Daily Mashriq

دو رُخے لوگ

دو رُخے لوگ

قومی اسمبلی کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل ایوان بالا سے بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے، دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد یہ بل توثیق کیلئے صدر مملکت کو بھیج دیا گیا ہے، صدر مملکت کے دستخطوں سے تینوں بل باقاعدہ قانون کا حصہ بن جائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی بل اس قدر اکثریت اور اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے، حالانکہ ایک مخصوص لابی کی طرف سے درپردہ اس بل کی مخالفت کی بھرپور کوشش کی گئی تھی لیکن اپوزیشن کی جماعتوں نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ یاد رہے یہ وہی مخصوص لابی ہے جو اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کی قیادت کو سروسز ایکٹ میں ترمیم پر حکومت کی حمایت کرنے پر موردالزام ٹھہرا رہی ہے' سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کو ''ووٹ کو عزت دو'' کے بیانئے کو پس پشت ڈالنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے سروسز ایکٹ کی حمایت کرکے اپنا ''ووٹ کو عزت دو'' کا بیانیہ دفن کر دیا ہے، اس تنقید میں محض عام عوام ہی نہیں بلکہ دانشوروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ خیال رہے جب مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو پانامہ کیس میں عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیا گیا تو ان کی جانب سے ''ووٹ کو عزت دو'' کا بیانیہ سامنے آیا تھا تب بھی ایک طبقہ کی طرف سے ان پر تنقید کی گئی تھی اور بظاہر افواج پاکستان کیساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا' لیکن آج جبکہ مسلم لیگ ن نے سروسز ایکٹ میں ترمیم پر حکومت کی حمایت کی ہے اور اتفاقِ رائے سے بل منظور ہو گیا ہے تو ناقدین کو یہ بات بھی کسی صورت قبول نہیں ہے یعنی کل تک جو لوگ پاک فوج کی حمایت کی مالا جپھنے کی کوشش کر رہے تھے آج مسلم لیگ ن کی جانب سے سروسز ایکٹ ترمیمی بل میں حمایت پر خوش نہیں ہیں، آج یہی طبقہ ایک بار پھر اشتعال انگیزی کی کوشش کر رہا ہے، یہ کون لوگ ہیں' کیا پاک فوج کے خیرخواہ ہیں یا سیاسی جماعتوں کے خیر خواہ؟ جہاں تک میری ناقص رائے ہے یہ پاک فوج کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں یا ملک کیساتھ انہیں کوئی لگاؤ ہے'حقیقت میں یہ دورخے لوگ ہیں، یہ لوگ تو بس ملک میں تناؤ اور تصادم دیکھنا چاہتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے اکٹھ کی بدولت ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان لوگوں کا ایجنڈا ادھورا رہ گیا ہے۔جہاں تک تعلق مسلم لیگ ن کے ''ووٹ کو عزت دو'' کے بیانیہ کا ہے تو اس ضمن میں چند پہلوؤں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن دو الگ الگ باتیں ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر اختلاف کی گنجائش موجود ہے اس پر بحث ومباحثہ کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک تعلق ہے نوٹیفکیشن کا تو حکومت کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ نوٹیفکیشن میں آرمی چیف کی مدت ملازمت کا دورانیہ موجود نہیں تھا بلکہ اسے ماضی کے چیف آف آرمی سٹاف کے دورانیہ پر قیاس کیا جا رہا تھا' عدالت عالیہ نے جب حکومت سے اس کی وضاحت چاہی کہ آرمی چیف کی تقرری اور مدت کے تعین کیلئے 3سال کی قید آئین کی کس شق کے تحت لگائی گئی ہے تو حکومت کے پاس اس کا کوئی آئینی جواب نہیں تھا' حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے' ماضی کو بطور مثال تو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن مسئلے کا آئینی حل ہرگز نہیں ہے' حکومت کو احساس ہوگیا کہ یہ آئینی بحران ہے' اس لئے عدالت عالیہ سے چھ ماہ کی مہلت طلب کی گئی کہ اس دوران تمام آئینی سقم کو دور کر کے متفقہ طور پر سروسز ایکٹ میں ترمیم کردی جائے گی۔ اس پس منظرکے بعد یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ آج اگرچہ حکومت میں پی ٹی آئی ہے لیکن اگر حکومت میں کوئی بھی دوسری جماعت ہوتی تو اس آئینی سقم کو اتفاقِ رائے سے ختم کیا جانا ضروری تھا۔ اگر سیاسی جماعتوں کا اتفاق تین سال کی مدت پر نہ بھی ہوتا تو آرمی چیف کیلئے کسی نہ کسی مدت کا تعین تو کرنا ہی تھا سو سیاسی جماعتوں نے ماضی کے آرمی چیفس کیلئے جو مدت مقرر کی تھی اسی کو سامنے رکھ کر تین سال تعین کر دی ہے' اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد جو بھی آرمی چیف آئے گا اس کی آئینی طور پر مدت ملازمت تین سال ہوگی۔مسلم لیگ ن' پاکستان پیپلز پارٹی، ماسوائے جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے دیگر سیاسی جماعتوں نے سروسز ایکٹ میں ترمیم پر حکومت کی حمایت کی ہے' سیاسی جماعتوں کے اس متفقہ عمل کی تحسین کی جانی چاہئے کیونکہ اگر یہ آئینی سقم دور نہ کیا جاتا تو ہم پوری دنیا کو جگ ہنسائی کا موقع فراہم کرتے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس امر کا بخوبی جائزہ لیا اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر اقدام اُٹھایا' اس میں کسی کی شکست یا فتح نہیں ہوئی بلکہ سیاستدانوں نے اپنی اس غلطی کو سدھارنے کی کوشش کی ہے جو سالوں سے چلی آرہی تھی۔ ہاں اس آئینی ترمیم میں اگر کسی کی شکست ہوئی ہے تو اس طبقے کی شکست ہوئی ہے جو ملک میں انارکی کا خواہاں تھا، سیاسی جماعتوں نے جس طرح سروسز ایکٹ ترمیمی بل پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، اس طرح کی یکجہتی اگر ہر محاذ پر نظر آئے تو ہمارے تمام دیرینہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں