Daily Mashriq

جمہوریت اور دستور سے متصادم مطالبات سے اجتناب کیجئے

جمہوریت اور دستور سے متصادم مطالبات سے اجتناب کیجئے

چند دیگر مذہبی و سیاسی رہنمائوں کی طرح سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے بھی اتوار کے روز مطالبہ کیاہے کہ پہلے احتساب اور پھر انتخابات ہونے چاہئیں۔ یہ چند ہی نہیں اور بھی بہت سارے یہی سوچ رکھتے ہیںاور ہمیشہ ایسے وقت میں یہ مطالبہ لے کرمیدان میں اترتے ہیں جب نگران دور ہو یاکوئی آئین شکن اقتدار پر قابض۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہور کے حق رائے دہی کو کچلنے والے آمروں کے ادوار میں پھلے پھولے مذہبی و سیاسی رہنمائوں کو احتساب سے زیادہ دلچسپی اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے پاس ایوان اقتدار میں داخلے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ احتساب اور وہ بھی بلا امتیاز احتساب 22کروڑ پاکستانیوں کا ہمیشہ مشترکہ مطالبہ رہا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ جب کبھی کسی کا احتساب شروع ہوا تو خود مطالبہ کرنے والے دو حصوں میں تقسیم دکھائی دئیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مواقع پر اس وقت کی حکومت نے احتساب کے عمل کو اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام کے لئے استعمال کیا جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا۔ اس کی متعدد مثالیں ہیں فی الوقت ایک مثال پیش کرنا ضروری ہے کہ 1990ء کی دہائی میں نواز شریف حکومت پیپلز پارٹی کا احتساب کر رہی تھی تو باقاعدہ طور پر حکومتی ذمہ داروں نے اسوقت ججز کو فون کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو سات سے دس سال کی سزائیں دینے کی فرمائش کی۔ احتساب عدالت کے دو ججز نے حکومت کی اس خواہش کو عملی شکل دی مگر بعد ازاں حکومتی عہدیداروں اور ججز کی ٹیلی فونک گفتگو کا ریکارڈ سن کر سپریم کورٹ نے اس متنازعہ فیصلے کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ دوبارہ چلانے کاحکم دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہی دو جج صاحبان کو اپنے منصبوں سے الگ ہونا پڑا۔ احتساب کے عمل کو شخصی انتقام اور ذاتی تسکین کے طور پر استعمال کرنے کی اس سے بد ترین مثال پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وقت ملک میں بعض حلقے شریف فیملی کے احتساب کو بھی کسی کے انتقام کا نام دیتے ہوئے حقائق کو مسخ کر رہے ہیں حالانکہ احتساب کے ابتدائی عمل کا90فیصد حصہ خود نون لیگ کے اپنے دور اقتدار میں مکمل ہوا۔ جناب نواز شریف عدالتی فیصلے پر نااہل ہوئے تو نون لیگ نے متفقہ طور پر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم منتخب کیا یہ تاثر دینا کہ کچھ لوگ یا ادارے منتخب حکومت سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے مرضی کا احتساب کیا اس منطق کو درست مان لیا جائے تو عوامی حلقوں میں بعض فیصلوں کے حوالے سے جو رائے موجود ہے وہ بھی مبنی بر حقیقت ماننا ہوگی۔ ہماری دانست میں الزام تراشی یا شخصیات و اداروں کو بے توقیر کرنے کی مہم کسی بھی طور پر درست نہیں۔ ملزم و مجرم کو ئی بھی ہو انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ جہاں تک پہلے احتساب اور پھر انتخابات کے مطالبے کا تعلق ہے تو ان مطالبات کی آڑ لے کر اس ملک پر دو فوجی حکمران گیارہ اور دس سال تک قابض رہے نتیجہ کیا نکلا؟ یہی کہ انہوں نے ایک نئی قسم کی سیاسی مخلوق متعارف کروائی جس نے کرپشن اور لوٹ مار کے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ایک فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے جب میر ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم بنوایا تھاتو محترم جمالی صاحب اس وقت عدالتی مفرور تھے۔ کاش انہوں نے اس وقت اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تقاضا کیاہوتا کہ پہلے گندم سکینڈل کا فیصلہ ہو جائے پھر وہ وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ لاریب احتساب ہوناچاہئے منتخب ادارے احتساب کے عمل کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کے لئے ایسی قانون سازی کریں کہ اس عمل میں کوئی شخصیت یا ادارے آڑے آئے نہ مرضی کے اقدامات کروا سکے۔ ایک آزاد و خود مختار احتساب کا ادارہ ملک میں بلا امتیاز احتساب کو رواج دے لیکن احتساب پر جمہوری عمل کو قربان نہیں کیا جانا چاہئے۔ انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد اور رائے دہندگان کا پسند کی قیادت کا انتخاب کرنا آئینی تقاضا ہے۔ افسوس ہے کہ نصف صدی سے سیاسی عمل میں شریک اور اعلیٰ حکومتی منصب حاصل کرنے والے عوام کے حق رائے دہی اور آئینی تقاضوں کو پامال کرنے کے مطالبات سے جی بہلاتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ پہلے احتساب اور پھر انتخابات کا مطالبہ کرنے والوں نے جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے طرز حکمرانی میں اس قوم و ملک کے 21سال ضائع ہونے اور ان ادوار میں پیدا ہوئے سماجی‘ سیاسی‘ معاشی اور خارجی مسائل کو سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کی۔ ہمارے بہت سارے نامور سیاسی رہنمائوں نے جنرل ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار میں اس طرح کے نعرے بلند کئے تھے اس کا نتیجہ کیا نکلا ماسوائے اس کے کہ عوام کے حق حکمرانی کی پامالی کے ادوار طویل ہوئے۔ اب جبکہ انتخابات کے انعقاد میں مشکل سے 15دن باقی ہیں پھلجڑیاں چھوڑی جا رہی ہیں زیادہ مناسب اور سیاسی دیانت پر مبنی بات یہ ہوگی کہ عوام سے اپیل کی جائے کہ وہ ذات ‘ برادری‘ لسانی تعصب‘ مسلکی اور دوسری محبتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحدہو کر ایک حقیقی عوام دوست قانون پسند اور دیانتدار قیادت کا انتخاب کریں۔ ہم ان بزرگوں کی مجبوریاں سمجھ سکتے ہیں جو انتخابی عمل کو سبو تاژ کرنے کی امیدیں پالے ہوئے ہیں۔ مگر انہیں یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ نگران حکومت کے پاس انتخابات کے التواء کا کوئی جواز ہے نہ اسے ایساکرنے کا قانونی حق۔ عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق آئین نے دیاہے اور آئین ہی اس ملک کی سپریم اتھارٹی ہے۔ اداروں اوران سے منسلک شخصیات کو آئین کی طے کردہ حدود میں رہ کر ہی فرائض ادا کرنے ہیں۔ اندریں حالات بہت ادب کے ساتھ سازشی مطالبات سے کھیلنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ وہ عوام کے جمہوری حقوق اور ووٹ کے تقدس کا احترام کریں اور سب مل کر اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابی عمل پر امن طریقہ سے مکمل ہو تاکہ ایک منتخب قیادت ملک و قوم کو ان مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرسکے جو دن بہ دن گمبھیر صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں