Daily Mashriq


الیکشن مہم میں حفاظتی اقدامات کی ضرورت

الیکشن مہم میں حفاظتی اقدامات کی ضرورت

الیکشن 2018 کی انتخابی مہم اور ماضی میںدہشتگردی کے تلخ واقعات کے پیش نظر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا) حکام کا کہناہے کہ الیکشن کے دوران اٹھارہ سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ممکنہ حملوں سے متعلق خفیہ اداروں کی جانب سے اطلا ع دی گئی ہے اور اس حوالے سے تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے جن سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ان میں مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت شامل ہے۔پاکستان نے اپنے بہت سے باصلاحیت اور نامور سیاست دان ماضی میں دہشت گردی کی نذر کیے ہیں، اس کے باوجود اگر موجودہ انتخابی مہم میں بھی18 سیاست دان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس عفریت نے ابھی ہماری سیاست کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ان حالات میں ہمارے سیکورٹی اداروں کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور جہاں جہاں یہ سیاست دان انتخابی مہم کے سلسلے میں جاتے ہیں انہیں فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا، برسر عہدہ وزیر داخلہ احسن اقبال کو ایک کارنر میٹنگ میں گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔بظاہر لگتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کو اس کی پیشگی اطلاع نہیں ہو گی، لیکن ملزم جس انداز میں طویل عرصے تک میٹنگ کی اگلی صفوں میں بیٹھ کر منتظر رہا اور پھر موقع ملتے ہی گولی چلا دی ، اس سے لگتا ہے وہ تیاری کر کے آیا ہوا تھا وہ توا حسن اقبال کی قسمت نے یاوری کی اور اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ سینے اور گولی کے درمیان ان کی کہنی نے حفاظتی کردار ادا کیا ورنہ بات زخمی ہونے سے آگے بھی بڑھ سکتی تھی،ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس افسوس ناک واقعے کے بعد وفاقی یا صوبائی حکومت نے یا پھر ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالنے والی نگران حکومتوں نے کون سے ایسے حفاظتی اقدامات کیے، جن کے ذریعے ایسے واقعات کا اعادہ روکا جا سکے۔یہ واقعہ دہشت گردی کی باقاعدہ واردات تھی یا ملزم کا انفرادی فعل تھا یہ تو تحقیقاتی اداروں پر تفتیش کے نتیجے میں واضح ہو گیا ہو گا۔تاہم اس کے محرکات سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاستدان اور عوام جان سکیں کہ خطرات کہاں کہاں ہیں اور ان کے اعادے سے بچنے کے لیے کیسے کیسے حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔نیکٹا حکام نے جن سیاستدانوں کے متعلق متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے انہیں سیکورٹی کے خطرات لاحق ہیں ان کے نام تو سامنے نہیں آئے،عین ممکن ہے خفیہ خطوط میں نام بھی بتائے گئے ہوں تاہم یہ معلومات منظر عام پر آنے کے بعد سیاست دان اپنے طور پر اور سرکاری سیکورٹی کے ادارے بھی ان کی حفاظت کے لیے ایسے انتظامات کریں کہ دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیابی نہ ہو۔اس مقصد کے لیے ملک کی سیکورٹی کی مجموعی فضا کو بھی بہتر بنانا ضروری ہو گا،کیونکہ اگر یہ فضا بہتر ہو گی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دہشت گردوں کے لیے کسی بھی جگہ واردات کرنا آسان نہیں ہو گا۔اگرچہ حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ضرور ہوئی ہے تاہم یہ بھی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واردات ہو ہی جاتی ہے،خاص طور پر بلوچستان میں سیکورٹی اداروں کے ارکان نشانوں پر رہتے ہیں اس لیے ایسے علاقوں میں تو حفاظت کے لیے دوہرے اقدامات کی ضرورت ہو گی،کیونکہ نہ صرف سیکورٹی حکام کو اپنی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا،بلکہ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی بہتر انتظامات کرنا ہوں گے، دہشت گرد سیکورٹی حکام کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ اس حفاظتی دیوار کو توڑ سکیں جو ان اداروں نے قائم کی ہوئی ہے ان کا غالباً یہی خیال ہوتا ہے کہ اگر اس طرح خوف و دہشت کی فضا قائم کر دی جائے تو پھر اگلے مرحلے میں ان کے لیے وارداتیں کرنا آسان ہو جائے گا، اس لیے ان تمام امور کو پیشِ نظر رکھ کر سیکورٹی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔سیاست دانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف اشتعال انگیز الزامات نہ لگائیں اور ایسی شعلہ بار زبان استعمال نہ کریں، جس سے مشتعل ہو کر کچے ذہن ہتھیار بدست ہو کر خلافِ قانون حرکتیں کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں اس مقصد کے لیے انتخابی تقریروں میں ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی ہے،جھوٹے، سچے الزامات عام لوگوں کو مشتعل کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہم نے ماضی میں انتہا پسندی کے مظاہرے دیکھے ہیں،لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج تک اسی راستے پر چلتے بلکہ سر پٹ دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سیکورٹی کے ذمہ دار اداروں اور حکام کو ان دھمکیوں کے بعد ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے اور سیاست دانوں کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لیے کوئی رسک نہ لیں اور جہاں سیکورٹی انتظامات کرنے ضروری ہیں اس جانب سے غافل نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں