Daily Mashriq


مثبت رویئے اپنائیے

مثبت رویئے اپنائیے

لوگ گپ شپ کیلئے چھپر ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں۔دیہات میں یہی ہوٹل اخبار دیکھنے ،حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے اور جہاں دُنیا کے مسائل پر بحث مباحثے کیلئے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔اکثر دیہات میں کام کاج اور روزگار کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ بے روزگار ہوتے ہیں۔ لہٰذا فارغ ہونے کی وجہ سے یا گاؤں کے اڈے پر واقع چھپر نما ہوٹلوں میں بیٹھ کر وقت گزارتے ہیں۔ہوٹل کے مالکان نے چائے میں سرور پیدا کرنے کیلئے ڈوڈہ کا استعمال شروع کررکھا ہے۔جس کا ایک کپ چائے پینے سے ایک عجیب سرور پیدا ہوتا ہے اور چائے کے شوقین حضرات صرف اس مخصوص چھپر ہوٹل پر چائے پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہاں پر چائے پینے کا نشہ ہی الگ ہے۔جو دوسرے چائے کے پیالیوں میں نہیں پایا جاتا ۔ایک کپ چائے پینے کے بعد مزے مزے سے اخبار کی سرخیاں پڑھتے ہیں اور سیاست پر تبصرے کئے جاتے ہیں۔چائے پینے والے شوقین حضرات میں زیادہ تر تعداد عمر رسیدہ لوگوں کی ہوتی ہے۔ جوچائے کی لذت کی بجائے چائے کے رنگ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔جتنا کڑا رنگ ہوگااُتنی چائے اچھی ہوگی۔جبکہ جتنی ملاوٹ زیادہ ہوگی ۔اُتنا ہی چائے کا رنگ گہرا نظر آئے گا۔

چائے میں مختلف قسم کے کیمیکلز اور رنگ ملائے جاتے ہیں۔جو کہ صحت کیلئے مضر اور نقصان دہ ہے۔لیکن اس کے باوجود لوگ رنگ دار چائے کو پسند کرتے ہیں ۔ بعض چائے کمپنیوں کا کاروبار صرف رنگ کی بنیاد پر چل رہا ہے۔خاص طور پر چند مقامی کمپنیاں اس دھندے میں مبینہ طور پر ملوث پائی جاتی ہیں۔جو انسانوں کی صحت سے کھیلتی ہیں۔اپنے منافع کی خاطر لوگوں کی صحت کو تباہ کرتی ہیں۔چھپر ہوٹل کے ایک کونے میں چند اشخاص نظر آتے ہیں۔ جن کے ہاتھوں پر کپڑا لپٹا ہوتا ہے ۔بادی النظر ایسا دکھائی دیتا ہے ۔جیسے ہاتھ زخمی ہولیکن دراصل اس کپڑے کے نیچے ایک عدد بٹیر ہوتا ہے۔ جگا کر لڑائی کیلئے تیار کرتے رہتے ہیں۔جاگتے رہنے سے بٹیر ہلکا پھلکا اور سمارٹ ہوتا ہے ۔جتنا بٹیرا سمارٹ ہوتا ہے ۔ اتنی ہی بہتر لڑائی کرسکتا ہے۔چھپر ہوٹل یا اس کے ارد گرد مخصوص ٹھکانے بٹیروں کے شو قینوں کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔چھپر ہوٹل میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا اپنا ایک معیار ہے ۔وہ بے شک اٹک پار نہ گئے ہوں لیکن بات واشنگٹن کی کرینگے۔کرکٹ کی ابجد سے ناواقف ہوں۔لیکن ہر کھلاڑی پر مکمل تبصرہ کرینگے اور ہر بال کا تجزیہ کردیں گے اور اگر پاکستان میچ ہار جائے تو جذبات سے مغلو ب ہو کر اپنے ٹی وی سیٹ توڑ دینگے۔جذباتیت کی رو میں بہہ کر فیصلے کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور ہار کو قبول کرنا سپورٹس مین اسپرٹ کا حصہ ہے۔لیکن ہماری سوچ میں صرف جیتنا ہے۔ہارنے کی گنجائش نہیں ہے۔لیکن جیت پر رد عمل کا اظہار بھی مثبت طریقے سے کرنا چاہیے۔ایسی جیت اور خوشی کس کام کی ۔جس کے نتیجے میں وہ خوشی غم میں تبدیل جائے۔نئی نسل کے نوجوان جب ان کی کہانیوں کو سنتے ہیں۔یقین تو نہیں آتا۔کیونکہ آج کل کا نوجوان انٹر نیٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے باخبر ہوتا ہے۔لیکن ان کی باتوں کو مزے مزے سے سنتے ہیں ۔

لیکن آج کل ایک خبر آئی ہے کہ ایک ایسی موٹر گاڑی کی تیار ی زور و شور سے جاری ہے ۔جو سڑک پر تو چلے گی ۔ لیکن اگر محسوس کیا کہ سڑک پر خطرہ ہے تو وہ تھوڑی سی اونچائی پر جا کر اُڑ سکتی ہے۔یہ نئی ٹیکنالوجی واقعی حیران کن ہے۔محو حیرت ہوں دُنیا کیا سے کیا ہوجائیگی ۔ لیکن جو کچھ نیٹ پر ہو رہا ہے اور دکھایا جارہا ہے ۔جس نے نئی نسل کو اپنی حصار میں گھیر رکھا ہے ۔وہ اپنی جگہ ایک تباہی ہے ۔تباہی سے مراد نیٹ بذات خود تباہی نہیں ہے۔نیٹ پر اپنی تصویر اپ لوڈ کرانا ایک آسان کام ہے۔اسی طرح نیٹ سے دوسری تصاویر ان لوڈ کرنا بھی بہت آسان ہے ۔لیکن ایک تصویر کاچہرہ دوسری تصویر کے ساتھ جوڑنا اور توڑنا نئی ایجاد کا ایک کمال ہے۔اس کمال سے بعض سماج دُشمن عناصر طرح طرح کے فتنے بر پا کررہے ہیں۔لوگوں کے گھر تباہ کررہے ہیں۔دشمنیاں پیدا کررہے ہیں۔مقامی سیاست ہو یا بین الاقوامی سیاست ہو یا قومی سیاست ہوصبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔یا کسی خوشی کے موقع پر خوشی منانے کا انداز ہو۔جب بھی صبر کا دامن چھوٹتا ہے تو نقصان کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔جس سے بچنا چاہیے۔فائرنگ کے آئے دن واقعات سے کئی نقصانات اُٹھانے پڑتے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں ہوائی فائرنگ کا رواج بچے کے پیدائش کے موقع سے شروع ہوجاتا ہے اور ہر خوشی کے موقع پردہریا جاتا ہے۔عجیب رسمیں ہیں کہ بچے کی پیدائش کے وقت جن جن لوگوں نے بچے کی آنے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کی ہواُس کی دعوت کی جاتی ہے اور دعوت کو '' ڈزو روٹئی '' کا نام دیا جاتا ہے۔بڑے فخر سے ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جس سے اس فعل کی مذمت کرنے کی بجائے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔عید کے موقع پر بھی اس مذہبی تہوار کو منانے کیلئے ایسا رویہ اختیا ر نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے یہ خوشی غم میں تبدیل ہو جائے۔عید کے بعد کئی ایسے حادثات رونما ہوئے جس سے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔دریائے اٹک میں کشتی اُلٹنے سے چار نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہارگئے۔سڑکوں پر موٹر سائیکل والے جیٹ جہاز کی طرح سفر کرتے ہیں۔جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔مقصد خوشی منانے کا ہے ۔نہ کہ اس خوشی کو غم میں تبدیل کرنے کا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے ہوش و حواس میں رہ کر ہر کام کو سرانجام دینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں