Daily Mashriq


ووٹ کس کو دو گے ؟؟

ووٹ کس کو دو گے ؟؟

گزشتہ دنوں وقت سے پہلے ہونے والی مون سون کی بارشوں نے ہمارے اس دعوے کو تقویت بخشی تھی کہ ساون رت وقت سے بہت پہلے آن پہنچی ہے۔ موسموں کا حساب رکھنے والے پرانے اور سیانے لوگ بکرم جیت کے صدیوں پرانے کیلنڈر کی تقلید کرنے کے عادی ہیں۔وہ بکرم جیت کے کیلنڈر کے مہینوں کو دیسی کیلنڈر یا جنتری کہتے ہیں۔ دیسی کیلنڈر بہت سے حوالوں سے انگریزی یا عیسوی کیلنڈر اور قمری ہجری یا اسلامی کیلنڈر سے مختلف ہے۔ پرانے لوگ انگریزی، شمسی یا عیسوی کیلنڈر کے ساتویں مہینے یعنی جولائی کی پہلی تاریخ کو ساون کی آمد آمد کی اطلاع قرار دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ساون کی ’پکھ ‘ پڑ چکی ہے۔ یعنی موسم میں ساون کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ ہر سال ساون کی پکھ اگر جولائی کے مہینے کی پہلی تاریخ کو پڑتی ہے تو ساون خود جولائی کے وسط یعنی پندرہ جولائی تک آدھمکتا ہے۔ یہ آ دھمکنے کا لفظ بھی بڑا عجیب ہے ، ہر اس بندے یا مہمان کے بار ے میں کہا جاتا ہے جو مہمان کم اور بلائے جان زیادہ ہو۔ پشاور والے ساون رت یا ساون کے مہینے کو’ پشاکال ‘کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس مہینے کے دوران اہالیان پشاور پسینے سے شرا بور نظر آتے ہیں۔ اگر ساون کے مہینے میں ہوا چلنا بند ہوجائے تو جینا محال ہوجاتا ہے۔ ایسے میں بجلی کی بندش یا لوڈ شیڈنگ قیامت بن کر ٹوٹ پڑتی ہے۔ پر سچ تو یہ بھی ہے کہ لوگ اس عذاب کو سہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ پسینہ خشک نہ ہونے کی وجہ ہوا میں نمی کی مقدار ہے جس میں اس قدر اضافہ ہوجاتا ہے کہ اس میں پسینہ خشک کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ نہ صرف جسم پر آیا ہوا پسینہ خشک نہیں ہو پاتا بلکہ ہر وہ چیز اتنی آسانی سے خشک نہیں ہو پاتی جو کسی وجہ سے گیلی ہوچکی ہو۔ ہوا میں نمی کی مقدار میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سینکڑوں اور ہزاروں میلوں کی مسافت طے کرکے آنے والے وہ بادل ہوتے ہیں جنہوں نے مون سون کی ہوائیں سطح سمندر سے نمی اور بھاپ لیکر خشکی سفر اختیار کیا ہوتا ہے ۔ یہ ہوائیں فضاؤں میں سمندروں کی سوغات لیکر اٹھتی ہیں ۔ اور دور دیسوں میں پہنچنے کے بعد گھنگور گھٹاؤں اور کالے بادلوں کا روپ اختیار کر لیتی ہیں ۔ یہ بادل جہاں برستے ہیں وہاں کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ ان کے برسنے سے ہاڑ کی گرمی کا زور ٹوٹنے لگتا ہے ، اکثر مقامات پر ساون رت کا استقبال باغوں میں جھولے ڈال کر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ساون رت میں باغوں میں جھولے پڑتے ہیں اور لوگ دل کھول کر ساون رت کی خوشیاں مناتے ہیں ، لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ ساون رت پشاور اور گردو نواح تک پہنچتے پہنچتے باسی ہوجاتی ہے۔ بازاروں میں چلتے پھرتے لوگ اپنے اندر سے پھوٹنے والے پسینے سے سر سے پاؤں تلک شرابور ہو جاتے ہیں۔ جس کو دیکھو گیلے کپڑے پہنے زندگی کے معمولات سے نباہ کر تا نظر آتا ہے ۔ ہو ا میں نمی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کمپیوٹر، پرنٹر، فوٹو سٹیٹ مشینوں اور الیکٹرانک کے دیگر حسا س آلات اور مشینری کی کارکردگی میں فرق پڑنے لگتا ہے اور بعض کو تو خراب ہونے میں دیر نہیں لگتی ، ساون رت کے دوران فضا میں موجود سو ڈگری سنٹی گریڈ تک کھولتی نمی کا نہ صرف عام استعمال کی مشینری پر منفی اثرات پڑتے ہیں ،بلکہ جسم پر بھی بے حد نقصان دہ اور ناقابل برداشت اثرات مرتب ہوتے ہیں ، سارے جسم پر پت دانے اور پھنسیاں نکل آتی ہیں، جلدی بیماریاں عام ہوجاتی ہیں اور ڈاکٹرحکیموں کی دکانوں پر ساون کے عذاب سے متاثر ہونے والوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں ۔ ساون کے موسم میں پشاور اور گردو نواح کے لوگ ساون کی بارش کے دوران یا بارش کے برسنے کے بعد آسمان سے اترتے ساون کے کیڑوں اورپتنگوں کے لشکر جرار کا بھی سامنا کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جب چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں ، ہمارا مشاہدہ ہے کہ چیونٹی کی موت ساون کے موسم کی بارشوں کے دوران ہی آتی ہے اور اس کے پر اس ہی موسم میں نکلتے ہیں ، تب و ہ یعنی چیونٹی اور اس کا قریب دار مکوڑا چیونٹی اور مکوڑے نہیں رہتے ، ساون کے موسم میں اڑتے اور ہر کس و ناکس کے ناک میں دم کرتے ساون کے کیڑے بنکر اڑنے لگتے ہیں ، پتنگے کا شمع پر جل مرنے کا رومانوی کھیل اس ہی مہینے کھیلا جاتا رہا ہوگا، لیکن اب پتنگے اور اس کے قبیلے کے لکھوکھا افراد کو مرنے کے لئے شمع کی ضرورت نہیں پڑتی وہ بجلی کے بلبوں اور انرجی سیورز ہی پر اپنی جاں نثار کرنے کے لئے اڑتے پھرتے ہیں لیکن اس وقت

بہت نکلے مرے ارماں ،مگر پھر بھی کم نکلے

کے مصداق وہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہتے ہوئے متاع جاں کو ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں لوڈشیڈنگ گزیدہ لوگوں کی طرح جو ہاتھوں میں بجلی کے بل اٹھائے اور بلک بلک کر فریاد کرتے نظر آتے ہیں کہ بجلی تو آتی نہیں اور بل آ دھمکتے ہیں دن دیہاڑے ہمارے خون پسینہ کی اس کمائی کو لوٹنے ، ساون کے ستائے لوگ جب اپنی فریاد لے کر اپنے چہرے پر قوم کی تقدیر بدلنے والوں کا ماسک سجائے رہبروں کے ہاں پہنچتے ہیں تو وہ ان کی فریاد سننے کی بجائے کہنے لگتا ہے کہ’’ ووٹ کس کو دو گے ؟‘‘ ساون رُت کو برسات کا موسم بھی کہا جاتا ہے ، لیکن صاحبو، ہمیں تو یہ آہوں ، سسکیوں اور آنسوؤں کی برسات نظر آرہی ہے ، ایسے میں کوئی ہم سے پوچھ لے کہ ووٹ کس کو دو گے ، تو کہاں سے لے کر آئیں ساون رت میں برپا ہونے والے الیکشن کے سیزن کے اس برستے ساون جیسے سوال کا جواب

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

متعلقہ خبریں