Daily Mashriq


کھیل کو کھیل ہی رہنے دو

کھیل کو کھیل ہی رہنے دو

یہ ایّام مرور کی بات ہے کہ سعی کے بعد تھکاوٹ اتارنے کی غرض سے مر وہ کے پاس ایک دروازے کی چوکھاٹ پر سستانے کی غرض سے براجما ن ہو اتو ایک بارہ تیر ہ سال کے لڑ کے پر نظر پڑی۔ رنگ گورا چٹّا سرخی ما ئل تاہم بال سیا ہ اور وہ ایک انگریزی کتابچہ کھولے اس میں سے دعا پڑ ھ رہا تھا۔ نوعمر بچے کو دیکھ کر گما ن ہو ا کہ یہ یو رپین ہے تجسس کی کیفیت میں اس سے استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ وہ جنو بی افریقہ سے تعلق رکھتا ہے جواباًاس نے بھی استفسار کرلیا جب اسے بتایا کہ پا کستان سے تعلق ہے تو وہ بہت شاداں ہو کر بولا کہ پاکستان میں تو بہت ہی کر کٹ مقبول ہے پاکستانی کرکٹر تو بڑی مہا رت رکھتے ہیں تو احساس ہو ا کہ کھیل کتنے اہم ہیںکہ ایک نو عمر غیر ملکی لڑکا بھی پاکستان سے تعارف کھیل کی بنیا دپر رکھتا ہے گویا کھیل بھی سفارت کاری میں اہم کر دار ادا کرتے ہیںاور کھلاڑی بہترین سفیر ثابت ہو تے ہیں چنا نچہ کھیل کو کسی دوسری آلو دگی میں لیچیڑ دینا نہیں چاہیے اسے کھیل ہی رہنا چاہیے کیو ں کہ یہ قومیت کی نما ئندگی کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ایو ب خان کا دور پاکستان کی معیشت کے لحاظ سے سنہرا دور تھا ۔ اس دور میں صدر ایوب خان مر حوم نے بہت سے اہم اقدام بھی کیے تاکہ پاکستان کے تشخص کو عیا ں کیا جا ئے ، چنا نچہ انہوں نے چمبیلی جس کو یا سمین بھی کہا جا تا ہے کو قومی پھول قرار دیا ، پا کستان کو ایک زرعی ملک کے نا تے گندم کو قومی زراعت قرا ر دیا ، اسی طرح ہا کی کو قومی کھیل وغیر ہ قرار دیا گیا تھا ، حالانکہ ایو ب خان مر حوم خود گالف شوق سے کھیلتے تھے ،اس زما نے میں پاکستان میںعوامی سطح پر کئی کھیل ہر دلعزیز تھے ، ان میںہا کی کے علاوہ فٹ بال ، والی بال ، کبڈی ، پہلو انی ، کر کٹ ، باسکٹ بال ،او رکئی کھیل مقبول تھے ، لیکن سب سے زیادہ فٹ بال کھیلا جا تا تھا جس طرح ان دنوں کرکٹ کوچہ امصار میں کھیلا جا رہا ہے ، پشاور میں بھی قومی سطح کے کئی ٹورنا منٹ ہوتے تھے اس زما نے میں ورسک ڈیم کی ٹیم فیو رٹ تھی اور اس کے ساتھ ہی کر اچی کی پرنٹنگ پریس کی ٹیم فیو ر ٹ تھی ۔یہ سب کھیل ہی کے طورپر مقبول تھے اور اس سے عوام کھیل ہی کا لطف لیتے تھے ۔انسانی جبلت کا تقاضا ہے کہ اس کی ہمد ردیا ں اپنی پسندیدہ ٹیم کے ساتھ ہو ا کر تی ہیں اور یہ خواہش ہو تی ہے کہ اس کی پسندید ہ ٹیم ہی ٹورنامنٹ جیت جائے مثلا ًپاکستان میں بسنے والے مہا جر ہی کیا بلکہ افغانستان کے اندر بھی افغان عوام کی فیورٹ ٹیم پاکستان ہی رہی ہے ،مگر مقام افسوس ہے کہ اب بھارت اورپاکستا ن کے درمیان کھیل کو کھیل نہیں رہنے دیا گیا ہے اربا ب حل وعقد نے اس کو میدان جنگ کامعر کہ بنا دیا ہے۔ بھارت کے ایک معروف ٹی وی شو کپل شرما شو میں پا کستان کے ما یہ نا ز کرکٹر وسیم اکرم ایک پر وگر ام میں مہما ن خصوصی تھے جس میں انہوں نے سپو رٹ مین شپ کا مظاہر ہ کرتے ہو ئے کئی اہم باتیں کیں انہو ں نے بتایا کہ عالمی سطح کے میچزکے دوران پاکستان اور بھارت کھیل کے مید ان میں اصل حریف ہو تے ہیں لیکن کھیل کے حریف ہوتے ہیں کسی مید ان جنگ کے حریف نہیں ہو تے ، میدا ن سے ہٹ کر دونو ں ملکو ں کے کھلا ڑی بہت اچھے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں لیکن جب میدان میں اترتے ہیں تو دوستی ڈریسنگ روم میں رکھ آتے ہیں اور میدان میں کھیل کے حریف بن جا تے ہیں ۔مگر ہو ا کیا ہے کہ دونوں ملکو ں میں کھیل کے مید ان کو دشمن کا میدان بنا دیا گیا ہے اور نفر ت کی شجر کا ری کر دی گئی ہے ، حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں ایسا ہی مظاہر ہ ہو ا ، جب فائنل میں پا کستان کو کامیا بی ہوئی تو بھارت میں شکست کا جو ردعمل آیا وہ بھی اسی سیا ست اور سفارت کا ری کا عکس تھا کہ ٹی وی توڑے گئے ، آگ لگائی گئیں ، احتجا ج ہو ئے تو ڑ پھوڑ ہوئی پاکستان میں بھی جس انداز میں جشن منا یا گیا وہ بھی اس امر کی غما زی کر رہا تھا کہ گویا کھیل کے میدان میںکا میا بی نہیں ہو ئی بلکہ کوئی معر کہ جیت کر کامیا بی پائی گئی ہے ، وزیر اعظم نے بھی ٹیم کی دعوت کا اہتما م دعوت ولیمہ سے بھی بڑ ھ کر کیا ، اس کے بعد آرمی چیف نے بھی دعوت کا اعزاز بخشا ۔محولہ بالا بات کا قطعی مقصد کچھ اور نہیں ہے صرف یہ مقصود ہے کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیا جا ئے کیو ں کہ کھیل صحت مند رجحا ن کا بہترین منبع ہے ، دوفریقوں میںچاہے وہ ملکی ہو ںیا غیر ملکی ہو ں ان کے درمیان کھیل مثبت رویو ں کو فر وغ دینے کا ذریعہ ہیں ، ناکہ دشمنی کو فروغ دینے کا سبب ۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ کھلا ڑیوں کی سوچ اور طرز عمل دونوں ملکو ں کے عوام سے قطعی مختلف ہے ، بھارت کی شکست خوردہ ٹیم کے دھونی ، یو راج سنگھ ، کوہلی وغیر ہ میچ کے اختتام پر پاکستانی کھلا ڑی اظہر علی کے جنہوں نے بھارتی ٹیم کو دھو دیا تھا بچوں کے ساتھ اسی مید ان میں ہنستے کھیلتے نظر آرہے تھے اور ان کی فیملی کے ساتھ تصاویر بنوا رہے تھے ، یہ بھی یا د رکھنا چاہیے کہ شاہدآفرید ی نے سری لنکن ٹیم کے خلا ف جو 137 رنز بنا ئے تھے اس کے لیے سچن ٹنڈولکر کا بلّا استعمال کیا تھا پاکستان کے کپتان سرفراز اور محمد عامر کی عمدہ بلّے بازی سے سری لنکاکی ٹیم کو جو شکست ہوئی اس میں ویر ات کوہلی کا بیٹ پاکستانی کھلاڑیوں نے استعما ل کیا تھا ، محمد عامر جب اپنی سز ا بھگت چکے اور ان کو قومی میں ٹیم شامل ہو نے کاوقت آیا تو اس وقت شاہد آفرید ی ، محمد حفیظ ، مصباح الحق اور رمیز راجہ نے ان کی ٹیم میںشمو لیت کی مخالفت کی جبکہ اس موقع پر ویر ات کوہلی نے آئی سی سی سے اپیل کی تھی کہ محمد عامر کو بین الا قوامی کرکٹ کے دھارے میںشامل کیا جائے ، عمر ان خان کے بھا رتی کپتان سنیل گو اسکر کے ساتھ تب بھی اور اب بھی بہترین دوستانہ تعلقات قائم ہیں ، بھارتی فن کا رو ں نے عمر ان خان کے کینسر اسپتا ل کے فنڈ ز کے لیے غیر ممالک میں منعقد ہونے والے شوز میں شرکت کی ۔ اس لیے بہتر ہے کہ کھیل اور ثقافت کو عوام کے درمیا ن نفرت اور کدورت کے پھیلا ؤ کا ذریعہ بنا نے کی بجا ئے اس کو امن وآشتی کا ذریعہ ہو نا چاہیے کیو ں کہ تنازعات و اختلافات کی بڑھوتی یا خاتمے کا ذریعہ یہ شعبے نہیں ہو ا کرتے اور نہ ان سے ایسے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں