مشرقیات

مشرقیات

حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے اپنے ایک گورنر کو خط لکھاخط کے آخر میں یہ مضمون تھا فراخی اور وسعت والے حالات میں سختی والے حساب سے پہلے (جو قیامت کے دن ہوگا ) اپنے نفس کاخود محاسبہ کرو کیونکہ جو فراخی اور وسعت والے حالات میں سختی کے حساب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کر ے گاوہ انجام کا ر خوش ہوگا بلکہ اس کے حالات قابل رشک ہوں گے اور جس کو دنیا کی زندگی نے ( اللہ سے ، آخرت سے اور دین سے )غافل رکھا اور وہ برائیوں میں مشغول رہا تو انجام کا ر وہ ندامت اٹھائے گا اور حسرت و افسوس کرتا رہے گا جو نصیحت تمہیں کی جارہی ہے اسے یاد رکھو تاکہ تمہیں جن کاموں سے روکا جارہا ہے تم ان سے رک سکو۔ حضرت سعید بن ابی سعید مقبری فرماتے ہیں حضرت ابوعبیدہ بن جراح کی قبر اردن میں ہے جب وہ طاعون میں مبتلا ہوئے تو وہاں جتنے مسلمان تھے ان سب کو بلا کر فرمایا میں تمہیں وصیت کر نے لگا ہوں اگر تم اسے قبول کرو گے تو ہمیشہ خیر پر رہو گے نماز کو قائم کرو زکوٰة ادا کرو رمضان کے روزے رکھو صدقہ خیرات دو حج اور عمرہ کرتے رہو ایک دوسرے کو وصیت کرو اپنے امیروں کی خیر خواہی کرو ان کو دھوکہ نہ دو اور دنیا تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر نے پائے اگر کسی آدمی کو ہزار برس کی زندگی بھی مل جائے تو آخر اسے اسی جگہ جانا ہوگا جہاں آج تم مجھے جاتا ہوا دیکھ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم پر موت کو لکھ دیا ہے لہٰذا ان سب کو مرنا ہے اور ان میں سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو اپنے رب کی سب سے زیادہ اطاعت کرنے والا اور اپنی آخرت کے لئے سب سے زیادہ عمل کرنے والا ہے والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اے معاذبن جبل آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور پھر حضرت ابو عبیدہ کا انتقال ہو گیا پھر حضرت معاذ نے لوگوںمیں کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو ! تم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرو کیونکہ جو بندہ بھی گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کے سامنے حاضر ہوگا تو اس کا اللہ پر یہ حق ہوگا کہ اللہ اس کے سارے گناہ معاف کر دے لیکن اس توبہ سے قرض معاف نہیں ہوگا وہ تو ادا ہی کرنا ہوگا کیونکہ بندہ اپنے قرضہ کے بدلے میں گروی رکھ دیا جائے گا ہم میں سے جس نے اپنے بھائی کو چھوڑا ہوا ہے اسے چاہیئے کہ وہ خود جا کر اپنے بھائی سے ملاقات کرے اور اس سے مصافحہ کرے کسی مسلمان کو اپنا بھائی تین دن سے زیادہ نہیں چھوڑنا چاہیئے کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
حضرت معایہ بن قرة کہتے ہیں حضرت معاذبن جبل نے اپنے بیٹے سے فرمایا جب تم نماز پڑھنے لگو تو دنیا سے جانے والے کی طرح نماز پڑھا کرو اور یوں سمجھا کرو کہ اب دوبارہ نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور اے میرے بیٹے ! یہ بات جان لو کہ مئومن جب مرتا ہے تو اس کے پاس دو قسم کی نیکیاں ہوتی ہیں ایک تو وہ نیکی جو اس نے آگے بھیج دی دوسری وہ جسے وہ دنیا میں چھوڑ کر جارہا ہے یعنی صدقہ جاریہ ۔
(حیاة الصحابہ جلد سوم)

متعلقہ خبریں