Daily Mashriq

دورہ پاکستان، بنگلادیش تاخیری حربوں سے معاملات الجھانے لگا

دورہ پاکستان، بنگلادیش تاخیری حربوں سے معاملات الجھانے لگا

لاہور.: بنگلادیش دورہ پاکستان پر تاخیری حربوں سے معاملات الجھانے لگا جب کہ باہمی سیریز کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے مزید ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا۔

فیوچر ٹور پروگرام میں شامل باہمی سیریز کیلیے بنگلادیشی ٹیم کو جنوری،فروری میں پاکستان آکر 3ٹی ٹوئنٹی اور 2ٹیسٹ میچز کھیلنا ہیں، بی سی بی پہلے دورہ مختصر رکھنے کیلیے صرف ٹی ٹوئنٹی میچزکی بات کرتا رہا، پی سی بی کی تجویز پر بدھ کو پہلے ٹیسٹ میچز اور ٹی ٹوئنٹی میچز پھر کسی وقت کھیلنے پر رضامندی کا اشارہ دیا۔

اس فیصلے کا محرک یہ تھا کہ پی سی بی حکام کی جانب سے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل ہوم سیریز کے میچز پاکستان سے باہر نہ کھیلنے کی ضد بھی پوری ہو اور بنگلادیشی بورڈ کا دورہ مختصر کرنے کا مطالبہ بھی تسلیم ہوجائے،بدھ کے روزکرکٹرز کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ بھی جاری رہا، حکومتی دستاویز پر دستخط کرائے گئے۔

بی سی بی کے صدر نظم الحسن نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کو کوئی حتمی فیصلہ کردیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ مشفیق الرحیم نے کبھی پاکستان جانے میں دلچسپی نہیں دکھائی، بیشتر کرکٹرز مختصر دورے پر جانا چاہتے ہیں،زیادہ تر کوچنگ اسٹاف ہمراہ نہیں ہوگا، ہیڈ کوچ رسل ڈومینگو تیار ہیں، جمعرات کو پی سی بی حکام اور پاکستانی عوام سب کسی فیصلے کے منتظر رہے لیکن شام کو ایک بار پھر معاملہ ہوا میں معلق رکھتے ہوئے مزید ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا گیاْ

ذرائع کے مطابق بنگلادیشی بورڈ نے پی سی بی کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کردیا اور اب کوئی فیصلہ 12جنوری کو ہونے والی بورڈ میٹنگ میں سامنے آ سکتا ہے۔ پی سی بی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بی سی بی کے ساتھ رابطہ ہوا اور انھوں نے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے، ہم فیصلے کا انتظار کریں گے۔

یاد رہے مجوزہ شیڈول کے مطابق بنگلادیشی ٹیم کو 18جنوری کو پاکستان آنا ہے، اس لیے وقت کم اور مقابلہ سخت والی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی کرکٹرز بدستور بنگلادیشی کرکٹرز کو بے جا خوف کے حصار سے باہر نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، بنگلادیش پریمیئرلیگ میں شرکت کیلیے جانے والے احمد شہزاد نے کہا تھا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، بنگلادیشی ٹیم کو آنا اور ہماری مہمان نوازی کا لطف اٹھانا چاہیے۔

بدھ کو بی پی ایل میں مین آف دی میچ کا ایورڈ حاصل کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاداب خان نے کہا کہ پاکستان میں زمبابوے کی ٹیم آئی، پی ایس ایل اور ورلڈ الیون کے ساتھ میچز بھی ہوئے،ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی ٹیموں نے دورہ کیا، ہم اپنے مہمانوں کو عزت اور پیار دیتے ہیں۔ بنگلادیش کو بھی کھیلنے کیلیے آنا چاہیے۔

ایک سوال پر آل راؤنڈر نے کہا کہ دورہ طویل ہونے کے بارے میں بنگلادیشی کرکٹرز کے خدشات درست نہیں،آئی لینڈرز ٹیسٹ سیریز کھیل کر واپس گئے، پاکستان ایک خوبصورت ملک اور شائقین انٹرنیشنل کرکٹ دیکھنے کیلیے بے تاب ہیں۔

ادھر لاہور میں پشاور زلمی کی تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وہاب ریاض نے کہا کہ بی پی ایل میں شرکت کے دوران جن بنگلادیشی کرکٹرز سے بات ہوئی وہ پاکستان کا دورہ کرنے پر رضامند نظر آئے، معلوم نہیں کہ سیریز کے بارے میں حتمی فیصلہ کیوں تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔

دریں اثنا سرکاری خبر رساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں سابق کپتان جاوید میانداد نے کہا کہ بنگلادیش ایک برادر ملک ہے، دونوں کو ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے، انٹرنیشنل اسٹیٹس حاصل کرنے میں پاکستان نے بنگلادیش کی مدد کی تھی، اب بی سی بی کو بھی اپنی ٹیم بھجوانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں