Daily Mashriq


کھانے اور دکھانے کے الگ الگ دانت

کھانے اور دکھانے کے الگ الگ دانت

پشتو محاورے کے مطابق د شپیتو شی نو د ویشتو شی۔ یعنی ساٹھ سال کے لوگوں کو گولی مار دینی چاہئے۔ شنید ہے کہ رسالے کے بوڑھے گھوڑوں اور خچروں کو بھی گولی ماردی جاتی تھی۔ ہم تو بفضل تعالیٰ باتر یا کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ چنانچہ اس سے بھی زیادہ سخت سزا کے لائق ہیں۔ اس عمر میں بندہ دڈمامو شی ڈھول کی آواز بھی نہیں سن پاتا۔ آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے۔ معدہ کام نہیں کرتا۔ پتے میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور مثانہ بے قابو رہتا ہے۔ اسے آپ ہماری خود اعتمادی سمجھئے یا پھر بات بے بات پر دوسرے کے کاموں میں ٹانگ نہ اڑانے کی عادت کہئے۔ شیطان کے کان بہرے' اب تک ہم ان میں سے کچھ عوارض سے محفوظ ہیں البتہ سامنے کے تین دانت ایک ایک کرکے داغ مفارقت دے چکے ہیں۔ پہلے تو ہم نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی لیکن جب دوستوں نے ہماری باتوں میں سیٹیوں کے بجنے کی طرف اشارہ کیا اور باتوں میں سر سراہٹ پیدا ہونے لگی تو زر کثیر خرچ کرکے لاہور کے ایک ماہر دندان ساز سے ایک تیسی ' بروزن بتیسی لگوا لی۔ یہ بتیسی گزشتہ چھ سال کے عرصے میں بار بار گم ہوتی رہی اور ہم بنواتے رہے۔ آج تک ہم اس پر اتنی رقم خرچ کر چکے ہیں کہ اس پر ہم دو بار حج کی سعادت حاصل کرچکے ہوتے۔ رات کو ہم یہ دانت منہ سے نکال کر قریب پڑی میز کی دراز میں رکھ لیتے ہیں۔ ہمارا پوتا فرہنگیال خان صبح دراز میں سے یہ دانت اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں میں رکھ کر پیش کرتا ہے۔ پھر بٹوہ لا کردیتا ہے۔ کل صبح منہ بسورتے ہوئے آیا اور کہنے لگا' بابا ستا غاخونہ خو نشتہ۔ تمہارے دانت نہیں ملے۔ بستر جھاڑا' تکیوں کے نیچے تلاش کیا' چار پائی کے نیچے گھس کر نظر دوڑائی لیکن کہیں سے بھی نہیں ملے۔ یاد بھی نہیں آرہا تھا کہ کہاں رکھ کر بھول گئے ہیں۔ داشتہ بکار آید کے طور پر ایک اضافی بتیسی ہم نے سنبھال رکھی تھی وہ ڈھونڈ کر نکالی لیکن وہ منہ میں ٹھیک طرح بیٹھ نہیں رہی تھی یا بتیسی پھیل گئی تھی یا پھر منہ سکڑ گیا تھا۔ ہمارے دوست ڈاکٹر فرید نے مقامی طور پر یعنی جب ہم گائوں میں ہوتے ہیں ہمارے دانتوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ وہ ہمیں اپنے نائب اور جوانسال ڈاکٹر عثمان کے سپرد کردیتے ہیں۔ جانے ڈاکٹر عثمان نے کیا ہنر آزمایا کہ تھوڑی سی کاوش کے بعد وہ بتیسی کار آمد ہوگئی۔ ہم نے انہیں ایک اضافی بتیسی کی فرمائش کردی۔ ان کی ہدایت تھی کہ دانتوں کو منہ سے نکالنے کے بعد ان پر کڑی نظر بھی رکھیں۔ بلی بھی مصنوعی دانتوں کے سرخ مصالحے پر گوشت کا گمان کرکے بھگا لے جاتی ہے۔ کل ایک بابا کی بتیسی کوا اڑا کر لے گیا۔ لگتا ہے ہماری بتیسی بھی گھر کی پالتو بلی کہیں نگل چکی تھی۔ یہ تو ہماری خوش نصیبی ہے کہ آج کل دانتوں کی سائنس نے کافی ترقی کرلی ہے۔ ابن انشاء نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ہمارے ملک میں بے ڈگری کے ڈاکٹروں کی کمی نہیں سبزے کی طرح انہیں کہیں جگہ نہ ملی تو فٹ پاتھ پر ہی کاہی جم کر بیٹھ گئے ہیں۔ بعض تو ان میں سے ایسے با کمال ہیں کہ منہ میں (مریض کے منہ میں) انگلی ڈال کر انجکشن دئیے بغیر دانت نکال لیتے ہیں اور اس میں ان کی یہ تخصیص نہیں کہ دانت بیمار تھا یا تندرست۔ ہمارے ایک دوست نے ایسے ہی ایک ڈاکٹر سے دانت نکلوایا تھا۔ اس نے زنبور ڈالا اور دانت نکال کر ہمارے دوست کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ دانت ہی نہیں اس کا چھلا اور پلیٹ بھی۔ یہ وہ مصنوعی دانت تھا جو بیمار دانت کے پڑوس میں واقع تھا۔ سچ ہے صحبت طالح ترا طالح کنند۔ ہمارے دوست نے احتجاج کیا تو وہ ڈاکٹر صاحب بتیسی نکال کر بولے اسے بھی بدلوا لیجئے۔ آج کل مصنوعی دانتوں میں بھی کیڑا لگ جاتا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں اب وہ دن گئے جب لوگ ہم سے کہا کرتے تھے کہ دندان تو جملہ دردہا نند۔ عاقبت کا بھی خیال آتا ہے ایک پرانے شاعر نے لکھا ہے 

جہاں میں عاقبت کے واسطے توشہ لیا گیا ہے؟

بتا کے دانت ہیں منہ میں ترے کھایا پیا کیاہے؟

باقی حساب تو ہم دے لیں گے لیکن دانتوں کے معاملے میں دانتا کل کل ضرور ہوگی۔ ہم نے بعض دوستوں کے منہ میں سونے کے دانت بھی لگے دیکھے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب سونا ڈیڑھ سو روپے تولہ تھا اب تو ایک تولہ سونے کی قیمت سے پوری مصنوعی بتیسی لگوائی جاسکتی ہے۔ ویسے ابن انشاء کے مطابق ہر چیز کاایک روشن پہلو بھی ہوتا ہے۔ ہم سے مختلف اوقات میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملک پر جان قربان کردو۔ قوم کے سر چڑھ کر مر جائو۔ سر محبوب کے قدموں میں رکھ کر اسے تن سے جدا کرنے کی آفر دو۔ ہم سیدھے سیدھے چھاتی نکال کر کہہ سکتے ہیں ' کیسی قربانی اورکہاں کی قربانی۔ ہمارے تو ایک نہیں تین دانت جھڑ چکے ہیں ہماری تو قربانی ہی شرعاً جائز نہیں۔ البتہ آج کے سیاستدانوں پر ایک فوقیت ہمیں ضرور حاصل ہے ان کے کھانے اور دکھانے کے دانت الگ الگ ہوتے ہیں۔ ہم یہ منافقت نہیں کرتے ہمارے کھانے اور دکھانے کے دانتوں میں کوئی فرق نہیںہے۔ دونوں سے ایک کام لیتے ہیں لو۔ فرہنگیال ہماری نئی بتیسی اٹھا کر لے آیا ہے۔ اجازت دیجئے۔

متعلقہ خبریں