Daily Mashriq

ایران امریکہ کشیدگی

ایران امریکہ کشیدگی

ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں ایران کا عراق میں امریکیوں کے زیراستعمال فوجی اڈوں پر جوابی میزائل حملوں کو امریکہ کی جانب سے سہہ جانے کے بعد مشرق وسطیٰ پر طاری جنگ کے منڈلاتے بادل اگرچہ چھٹے نہیں لیکن اطمینان کا باعث امر یہ ہے کہ جہاں ایک طرف ایران کی جانب سے جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے سے زائد کی کارروائی کا عندیہ نہیں دیا گیا وہاں امریکہ نے ایران کیخلاف کسی جوابی فوجی کارروائی کی بجائے پہلے سے جاری اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت بنانے پر اکتفا کیا۔ جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد شدید ردعمل کے پیش نظر امریکہ نے ایک مغربی ملک کی وساطت سے سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پیشکش کی تھی کہ وہ قتل کا بدلہ چکانے کی بقدر کارروائی سے زیادہ قدم نہ اُٹھائے جس کا واضح مطلب یہی تھا کہ ایران کو اپنے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے کارروائی کا موقع دیا جائے گا۔ جہاں تک امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کا سوال ہے، ایران اس قسم کی پابندیوں کا عرصے سے سامنا اور مقابلہ کرتا آیا ہے اور ایران آئندہ بھی ان کیلئے تیار د کھائی دیتا ہے۔ ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں نہ صرف عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا بلکہ ایران نے جوہری معاہدے کے خاتمے اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے پروگرام کے احیاء کا بھی اعلان کیا۔ ایرانی دھمکیوں سے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے ان ممالک جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں کو ایرانی ردعمل کا خطرہ تھا جس میں اب کمی دکھائی دیتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کشیدگی کو مزید نہ بڑھانے پر اتفاق کر چکے ہیں، ان حالات میں سفارتی کوششوں کی اہمیت اور ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو کشیدگی میں کمی لانے کیلئے متحارب ممالک کے دورے کی ہدایت کی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی اپنے طور پر سرگرم ہیں۔امریکی عہدیدار بھی اس مسئلے کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے برابر رابطے میں ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے ٹیلی فون کرکے مشرق وسطیٰ کی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، آرمی چیف نے فریقین کو مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیردفاع نے کہا کہ امریکہ تصادم نہیں چاہتا لیکن جواب ناگزیر ہوا تو امریکا بھرپور قوت سے جواب دے گا۔ آرمی چیف نے امریکی سیکریٹری دفاع سے کہا کہ ہم موجودہ کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں اور خطے میں قیام امن کیلئے اُٹھائے جانے والے ہر اقدام کی مکمل حمایت کریں گے۔ انہوں نے متعلقہ فریقین پر جذباتی فیصلوں کے بجائے سفارتی طریقہ کار اپنانے پر زور دیا۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے مشرق وسطیٰ میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو متحرک ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ایران، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کرنے اور متعلقہ ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کی ہدایت کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے انخلاء کی تیاری میں ہے ایسے میں ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ خود ان کے مفاد میں نہیں جبکہ ہر دو ممالک کیلئے پاکستان کی اہمیت ہے اس لئے کشیدگی میں کمی لانے اور دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی ذرائع کا استعمال فطری طور پر پاکستان کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ دیگر برادر اسلامی ممالک اور عالمی دنیا کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے منڈلاتے بادل اور اس کی دنیا کے معیشت واقتصاد پر اثرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں