Daily Mashriq

بدعنوان افسران کو پوری طرح بے نقاب کرنے کی ضرورت

بدعنوان افسران کو پوری طرح بے نقاب کرنے کی ضرورت

دوہزار پانچ سو پینتالیس افسروں کی بینظیر انکم سپورٹ سے ماہانہ وظیفہ لینے کی جو محکمانہ وار فہرست جاری ہوئی ہے وہ کافی نہیں ان کیخلاف تادیبی کارروائی اور رقم کی واپسی بعد کی بات ہے اس سے قبل ان سب کے ناموں کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جہاں ان کے چہرے بے نقاب ہوں وہاں آئندہ بیوروکریسی اس قسم کی بدترین بدعنوانی کا ارتکاب کرنے سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہو۔ چونکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفہ خواروں کی چھان بین کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی گئی اس لئے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئے وگرنہ سیلاب زدگان کی امداد سے لیکر زلزلہ زدگان کی امداد تک جس قدر بندر بانٹ ہوتی رہی ہے وہ بھی کوئی راز کی بات نہیں مگر مشکل امر یہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ اور حکومت اس کی تحقیقات نہیں کرتی۔ زلزلہ سے متاثر ہونے والوں کی فہرست میں امدادی رقوم ہڑپ کرنے والوں کا کھوج لگانا اگرمشکل کام ہے تو حکومت ان طالب علموں کی فہرست ہی چیک کروائے جو زلزلہ سے متاثرہ قرار دیکر بیرون ملک تعلیم کیلئے جانے کی سہولت سے مستفید ہوئے۔ تحقیقات کی جائیں تو یہ شرمناک حقیقت سامنے آئے گی کہ خیبر پختونخوا سے جانے والے طالب علموں کی اکثریت سرکاری افسران کے بچوں کی تھی جو اب آکر اچھے عہدوں پر فائز ہیں اور اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔ حال ہی میں معیاری تعلیمی اداروں میں داخلہ کیلئے سرکاری سکولوں کے ہونہار طلبہ کے ٹیسٹ کا جو اعلان کیا گیا ہے خاص طور پر جو پہلے اس کوٹہ سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں بھی حقدار طالب علم کم ہی ہوں گے۔ صرف یہی نہیں پسماندہ اضلاع کے کوٹے پر میڈیکل اور انجینئرنگ میں داخلہ لینے والوں کی بھی جعلسازی سامنے آئے گی۔ مگر تحقیقات کرے اور کروائے کون؟خیبر پختونخوا حکومت نے بدعنوانی اور مختلف معاملات میں ملوث افسران کو اہم اور حساس عہدوں سے ہٹانے کا جو فیصلہ کیا ہے اور تمام انتظامی محکموںکو مذکورہ قسم کے افسران کی فہرست مرتب کرنے کی جو ذمہ داری دی ہے جب یہ تحقیقات مکمل ہو جائیں تو چیف سیکرٹری خیبر پخونخوا اگر ان افسران کے ناموں اور ان کی غلط کاریوں کو عوام کے سامنے لائیں اور بدعنوان عناصر کی پردہ پوشی کی بجائے ان کو بے نقاب کرنے کا احسن اقدام کریں تو یہ ان کا اہم اقدام تصور ہوگا۔

پارکنگ' شہریوں اور انتظامیہ دونوں کا مسئلہ

جیل روڈ پر غیرقانونی کار پارکنگ کا ایک ایسے مقام پر ہونا جہاں عدالت عالیہ' جوڈیشل کمپلیکس اور قانون ساز اسمبلی کی عمارت ساتھ ساتھ ہوں، جہاں روزانہ صبح وشام اس صورتحال کو منصفین اور مقتدرین اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوں مگر اس کے باوجود صرف نظر کی جو کیفیت ہے ایسے میں توقع کس سے کی جائے اور دہائی کسے دی جائے سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیبر روڈ پر بھی سڑک کنارے گاڑی کھڑی کی جاتی ہیں جہاں اس مسئلے کی نشاندہی ضروری ہے وہاں یہ سوال بھی کم اہم نہیں کہ آخر اہم سرکاری دفاتر میں آنے والے لوگ اپنی گاڑیاں کہاں کھڑی کریں۔ ججوں کیلئے ہائیکورٹ کے اندر پارکنگ کا انتظام ہے، ڈپٹی کمشنر کی گاڑی ان کے دفتر کے احاطے میں کھڑی ہوسکتی ہے، صوبائی اسمبلی کے اندر اسمبلی سٹاف اور ممبران اسمبلی کیلئے پارکنگ کا وسیع انتظام ہے۔ عوام کیلئے حکومت کے انتظامات کی کیا صورتحال ہے اس کا اندازہ سڑکوں کنارے کھڑی گاڑیاں دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کیلئے یہ مسئلہ مستقل دردسر ہے۔ ایک ہی دن یونیورسٹی روڈ پر پارکنگ کیلئے مختص حصوں پر دکانیں قائم کرنے پر پینتیس دکانیں سیل کی گئیں۔ یونیورسٹی روڈ پر سروس روڈ موجود تھی تب بھی مسئلے کا باعث تھا اور اب بی آر ٹی کی نذر ہوگئی تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوا، البتہ کچھ عرصے سے یونیورسٹی روڈ پر انتظامی اقدامات کے تحت ٹریفک میں رکاوٹوں کا خاتمہ کرنے کی سنجیدہ سعی نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود بھی مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا جس کا تقاضا یہ ہے کہ اب یونیورسٹی روڈ کو مکمل طور پر نوپارکنگ زون قرار دیکر دکانوں کے سامنے متوازی اور سیدھی گاڑیوں کی پارکنگ مکمل طور پر ممنوع قرار دی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے تاکہ جگہ کی متلاشی گاڑیوں کے کھڑی ہونے اور ریورس کرکے ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کرنے کے عمل کا پوری طرح خاتمہ ہوسکے اور ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئے۔ جیل روڈ اور خیبر روڈ میں پارکنگ کی عدم موجودگی کا حل پارکنگ پلازہ قائم کرکے نکالا جائے، شہر میں بڑی سڑک پر براہ راست دکان بنانے کی آئندہ اجازت نہ دی جائے' تمام پلازوں میں پارکنگ کی سہولت کا خیال رکھا جائے اور جس مقصد کیلئے جو حصہ مختص ہو اسے کسی اور کام میں لانے کی بالکل بھی اجازت نہ دی جائے۔

عطائیت کی روک تھام کب ہوگی؟

پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تربیت یافتہ عملے کی عدم موجودگی اور بغیر رجسٹریشن کے نجی ہسپتالوں 'مراکز علاج اور لیبارٹریز کا چلنا قابل توجہ امر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ بھر میں اس طرح کے دھندے میں ملوث عناصر کیخلاف کبھی کبھار کی کارروائی کافی ہوگی؟ امر واقع یہ ہے کہ صوبہ بھر میں غیرمستند افراد کی جانب سے علاج معالجے اور اس کی سہولتوں کو کاروبار بنانے کا دھندا پورے طور پر موجود بھی ہے اور جاری بھی مگر انتظامیہ کی جانب سے ان سے تعرض کرنے کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ متعلقہ سرکاری محکمے فعال ہوں اور جعلی قسم کے عناصر پر نظر رکھنے کی ذمہ داری نبھا رہے ہوں اور دوسری جانب جعلساز اور عطائیوں کا دھندہ بھی جاری ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں کہیں بھی عطائی یا غیرمستند افراد طبی سہولتوں کی فراہمی کے مرتکب پائے جائیں تو نہ صرف ان کیخلاف بلکہ متعلقہ محکمے کے ذمہ دار افراد کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیکر ان کیخلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ عطائیت کے خاتمے کی کچھ تو راہ ہموار ہو۔

متعلقہ خبریں