Daily Mashriq


اندھوں کی بستی میں آئینہ فروشی

اندھوں کی بستی میں آئینہ فروشی

 نے اپنی ذات بابرکات کو علم کا شہر اور جنہیں اسی شہر علم کا دروازہ قرار دیا یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، تو یونہی نہیں کہا ، کہ حضرت علیؓ کی باتیں بھی حکمت ہی حکمت ہیں ۔ اور یہ انہی کافرمان ہے کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے ، ظلم کی نہیں ، خلیفہ چہارم کے انہی فرمودات کی روشنی میں جب ہم انگلستان کے ایک اہم سیاستدان اور دوسری جنگ عظیم کے دور کے وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کے ایک قول کو دیکھتے ہیں تو حضرت علیؓ کے الفاظ کی عظمت کا احسا س دو چند ہوجاتا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے ہاتھوں پے بہ پے ہزیمت اٹھانے کے ہنگام چرچل سے کسی نے جنگ کی صورتحال پر بات کی تو چرچل نے کہا کیا ہمارے ہاں عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں ؟ ۔ جواب ملا جی ہاں ۔ پھر سوال کیا آیا لوگوں کو انصاف مل رہا ہے ؟ جواب دیا گیا۔جی ہاں ۔ لوگوں کو انصاف مل رہا ہے ۔ اس پر چرچل نے کہا ۔ تو پھر ہم جنگ نہیں ہا ر سکتے ۔ انگلستان میں تو یہ بات چرچل بجا طور پر کہہ سکتا تھا مگر ’’خیالصتان ‘‘میں صورتحال اتنی حوصلہ افزا نہیں ہے ، کہتے ہیں کہ ’’خیالصتان ‘‘میں خیالی پلائو ہی پک رہا ہے ، اور کچھ مخولیئے سب کچھ پر قبضہ جما کر اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں۔ تجزیہ نگار ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے اگرچہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آج خیالصتان میں جن کے خلاف شکنجہ کسا جا چکا ہے ، وہ خود بھی جب اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان تھے تو انہوں نے بھی اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا ، اور اس وقت خیالصتان کی عدلیہ کو خریدنے کی ہر ممکن کوشش میں اکثر و بیشتر کامیاب ہو جاتے تھے ، جس طرح آج خیالصتان میں مبینہ طورپر مقدمات کے فیصلے ۔ یخ بستہ پنج ستاری ، بلکہ سات ستاری ہوٹلوں کے کمروں میں مرتب ہونے اور شاپنگ بیگز میں عدالتوں میں پہنچانے کی باتیں عام رہتی ہیں ۔ ویسے آج کے مجرموں یعنی گزرے کل کے مقتدروں کے دور میں عدلیہ کے ذمہ داروں کو ایسی ہدایات صرف فون پر دی جاتی رہی ہیں ۔ یعنی گزرے کل کے منصوبوں کو خود فیصلے (ہدایات کے مطابق ) لکھنے ہوئے جنہیں ستانے ہوئے نہ زبان لڑکھڑاتی تھی نہ فائل میں صفحات کے ادھر ادھر ہونے کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر در تاخیر کی صورتحال جنم لیتی تھی ، جبکہ آج خیالصتان کی عدالتوں میںجج فیصلے کیلئے چونکہ سکرپٹ کا محتاج ہونے کے الزامات کی زد میں رہتا ہے اس لئے حرکات و سکنات پر لڑکھڑاہٹ کا گمان فطری امر ہے، یوں فیصلے کے اوقات تبدیل ہونے کی ڈرامہ بازی بھی جاری رہتی ہے اور ڈرامے کی ریہرسل کے دوران جب کوئی اداکار پہلی بار سکرپٹ پڑھتے ہوئے روانی سے ڈائیلاگ نہیں بول سکتا تو زبان سے الفاظ کا لڑکھڑا کر پھسلنا فطری امر ہوتا ہے۔ خیالصتان کی عدالتوں کا یہ چلن دیکھ کر اکثر ماہرین قانون اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں اور جس قسم کے فیصلے صادر کئے جاتے ہیں ان کو درست قرار دینے میں انہیں تامل ہوتا ہے تاہم ایسے ماہرین قانون بھی ہیں جو ان فیصلوں کو درست سمجھتے ہوئے ان کی تائید کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک اہم ماہر آئین وقانون کابیان آیا تھا کہ جو فیصلہ آیا اس سے مرکزی ملزم کو ریلیف نہیں ملے گا ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے قیاس کے گھوڑے دوڑائے تو دور کی یہ کوڑی لیکر آگئے کہ عین ممکن ہے یہ فیصلہ لکھوانے میں خیالصتان کی اشرافیہ نے موصوف سے بھی آئینی اور قانونی مشاورت کی ہو۔ بہر حال یہ توصرف قیاس کی باتیں ہیں اور قیاس کا قیافہ شناسی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس قسم کی قیاسیات کا سیاسیات سے بھی کوئی رشتہ ناطہ جوڑنے میں مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں ، اس لئے ان قیاسیات کو خارج از امکان والی ردی کی ٹوکری میں ڈالا جا سکتا ہے ، تاکہ کوئی مسئلہ کھڑا نہ ہوسکے ۔ بلکہ خیالصتان کے سابق مقتدروں کی حالت زار کو دیکھ کر اگرچہ ترس بھی آتا ہے مگر جو لوگ اس قسم کے فیصلوں پر بغلیں بجا بجا کر سابقہ مقتدروں کی طرح کے لہجے میں بلند بانگ تقریریں کرتے رہتے ہیں ان کیلئے بھی اور جانے والوں کیلئے بھی ایک ہی شعر کافی ہے جو کبھی پاکستان کے ایک مشہور شاعر حبیب جالب نے کہا تھا کہ 

تم سے پہلے بھی وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

خیر یہ تو پاکستان کے شاعر کی بات تھی اس کا بھلا خیالصتان کے حالات سے کیا لینا دینا ، تاہم مسئلہ تاریخ کا ہے اوروہ جو کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی رہتی ہے تو تاریخ بڑی ظالم ہے وہ خود کو دوہرانے کیلئے صرف کسی ایک ملک کا انتخاب نہیں کرتی ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے حالات و واقعات ایک دوسرے سے مماثلت اختیار کر کے انسانوں کیلئے عبرت کا سامان مہیا کرتے رہتے ہیں ۔ سو ایسی ہی صورتحال خیالصتان میں بھی ہے اور ایسے حالات رونما ہو رہے ہیں جو پہلے کسی نہ کسی ملک میں پیش آتے رہے ہیں ۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان دنوں خیالصتان کے بارے میں بھی وہاں کے باشندوں کو یہ فکر لاحق ہے کہ وہ بھی ایک لحاظ سے حالت جنگ میں ہیں ، کیونکہ ان کے کم از کم دو پڑوسی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خیالصتان کی سا لمیت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ، مگر خیالصتان میں سیاسی افراتفری نے ان بیرونی سازشوں کو کامیاب بنانے میں غیر محسوس طور پر کردار ادا کرنا شروع کر رکھا ہے ، جبکہ عدلیہ پر انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اٹھتے سوالوں نے عوام کو متفکر کر رکھا ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انصاف کی عدم موجود گی ہمارا کیا حشر کرے گی ؟ ۔

کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبار کا

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

متعلقہ خبریں