عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی ضرورت

عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی ضرورت

نصاب تعلیم وہ تدریسی اور تربیتی ڈھانچہ (Basic Structure) ہوتی ہیں، جن کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تعلیمی ادارے نئی نسل کو ذہنی، فکری، علمی اور عملی طور پر تیار کرتے ہیں۔نصاب تعلیم کا انحصار ریاست کی قومی تعلیمی پالیسی پر ہوتا ہے، جس میں مستقبل کے اہداف، معیارات اوراندرونی و بیرونی تغیرات کا ادراک اور تعین کیا جاتا ہے۔ وقت اور حالات کے تحت جہاں دیگر ریاستی امور و معاملات تبدیلیو ں اور تغیرات سے گزرتے ہیں، وہیں نصاب تعلیم قومی اہداف سے مشروط ہوتی ہے اور تعلیمی نظام کی فعالیت اور ضروری ترامیم و اضافے کیوجہ سے تعلیمی اہداف ، معیارات اور زاویے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔پاکستان کے نظام تعلیم میں گو کہ مختلف ادوار گزرے، ایوب خان،جنرل ضیاء اور نواز شریف کے ادوار میں تبدیلیاں ضرور لائی گئیں، لیکن یہ تبدیلیاں حقیقت پسندی کا مظہر ہونے کے بجائے فکری چنگل کے زیر اثر زیادہ رہی ہیں جس کی وجہ سے نظام تعلیم معاشرے پر خاطر خواہ مثبت اثرات مرتب کرنے میں ناکام رہا اورقیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہم وقت کے فطری بدلتے تقاضوں کے مطابق اپنے نظام تعلیم کو ہم آہنگ نہیں کر پائے۔ جنرل(ر)پرویز مشرف نے 2001میں تعلیم کو عالمی معیا ر کے مطابق بنانے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے چند ترقی پسند دوست ماہرین تعلیم سے رابطہ کیا جن میں ڈاکٹر اے ایچ نیر، ڈاکٹر پرویزہود بھائی اور دیگر شامل تھے ۔ جنرل(ر) مشرف اپنی تعلیم دوست سوچ کی بدولت ملک کو ''نالج اکانومی'' میں بدلنے کے خواہاں تھے۔ مگر بیوروکریسی نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔گو کہ بعض سطحوں پر خوشگوار تبدیلیاں آئیں لیکن نفرت انگیز مواد بدستور نصاب کا حصہ رہا۔ مشرف کے تعلیمی اقدامات 65 برس کی تاریخ میں نمایاں تھے۔ 1999ء سے لے کر2007ء کے عر صے میں جو تعلیمی منصوبے بنائے گئے، ان کی بناء پر پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کو عالمی سطح پر پہچان ملی۔جنرل (ر)مشرف نے 2002ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈاکٹر عطاء الرحمان کوپاکستان کی سرکاری یونیو ر سٹیوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کا ہدف سونپا۔ جس کی بدولت نہ صرف تعلیمی نظام میںکئی گنا بہتری آئی بلکہ پہلی بار باقاعدہ طور پر یونیورسٹیوں کے لیے ریسرچ گرانٹس، ڈیجیٹل لائبریریوں کا قیام اور پانچ ہزار سے زائد افراد کو غیر ملکی جامعات میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ مشرف کے دور میں ہی پاکستان میں پانچ بڑے تحقیقی ادارے اورنو عالمی معیار کی انجینئرنگ یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔اسی طرح ہزاروں سکول و کالج سمیت 81 نئی یونیورسٹیاں بھی انکے کار ہائے نمایاں رہے۔

یہ بات درست ہے کہ انہوں نے افغانستان اور دیگرمحاذوں اور بین الاقوامی سطح پر کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا لیکن قوم کوا ن کی بنیادی ضرورت ''تعلیم ''کی خوشبو سے روشناس ضرور کراگئے ۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ جہاں صاحب بصیرت سیاستدانوں کے فقدان کے باعث مختلف ریاستی پالیسیوں پر بیوروکریسی حاوی ہوتی چلی گئی ہے، وہیں تعلیم کے شعبے میں اہل ماہرین تعلیم کی عدم موجودگی کے باعث تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل پر بھی روز اول سے بیوروکریسی ہی حاوی چلی آ رہی ہے۔طبقاتی نظام تعلیم احساس کمتری و محرومی کا سب سے بڑی وجہ ہے کہ ایک بچہ مشنری سکول( Specialized School ) میں جاتا ہے اور اپنے پوری تعلیمی کیرئیر میں کوئی فضول سبجیکٹ نہیں پڑھتا بلکہ اس نے جو بننا ہو تا ہے وہ اسی سے متعلق پڑھتاہے جبکہ دوسری طرف لوئر کلاس اور میڈل کلاس بچہ ساری زندگی اپنی منزل کو سیدھا کرنے میں گزار دیتا ہے۔عصری تقاضا ہے کہ حکومت قومی ادارہ برائے نصاب و نصابی کتب اورنصاب سازی کو پھر سے اپنے پائوں پر کھڑا کرے اور ایسی نصاب سازی کرے جو وقت کے تقاضوں پر پورا اترے۔ نظام تعلیم میں بیوروکریسی کا کردار ختم کر کے اسے کسی تھنک ٹینک برائے تعلیم کے حوالے کیا جائے۔تعلیمی پالیسی کو اہداف کی تکمیل اور عصری ضروریا ت کے پیش نظر بنایا جائے۔ مذہبی تنگ نظری ،فرقہ وارانہ تعصب ، مادر پدر آزاداو ر مذہب و اخلاقیات سے متنفر کرنے والے نصاب کو دینی و عصری درسگاہوں سے ہٹایا جائے۔ طبقاتی نظام تعلیم کی بیخ کنی کی جائے کہ کہیں یہ اتنی نہ بڑھ جائے کہ دیر ہو جائے۔ لیپ ٹاپ کے بجائے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار کو بہتر بنا کر اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی جائے۔ پبلک و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے مشترکہ پالیسی بنا کر نصاب تعلیم، اساتذہ کی تربیت اوراساتذہ کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ ہر سال قومی تعلیمی مردم شماری کا اہتمام کیا جائے۔تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ برائے2017 ء کا اعلان کر کے موجودہ نقائص کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔تعلیمی نظام کے بگاڑ اور تباہی کی تمام تر ذمہ داری ریاستی مقتدر اشرافیہ اور مذہبی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو نصاب تعلیم میں مثبت تبدیلیوں کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یو این ، فافن، پلڈاٹ اور دوسرے سروے کرنے والے اداروں کی ہوش ربا رپورٹس تو گاہے بگاہے ہمارے تعلیمی سسٹم کا پردہ چاک کرتی رہتی ہیں لیکن فرق تب پڑے گا جب حکام بالا کو بھی تعلیم کی اہمیت کا احساس ہو۔اگر حکومت وقت چاہے تو یہ تعلیمی نظام کو اپ ٹو دی مارک کر سکتی ہے کیونکہ اسکے تعلقات بیوروکریسی میںبھی ہیں اور دینی مدارس کے علماء سے بھی۔

متعلقہ خبریں