چار وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس

چار وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس

پاناما کیس کے حوالے سے چار اہم وفاقی وزراء کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بعض ایسی باتیں آئی ہیں جو عوام میں کنفیوژن کا سبب بن سکتی ہیں۔ پاناما کیس ملک کی تاریخ کا اہم مقدمہ ہے جس میں وزیر اعظم نواز شریف نے نہایت تدبر اور حوصلہ مندی سے اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو تحقیقات کے لیے پیش کیا اور اس اعلان پر ثابت قدمی سے قائم ہیں۔ اس کیس میں سارے پاکستان کے عوام گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔ ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کی دلچسپی بھی قدرتی امر ہے۔ تاہم جب سیاسی جماعتوں کے لیڈر یا وزراء کوئی بیان دیں تو اسے ذاتی رائے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعت یا حکومت یا حکومتی پارٹی کا موقف بھی سمجھا جاتا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر دفاع و پانی و بجلی نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی کی جتنی کارروائی ہوئی ہے ا س میں جو سوال و جواب ہوئے ہیں وہ بغیر ایڈیٹنگ کے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں۔ عوام میں ہر شخص جس نے اس کیس میں دلچسپی لی اس کی بھی یہی خواہش تصور کی جا سکتی ہے کہ اسے معلوم ہو کہ جے آئی ٹی میں کیا سوال و جواب ہوئے لیکن جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے تشکیل دی اور اس ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ اس رپورٹ کو موصول ہونے کے بعد اگلا قدم کیا اٹھاتی ہے۔ مطالبہ اپنی جگہ درست لگتا ہے لیکن اس پر اصرار سپریم کورٹ کو راہ سجھانے کے مترادف ہے۔ قطری شہزادے کے خط کے بارے میںکہا گیا ہے کہ جب تک اس کی گواہی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں شامل نہیں ہو گی اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ رپورٹ کو تسلیم کرنا ' مسترد کرنا یا اس پر آگے کوئی کارروائی کرنا سپریم کورٹ کااختیار ہے۔ اس اختیار میں مداخلت شاید مداخلت بے جا ہے۔ جہاںتک قطری شہزادے کی گواہی کی بات ہے یہ گواہی مدعا علیہ کی طرف سے پیش کی گئی ہے اورمدعا علیہ ہی کی ذمہ داری سمجھی جانی چاہیے کہ وہ یہ گواہی پیش کرے جو کرنی چاہیے تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی پہلے دن سے متنازع ہے لیکن جے آئی ٹی کی تشکیل سپریم کورٹ نے اپنی صوابدید کے مطابق کی ہے ۔ اگر یہ متنازع سمجھی جارہی ہے تو مدعا علیہ کو چاہیے تھا کہ سپریم کورٹ سے یہ معاملہ اٹھاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ انصاف ہوتا نظر نہیںآ رہا ۔فیصلہ آنے سے پہلے ایسے گمان کسی بھی شخص کے ذہن میں آ سکتے ہیں کہ جس فیصلے کو وہ انصاف سمجھتا ہے فیصلہ اس کے مطابق ہو گا یا نہیں؟ لیکن یہ تو فیصلہ آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ فیصلہ کس کی انصاف کی توقع کے مطابق ہے اور کس کی امید کے مطابق نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہم سے ووٹر چھینے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ووٹر کوئی ایسی چیز شمارنہیں کیے جا سکتے کہ جنہیں کوئی کسی سے چھین لے۔ متذکرہ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے چاروں وزراء خواجہ آصف'احسن اقبال' خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق نہایت معتبر وزیر اور سیاسی لیڈرہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ روز اپنے حلقہ انتخاب کے پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے اور جمہوریت کو پٹڑی سے اُتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بعد ازاںانہوںنے وضاحت کر دی تھی کہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں پارٹی کاموقف نہیں۔ یہ متذکرہ وزراء ہی بہتر جانتے ہیں کہ ایسی کوئی وضاحت ضروری ہے یا نہیں۔

اداریہ