Daily Mashriq


بھارت کے امن دشمن عزائم اور پاکستان کی ذمہ داری

بھارت کے امن دشمن عزائم اور پاکستان کی ذمہ داری

ہفتہ کے روز جب سارے مقبوضہ کشمیر میں آزادیٔ کشمیر کے نوجوان مجاہد برہان وانی کی پہلی برسی پر شدید احتجا ج ہو رہا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے پار سے بھارتی فوج نے پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک بزرگ اور چار خواتین سمیت پانچ شہری جاں بحق اور دس زخمی ہوئے۔ یہ گزشتہ کئی ماہ میں لائن آف کنٹرول کی شدید ترین خلاف ورزی تھی جب بھارتی فوج نے ایک ہی دن میں مختلف بستیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے کہا ہے کہ ''بھارت 2003کے فائر بندی کے معاہدہ کی پاسداری کرے ۔ فائر بندی کے حالیہ واقعات کی تحقیقات کرے اور لائن آف کنٹرول پر امن برقرار رکھے۔'' پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے نے کہا ہے کہ پاک فوج نے بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور بھارتی توپوں کو خاموش کرا دیا۔ ہفتہ کے روز لائن آف کنٹرول کے پار سے بھارتی توپخانہ کی فائرنگ سے ایسے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے واقعات میں شدت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک ہی دن میں مختلف اہداف پر فائرنگ کے لیے بلاارادہ فائرنگ کا جواز نہیں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بلااشتعال اور سوچا سمجھا حملہ تھا ۔ اس پرمحض احتجاج ریکارڈ کروا دینا کافی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کے مبصرین کے گروپ کو فوری طور پر علاقے کا دورہ کروایا جانا چاہیے تاکہ وہ جلد اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کو بھیج سکیں۔ اس حملے کے ساتھ گزشتہ چھ ماہ میں لائن آف کنٹرول کی بھارتی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 18ہو گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی ہے۔بھارتی فوج کی جانب سے ہر کچھ عرصے بعد لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کافی تشویشناک ہیں ۔ بھارتی فوج کی ان اشتعال انگیزیوں کا عالمی برادری کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیئے جس میں معصوم انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔ پاکستان ہمیشہ سے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرتا آرہا ہے ۔ بھارت کو مسلسل ایسی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے بھارت کا کتنا نقصان ہوا یہ معلومات سردست دستیاب نہیں تاہم بھارتی فوج کی اس قسم کی حرکات سے کسی وقت بھی کسی بڑی جھڑپ یا جنگی کارروائی کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی روز جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے سارے مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی پہلی برسی پر بھرپور احتجاج ہو رہا تھا۔ ساری کشمیری قیادت یا تو قید ہے یا گھروں میں نظر بند تھی اس کے باوجود کشمیری عوام جو اپنی سمت اور آزادی کی منزل سے آگاہ ہیں بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہے تھے۔ بھارتی فوج نے برہان وانی کے والد کو گرفتار کیا، والدہ کو گھر میں نظر بند کیا اور شہید کے گھر تعزیت اور ایصال ثواب کے لیے آنے والوں پر پابندی لگا دی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس موقع پر ایک بیان میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی اور سفارتی امداد کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی کمٹ منٹ نبھائے۔ مظفر برہان وانی کے یوم شہادت پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ مظفر وانی نے اپنی قربانی کے ذریعے دنیا کو یاد دلایا ہے کہ بڑے پیمانے پر بے گناہ لوگوںکے قتل اور پیلٹ گنوں کے ذریعے نہتے کشمیریوں کو اندھا کرنے ' ان کے چہروں کو مسخ کرنے اور جسموں کو داغدار بنانے کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر کے عالمی امن کی توقع نہیںکی جا سکتی۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے مصائب اور اجتماعی ابتلا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے برہان مظفر وانی کی برسی پر ایک بیان جاری کرنے سے پاکستان میںکشمیریوں کو یک جہتی کا پیغام تو دیا جاتا ہے لیکن اس سے کشمیریوں کی سیاسی ' سفارتی اور اخلاقی مدد کے وعدے کے ایفا کی ذمہ داری کا عشر عشیر بھی ادا نہیں ہوتا۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے ۔ دوسری طرف لائن آف کنٹرول کو بے معنی بنانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ تیسری طرف وہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے اور چوتھی طرف وہ گزشتہ ایک عشرہ سے بین الاقوامی سطح پر اس بیانیہ کو عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد پاکستان سے آنے والے دراندازوں کی پیدا کردہ ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کے وزیر اعظم کی طرف سے محض ایک بیان جاری کر دینا اور دفتر خارجہ کی طرف سے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو بلا کر احتجاجی مراسلہ اس کے حوالے کر دینا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان میں باقاعدہ وزیر خارجہ کے نہ ہونے سے ظاہر ہے کہ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی وزیر اعظم نواز شریف کے پاس ہے۔ انہوںنے گزشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا تھا لیکن اس کے بعد بین الاقوامی کمیونٹی کو بھارت کی کشمیر پالیسی اور بھارت کی پاکستان پالیسی کے حقائق سے کماحقہ آگاہ کرنے کی مؤثر کوشش نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کو ایک ڈوزیر تو پیش کیا گیا لیکن اقوام عالم کو اس ڈوزیر کی نقلیں فراہم کرنے میں کیا امر مانع تھایہ پاکستانی قوم کو نہیںبتایا گیا۔ بھارت کی کشمیر پالیسی دراصل بھارت کی پاکستان پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ بھارت کی شہ پر افغانستان سے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگ رہا ہے اور امریکہ اس کی تائید کرتے ہوئے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کررہا ہے۔بھارت اس الزام کے ذریعے اقوام عالم کو یہ باور کرا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد پاکستان کے اکسانے کا نتیجہ ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے یہ پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ بھارت کا پاکستان مخالف اصلی چہرہ اقوام عالم کے سامنے آشکار کرے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارت جو بہیمانہ مظالم ڈھا رہا ہے ان سے اقوام عالم کو آگاہ کیا جائے۔ وزیر اعظم کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ ان حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلائیں اور اقوام عالم کو بھارت کے حقیقی عزائم سے باخبر کرنے کے لیے کوئی جامع پروگرام مرتب کریں جس کے نتیجے میں اقوام عالم پر یہ آشکارہ کیا جائے کہ بھارت کے عزائم امن عالم کے لیے فوری خطرے کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں