Daily Mashriq

مودی کا دورہ اسرائیل اور اس کے مضمرات

مودی کا دورہ اسرائیل اور اس کے مضمرات

1947ء میں جب پاکستان اور بھارت آزاد ہوئے تو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو دنیا میں تاریخی لحاظ سے یہ سہولت حاصل تھی کہ امریکہ اور روس اسے مستقبل میں معاشی و اقتصادی لحاظ سے ایک بڑی منڈی کے طور پر دیکھ رہے تھے جبکہ اسلامی دنیا میں روسی بلاک کے زیر اثر ممالک مصر' شام ' عراق اور فلسطین کے یاسر عرفات اور بعض چھوٹے خلیجی ممالک ''ہند'' کے تاریخی نام سے بہت متاثر تھے۔ عربوں کا ہند اور سندھ سے قدیم تاریخی' تجارتی تعلق بھی رہا ہے لیکن قیام پاکستان کے دوران قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کی دور بین نگاہوں نے فلسطین میں صیہونی ریاست کے قیام کے تانے بانے محسوس کئے تھے اس لئے انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی اور ابہام کے فلسطینی سر زمین پر صیہونی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کی تھی اور تحریک پاکستان کے دوران فلسطین کے مفتی اعظم آمین الحسینی سے ملاقات کرکے مسلمانان ہند اور پاکستان کے قیام کے بعد اہل فلسطین کو اپنی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسرائیل کے ناجائز وجود کے وجود میں آنے کے خلاف قائد اعظم کا دو ٹوک اور مدلل موقف آج بھی تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کو تحریک پاکستان کے جذبہ محرکہ یعنی دو قومی نظریہ سے یہ بات بخوبی واضح ہوچکی تھی کہ وسیع رقبے اور حب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرشار ایک بڑی قوم مستقبل میں اسرائیل کے مقابلے میں ہمیشہ عربوں کی حمایتی اور پشتیبان ہوگی اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ پاکستان نے ہمیشہ اہل فلسطین کی ہر فورم پر دامے درمے سخنے حمایت و مدد کی ہے۔ لیکن آمین الحسینی کے بعد جب مسئلہ فلسطین کی باگ ڈور یاسر عرفات کے ہاتھ میں آئی اور وہ فلسطین کی آزادی کے لئے گوریلا اور چھاپہ مار جنگ کے بجائے امریکہ' اقوام متحدہ اور یورپ کے دام میں آکر مذاکرات کی میز پر آیا اور کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدات میں پھنس گیا تو پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے زیادہ قریب ہوا اور ویسے بھی وہ ایک سیکولر لبرل سیاستدان تھا۔ لہٰذا اندرا گاندھی کے دور میں بھارت کے کئی دورے کئے۔ اس وقت اندرا اور بعد کے بھارتی حکمرانوں نے عربوں سے تیل کے حصول اور انہیں خوش رکھنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات روایتی ہند و و ا نہ مکاری اور (پنڈت چانکیہ) کے فلسفہ کے مطابق استوار نہیں کئے۔ لیکن بعد میں بعض خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے معلوم ہوا کہ ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ پہلے دن ہی سے در پردہ اور زمین دوز تعلقات قائم چلے آرہے تھے۔ یہ رشتہ و پیوند ان دونوں کے خمیر میں سامری کے گئو سالہ پرستی کے دور سے موجود تھا۔ لیکن جب عربوں کو خدا نے تیل کی دولت سے مالا مال کیا تو ہندوستان کے ہندو بنیا نے اس سے بھرپور انداز میں مستفید ہونے کی غرض سے خلیجی ممالک کی خوشنودی کے لئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار نہ کرکے ان پر گویا احسان کیا۔ حالانکہ یہ سب کچھ مادی مفادات کے حصول اور اپنے لاکھوں بے روز گار مزدوروں کو وہاں کھپانے کے لئے تھا۔ آج بلا مبالغہ خلیجی ممالک میں بھارتیوں کی تعداد کروڑ تک پہنچی ہوگی۔ وہاں خاکروب سے لے کر ڈاکٹر اور انجینئر اور سافٹ ویئر کے شعبے میں ہندوستانی ہی ہندوستانی ہیں۔ لیکن اس وقت چونکہ گلوبل نقشہ تبدیل ہوچکا ہے اور عرب ممالک سخت انتشار کا شکار ہیں اور سعودی عرب میں ٹرمپ کے تازہ دورے نے خلیجی ممالک (جی سی سی) کے درمیان جو گل کھلا دئیے ہیں اس نے نریندر مودی جیسے متعصب اور گجرات کے قصاب کا لقب پانے والے کو امریکہ اور اسرائیل کے اتنا قریب کردیا کہ سارے پردے چاک ہوگئے ہیں۔لیکن اس کے باوجود عرب ممالک اور دیگر اسلامی ملکوں کے سر براہوں کو ہوش نہیں آتا۔ خلیجی ممالک نے قطر کا گھیرائو کیاہے اور ایران و سعودی عرب دو بڑے اسلامی ملک چوہے بلی کے کھیل میں الجھے ہوئے ہیں۔پاکستان کو پاناما نے گرفت میں لیاہے۔ صبح پاناما' شام پاناما' باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور پاکستان اس کے لئے کیا تیاری کرے؟ فرصت ہی نہیں کہ ان معاملات پر سوچا جائے۔ افغانستان میں تازہ دم نیٹو دستے یہاں پولو کھیلنے نہیں آرہے۔ بھارت جلال آباد و قندہار میں گھات لگائے مواقع کی تلاش میں ہے۔ مشرقی سرحد تو ہمیشہ سے گرم رہا ہے۔ آج بھی بھارتی چیف ڈھائی محاذوں (چین1' پاکستان1' کشمیر 1/2) پر لڑنے کی بڑھک مار رہا ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ اسلامی ممالک او آئی سی میں نئی روح و جان ڈال کر اپنے اندرونی اختلافات کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرکے اپنے خارجی محاذ پر ایک مضبوط و توانا آواز و قوت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پاکستان کے دشمن یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ عالم اسلام میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان کا قیام اتفاق نہیں مشیت ایزدی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت بڑا کام لینا ہے۔ جن لوگوں کی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ پر نظر ہے وہ حدیث ضرور مطالعہ کریں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے '' مجھے مشرق سے ٹھنڈی ہوائیں آتی محسوس ہوتی ہیں'' علامہ اقبال نے اسی کے پیش نظر فرمایا تھا۔

میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
وہی میرا وطن ہے وہی میرا وطن ہے
غزوہ ہند کی احادیث کا مطالعہ بھی آج کے تناظر میں مفید اور ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی اور پاک افواج کی حفاظت کرے۔ آمین

اداریہ