Daily Mashriq

قومی سیاست کے انوکھے لاڈلے

قومی سیاست کے انوکھے لاڈلے

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ پنجاب کو ملائشیاء اور ترکی بنا دیں گے ایسا نہ کرسکے تو ان کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ شہبازشریف اس وقت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ایک شخص جسے اس کی جماعت نے ملک کے وزیر اعظم کے طور پرامیدوار نامزد کر رکھا ہے وہ فیڈریشن کی اکائیوں کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے پروگرام پیش کرنے کی بجائے محض ایک صوبے کی ترقی کو اپنا خواب بتا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پچھلے دس برسوں میں جب وہ دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ان کا پنجاب صرف آبائی شہر لاہور تک محدود تھا۔ اب حکومت ملنے کی صورت میں پاکستان پنجاب اور لاہور تک محدود رہے گا۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس سوچ پر افسوس ہی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ کیا شہباز شریف اس امر سے لا علم ہیں کہ ان کے اس بیان کے کیا منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں؟ یہ کہنا درست ہوگا کہ انتخابی عمل کے دوران بعض سیاستدانوں کے اندر کا سچ باہر آرہا ہے جیسے اگلے روز سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا کوئی وجود ہی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ادارہ سیاستدانوں کو توڑنے کے لئے بنایاگیا ہے۔ اس سادگی پر کیا عرض کیا جائے ماسوائے اس کے کہ جناب عباسی اور ان کے ہمنوا لوٹ مار کی آزادی چاہتے ہیں اور اسے حق بھی سمجھتے ہیں۔ ملک کے اہم ترین منصبوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے مذکورہ خیالات پر افسوس تو بہر طور ہے ہی مگر یہ حیرانی بھی ہے کہ رائے دہندگان کیسے سادہ اطوار ہیں کہ وہ بار بار ان لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جن کے نزدیک صوبہ پرستی اور کرپشن جائز اور ملکی یکجہتی و قانون کی بالا دستی غیر اہم ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت کے ایک نوجوان شہید برہان وانی کے یوم شہادت کے موقع پر کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی انسانیت دشمن پالیسی پر عمل پیرا قابض فوج نے جس درندگی اور لا قانونیت کا مظاہرہ کیا اس پر عالمی قوتوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ کشمیریوں کی تحریک حریت کے اس دور میں جس کاآغاز 1984ء میں حریت پسند رہنما مقبول بٹ کی شہادت سے ہوا 35سالوں کے دوران ایک لاکھ کے قریب کشمیری مسلمان شہید اور ہزاروں زخمی و معذور ہوچکے ہیں۔ اس دوران عفت مأب کشمیری خواتین کے ساتھ قابض فوج کے انسانیت سوز سلوک کے سینکڑوں واقعات بھی منظر عام پر آئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پچھلے 35برسوں کے دوران پاکستان کے علاوہ ایک دو برادر اسلامی ممالک کے سوا کسی نے بھی قابض فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی اور دوسرے گھنائونے مظالم پر رسمی احتجاج کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بھارتی مظالم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ بھارت سے وابستہ معاشی و سیاسی مفادات ہیں طاقتور ممالک کی عالمی کمپنیوں نے بھارت میں لگ بھگ 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اپنے ممالک کی سیاست اور نظام حکومت پر گرفت رکھنے والے سرمایہ داروں کے نزدیک انسانی لہو اور قومی آزادی سے زیادہ اہم معاشی مفادات ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کے یہی بڑے عیسائی آبادی والے علاقوں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو آزادی دلوانے اور مالی امداد فراہم کرنے میں پیش پیش لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر میں 35 برسوں سے جاری وحشیانہ مظالم پر انہوں نے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد حق خود ارادیت پر عمل کروانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں