Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

خلیفہ مہدی نے ایک رات خواب دیکھا تو خوف زدہ ہو کر جاگ گیا ۔ اپنے سپاہی کو بلایا اور اس سے کہا :’’تم اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر اس بات کی قسم کھائو کہ ابھی جو حکم میں تمہیں دوں گا ، اس کی تعمیل کرو گے ‘‘۔ وہ سپاہی کہتا ہے : ’’میں نے کہا : کہاں میرا ہاتھ اور کہاں امیرالمومنین کا سر مبارک ، لیکن میں ضرور اس کو پورا کروں گا اور میں نے عہد و پیمان کیا کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا ‘‘۔

مہدی نے کہا :’’یہ دستخط نامہ لو ، قید خانے جائو اور فلاں علوی حسینی کو ڈھونڈ و اور جب وہ تمہیں مل جائے تو اسے قید سے نکال کر دوباتوں کا اختیار دو کہ یا تو وہ ہمارے پاس آزاد ہو کر عزت و عیش کے ساتھ رہے یا پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جائے ‘‘۔

اگر وہ جانا پسند کرے تو تم اسے فلاں فلاں چیز اور اتنا اتنا سامان دے دینا اور اگر وہ یہاں رہنا پسند کرے تو اسے اتنا ، اتنا مال دے دینا ۔

سپاہی نے وہ دستخط نامہ اٹھا یا اور جیل کی طرف چل پڑا۔ اس کا بیان ہے کہ میں نے جیل میں داخل ہو کر اس نوجوان کو ڈھونڈا تو وہ مجھے مل گیا ، وہ نکل کر میرے پاس آیا ۔ وہ ایک بوسیدہ کپڑے کی طرح نظر آرہا تھا ۔ میں نے اسے امیر المومنین کا پیغام سنایا اور اس کو دونوں صورتوں سے آگاہ کیا ۔ اس نے پیغام سن کر مدینہ منورہ اپنے گھر والوں کے پاس جانے کو اختیار کیا تو میں نے تحفے اور سواریاں اس کے حوالے کئے ۔ جب وہ سوار ہو کر جانے کے لیے آیا تو میں نے کہا: ’’اس ذات کی قسم ! جس نے تم پر سے مشقت کو دور کیا ، کیا تم جانتے ہو کہ امیرالمومنین نے تمہیں کس وجہ سے رہا کیا ؟‘‘قیدی کہنے لگا :’’جی ہاں ، سنو !خدا کی قسم میں جب رات کو سو رہا تھا تو میں نے خواب میں رسول اقدسؐ کو دیکھا ، آپؐ نے مجھے جگایا اور فرمانے لگے : ’’اے میرے بیٹے :ان لوگوں نے تم پر ظلم کیا ہے۔ ’’ میں نے کہا :جی ہاں اے اللہ کے رسول ؐ!‘‘۔ تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا : ’’اٹھواور دو رکعت پڑھوں اور اس کے بعد یہ کہو: ترجمہ : ’’ اے پکار کو سننے والے ، اے موت کے بعد ہڈیوں کو ترتیب دے کر زندہ کرنے والے ! محمدؐ اور ان کے گھروالوں پر سلامتی اور برکت نازل کیجئے اور میرے اس معاملے میں آسانی کر دیجئے اور نکلنے کا کوئی ذریعہ بنا دیجئے ۔ آپ کو پورا علم ہے اور مجھے کچھ علم نہیں اور آپ ہی قدرت رکھتے ہیں اور مجھ میں اتنی قدرت نہیں اور اسے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! آپ تو غیب کی باتوں کو بھی خوب جاننے والے ہیں ‘‘۔ وہ قیدی کہتا ہے : ’’ میں اٹھا ، نماز پڑھی اور ان کلمات کو مسلسل دہراتا رہا یہاں تک کہ مہدی نے مجھے بلالیا ‘‘۔ سپاہی کہتا ہے :’’میں نے خدا کا شکراد اکیا کہ جس نے مجھے اس نوجوان سے اس بات کی پوچھنے کی توفیق دی ۔ میں مہدی کے پاس گیا اور ان کو سارا قصہ سنادیا ‘‘۔انہوں نے کہا :’’خدا کی قسم ! اس نے سچ کہا ۔ مجھے بھی خواب میں رسول اقدسؐ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپؐ نے مجھے اسے رہا کرنے کا حکم فرمایا ‘‘۔ (سنہری واقعات)

متعلقہ خبریں