Daily Mashriq

ایک اور پاکستان

ایک اور پاکستان

پچھلے دنوں روزنامہ ''مشرق'' کے رنگین صفحہ پر عین وسط میں ایک باکس ٹائپ تحریر میں ''ایک اور پاکستان'' کے تحت اس صفحے کے لکھاری نے آج کل بھارت میں قومیت (نیشنیلٹی) کے مسئلے پر جو شور برپا ہے اس حوالے سے پاکستان کی مزاحمتی شاعری کی گونج کا ذکر کیا تھا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کیخلاف فیض احمد فیض اور حبیب جالب نے اپنے اس دور میں جو غزلیں اور نظمیں پیش کی تھیں ان کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھارت میں حکومت مخالف طبقوں کے ہاتھ میں شہریت ترمیمی بل کیخلاف طاقتور نعروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ فیض کی اس مشہور نظم ''لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے'' نے آگ لگائی ہے لیکن آج کے کالم میں گزشتہ برس اپنے ایک کالم کی بازگشت اپنے قارئین کو یاد دلانا چاہتا ہوں جس کا پورا عنوان ''دھتکارے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی داستان کرب: ایک اور پاکستان'' تھا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ روزنامہ مشرق کے اس ہفتہ وار رنگین صفحہ کے لکھاری جو بہت نکتہ سنج ونکتہ رس آدمی ہیں نے عین اسی عنوان کے تحت بھارت میں برپا شورش کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ''یہ تو واضح ہے کہ شہریت بل جیسے اقدامات مودی سرکار واپس نہیں لے گی' تاہم ''ایک اور پاکستان'' اور جناح کے دو قومی نظرئیے کی طرف پیش رفت کی باتیں بھارت میں شروع ہوچکی ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کی طرف سے ایک نعرے ''تیرا میرا رشتہ کیا' لا الہ الا اللہ سے مودی ہی نہیں بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت بھی نئے خدشات کا شکار ہوچکی ہے۔ یہ نعرہ وہی نعرہ ہے جو تحریک پاکستان کے ہنگام اُٹھایا گیا تھا ''پاکستان کا مطلب کیا' لا الہ الا اللہ'' اور یہ وہی نعرہ ہے جو مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمان گزشتہ کئی عشروں سے اُٹھا رہے ہیں ''تیرا میرا رشتہ کیا' لا الہ الا اللہ''۔ روزنامہ مشرق کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملکی وقومی اور بین الاقوامی معاملات میں اعتدال کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے مسلمانان عالم کے مسائل پر جرأت کیساتھ خبروں اور کالم نگاروں کی آراء کے علاوہ اس رنگین صفحہ پر بہترین تحریریں پیش کرتا ہے۔ میرا جو کالم گزشتہ برس شائع ہوا تھا وہ بھی روزنامہ مشرق ہی کے ادارتی صفحہ پر ہوا تھا۔ آج اس کالم کی چند باتیں بطور ''گاہے گاہے باخواں ایں قصہ پارینہ را'' پیش کرتا ہوں۔ دراصل میری توجہ اس طرف دلانے میں خیبر پختونخوا کے بہت بڑے اور پڑھے لکھے ریٹائرڈ بیوروکریٹ محترم عبداللہ کا ہاتھ ہے اور یہاں یہ بھی عرض کرنے میں خوشی کہ اس کالم (ایک اور پاکستان) لکھوانے میں بھی ان ہی کا ہاتھ تھا اور وہ کالم ہم نے بھارت کے ایک مقتدر مسلمان ادیب' دانشور' نقاد اور کانگریسی ذہن کے بہت بڑے محقق شمس الرحمن فاروقی کے انڈین ایکسپریس میں شائع شدہ ایک مضمون پر تجزیہ وتنقید کے انداز میں لکھا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ فاروقی صاحب کا مضمون ان کے 70سالہ تجربات ومشاہدات کا نچوڑ تھا۔ ڈاکٹر فاروقی نے لکھا تھا کہ یقینا تقسیم ہند کے بعد بھارت میں مسلم دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھارت کی سیاسی قیادتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے دبے لہجے میں یہ کہا تھا کہ ''موجودہ صورتحال اگر زیادہ دیر تک قائم رہی تو مسلمان اپنی شناخت سے محروم ہو جائیں گے۔ (اسی شناخت کو درپیش خدشات وخطرات کے پیش نظر تحریک پاکستان شروع ہوئی تھی)۔ آپ لکھتے ہیں کہ ''یہ کوئی نئی پالیسی نہیں' کانگریس کی حکومت ہو یا آر ایس ایس (بھارتیا جنتا پارٹی) کی' مسلمانوں کے بارے میں ایک جیسی سوچ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کانگریس نے اپنے نفاق سے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے اور بی جے پی کھل کے مسلمان دشمنی کا اظہار کر رہی ہے (اور اس کی انتہا آج دنیا کے سامنے ہے)۔ اس کالم (ایک اور پاکستان) میں یہ بھی عرض کیا تھا کہ 9/11 کے بعد امریکی پشت پناہی نے بھارت کو اتنا منہ زور کردیا ہے کہ اب وہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف اقدامات اُٹھاتے وقت کسی مصلحت اور اخفا کو ضروری نہیں سمجھتی۔ آج کے حالات ان کوششوں کا عروج ہے جس کا آغاز بہت پہلے سے ہوا۔ 1965ء کی لڑائی کے بعد ڈی پی دھر کی سرپرستی میں کمیشن بنائی گئی جس کے ذمہ سپین (ہسپانیہ) کے ثقافتی امور کا مطالعہ تھا۔ اصل میں وہ یہ تحقیق کرنا چاہتے تھے کہ سپین میں مسلمانوں کو کیسے ختم کیا گیا حالانکہ وہاں بھی مسلمانوں نے چھ سو برس حکومت کی تھی۔ اس سلسلے میں ان کو یہ نکتہ ملا کہ نصاب سازی کے ذریعے نئی نسلوں کے اذہان کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ بھارت کے تعلیمی اداروں میں ایسا نصاب پڑھایا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں کو غاصب اور استعماری حکمرانوں کا نام دیا گیا ہے' الٹی سیدھی توجیہات کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا۔ یہ سب عمارتیں ہندوؤں نے بنائیں جن پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ جب طلباء مہا بھارت کے مقدس مقامات کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ ملیچھ (پلید) مسلمانوں کے قبضے میں ہیں جنہیں آزاد کرانا ضروری ہے۔ یہ بات آج کی پاکستانی نوجوان طلباء کو بتانی ضروری ہے کہ بھارت سے ہمارا جھگڑا پانی' سرحدوں اور تجارت وغیرہ کا نہیں' بھارت نے اب تک دل سے پاکستان کا وجود قبول نہیں کیا۔ ان کا سیاسی نقشہ ہندوکش سے ملاکا تک پھیلا ہوا ہے۔ نتھورام گاڈ سے کی راکھ ممبئی کے ایک مندر میں محفوظ ہے اور ہر سال اسے باہر نکال کر اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ اس راکھ کو اس دن دریائے گنگا میں بہایا جائے گا۔ جب نتھورام کا مشن مکمل ہوگا اور مشن کیا ہے' تقسیم ہند کو ختم کرکے اکھنڈ بھارت کا قیام۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں