اپنا حساب طلب کررہا ہے۔بھارت کے پاس اٹھارہ ماہ کی بچی کو پیلٹ گن سے زخمی کرنے اور سولہ سالہ لڑکے کو گولیوں سے چھلنی کرنے کا کوئی جواب نہیں ہوتا ۔اب کشمیر کی تحریک کو دہشت گردی اور داعش جیسی سفاک تنظیموں سے جوڑ کر بھارت اپنے اقدامات کے لئے عذر اور بہانے تراش رہا ہے۔ اس کے لئے سیاسی تحریک کے مرکز جامع مسجد کو ایک سخت گیر گروہ کے زیر اثر ثابت کرنا ضروری ہے ۔کشمیر میں اس وقت ذاکر موسیٰ نامی نوجوان کو داعش سے متاثر ہ نوجوانوں کی علامت سمجھا جا تا ہے ۔ذاکر موسیٰ برہان وانی کے ساتھیوں میں شامل اور حزب المجاہدین کے اہم کمانڈر تھے مگر انہوںنے حریت کانفرنس کے خلاف بیان دے کر سخت گیر نظریات کا پرچار کرنا شروع کیا ۔تب سے ذاکر موسیٰ کشمیر میں داعش کی پہچان بن چکے ہیں۔گو کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی سرگرمیوں اور انسانیت سوز واقعات کے خلاف غم وغصہ عروج پر ہے اور نوجوان اس غصے کا اظہارعملی طورپر سر ہتھیلی پررکھ کر کر رہے ہیں اس کے باوجودذاکر موسیٰ قابل ذکر عسکری قوت مجتمع نہیں کر سکے جو کشمیرمیںپائے جانے والے گہرے سیاسی شعور کی غمازی کرتا ہے ۔کشمیری بھارت کے خلاف غم وغصے اور نفرت کے باوجود اسے اپنے پیمانے کی معین او رمتعین حدود سے چھلکنے نہیں دیتے یعنی وہ داعش جیسی تنظیموں کی جانب لڑھکنے سے گریز کئے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجودجنازوں میں داعش کے سیاہ پرچموں اور داعش کی حمایت میں بلند ہونے والے نعروں سے اس تنظیم کیلئے نوجوانوں کے محدود سے حلقے میں کشش کے رجحان کی عکاسی ہو رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں