Daily Mashriq

مسئلہ سماج کا ہے

مسئلہ سماج کا ہے

مسلم لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز نے ہفتے کو اعلان کیا کہ وہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف جمعہ کو پاکستان آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے امید دلائی ہے کہ ان کی والدہ کلثوم نواز کو اگلے چند روز میں آہستہ آہستہ ہوش آ جائے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی ذمہ داری آواز دے رہی ہے تو میاں نواز شریف اپنی ذاتی ذمہ داری پر قومی ذمہ داری کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے کہا ’’بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ میاں صاحب بغیر ٹریننگ کے کمانڈو ہیں۔‘‘ان سے جب پوچھا گیا کہ احتساب عدالت سے سزا ہونے کے بعد ان کی نااہلی ہو چکی ہے تو انہوں نے کہا’ ’فیصلے میں کمزوریاں ہیں اور اگر یہ اپیل کسی فیئر جج کے پاس جاتی ہے تو ہمیں امید ہے کہ یہ فیصلہ ختم کر دیا جائے گا۔ اگر یہ فیصلہ ختم ہوتا ہے تو الیکشن لڑوں گی۔‘‘تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ کہا کہ’ ’اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو بہت جلد وہ وقت آئے گا جب نہ صرف یہ فیصلہ بھی ختم ہو جائے گا بلکہ جنہوں نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔‘‘سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی اور احتساب عدالت سے سزا یافتہ مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ برطانوی حکومت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی تحقیقات کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔مریم نواز نے یہ بات لندن میں ہفتے کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ جب تحقیقات کرے گا تو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے داماد اور سابق ممبر قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفد رنے قومی احتساب بیورو کو گرفتاری دے دی ہے۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے راولپنڈی میں واقع سکستھ روڈ پر مسلم لیگ نواز کے مرکزی دفتر کے سامنے نیب کو گرفتاری دی۔سیاست کے اپنے ہی رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں۔لیڈر عدالت میں پیش ہو،سزا پائے یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا نظر آئے،کارکن کے لئے، چاہنے والوں کے لئے لیڈر ہی رہتا ہے۔یہ مشرقی سیاست کا اپنا ہی انداز ہے ۔کیپٹن صفدر اگر خاموشی سے گرفتاری دیتے تو کارکن مایوس ہوتے ۔سڑک پر کارکنوں کے درمیان گرفتاری دی تو راولپنڈی کے مسلم لیگی نوجوان چارج ہو گئے اور پورا دن نیب کی ٹیم کو اپنے پیچھے بھگاتے رہے۔اسی طرح جب نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی گئی تو اس وقت تک مسلم لیگی صفوں پر سکوت طاری رہا جب تک نواز شریف نے لندن میں بیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر کے پاکستان واپسی کا اعلان نہیں کر دیا۔جونہی یہ اعلان سامنے آیا تو لیگی کارکنوں کی مردنی یکا یک ختم ہو گئی اور مایوسی امید میں بدل گئی۔اگر غور سے دیکھا جائے تو برصغیر کی سیاست صرف ایک ہی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ستر کی دہائی میں پیپلز پارٹی صرف ذوالفقار علی بھٹو کا دوسرا نام تھا۔چشم فلک نے وہ وقت بھی دیکھا کہ بھٹو نے اگر کسی عام آدمی کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا تو اس نے وڈیرے کو پچھاڑ کے رکھ دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی صرف بینظیر بھٹو کا نام تھا ۔جب تک زندہ رہیں پارٹی کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔شہید ہوئیں تو ان کے ساتھ ہی پارٹی کا عروج بھی تمام ہوا۔زرداری چونکہ بھٹو ز کا تسلسل نہ تھے اس لئے ان کے سامنے آنے کے بعد پارٹی مسلسل زوال پذیر رہی اور آج بھی ہے۔مسلم لیگ (ن) صرف نواز شریف کا نام ہے۔ ان کو مائینس کر دو تو پارٹی یکا یک غائب ہو جاتی ہے۔شہباز شریف کا حال بھی زرداری سے کچھ مختلف نہیں،نواز شریف ملک میں نہ ہوں تو شہباز شریف کی شخصیت بھی بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔یہی صورت تحریک انصاف کی ہے ۔عمران خان کے بغیر یہ پارٹی بھی زیرو ہے ۔بنیادی وجہ سماج کا شخصیت پرست ہونا ہے۔ہمارے لوگ جس سے دل لگا بیٹھتے ہیں بس اسی کے ہو رہتے ہیں۔آپ اس رجحان کو اچھا کہیں یا برا روایت یہی ہے جسے تبدیلی کے خواہاں عمران خان بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔

پاکستان کے عوام کی دوسری بڑی خوبی یا خامی یہ ہے کہ لیڈرکو دلیری اور بہادری کے ساتھ صف آرا دیکھنا چاہتے ہیں خواہ اس میں کتنے ہی صفاتی عیب کیوں نہ ہوں۔جو ڈٹ کر کھڑا ہوگیا وہ لیڈر اور جو ڈر گیا،جھک گیا وہ گیدڑ۔سو یہ بات یاد رکھیں کہ پیشیاں بھگتتا ہوا نواز شریف مخالفین کے لئے کم خطرناک تھا اور سزا یافتہ مگر جھاگ اڑاتا نواز شریف زیادہ خطرناک ہے۔جب وہ لاہور اترے گا اور ملک بھر کے لیگی چارج ہوں گے تو پنجاب کی مائیں بہنیں ایک دوسری کو کہیں گی ، اس کی ہمت دیکھو بستر مرگ پر پڑی بیوی کو چھوڑ کر پاکستان آگیا۔کوئی کہے گا مجرم ہوتا تو پاکستان واپس آتا ہی کیوں ،سیاسی پناہ لے کر وہیں رہ جاتا،اور سزا یافتہ مریم جب بولے گی اور دہائی دے گی کہ اسے سزا کیوں دی گئی تو مسلم لیگ پر چھائی حالات کی دھند چھٹے گی اور اس کی مردہ صفوں میں جان پڑ جائے گی۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ ہماری سیاست کا وہ انداز ہے جسے ہم نے عشروں دیکھا ہے۔لوگ مار دھاڑ سے بھرپور سیاسی فلم دیکھنے کے شوقین ہیں جس میں سسپنس کے ساتھ تھرل ہو اور ہیرو’’ دھاڑتے ہوئے کہے دشمنو میں آگیا ہوں جس میں ہمت ہو سامنے آئے۔اور یہ طے ہے کہ نواز شریف جتنا چیخے گا چنگھاڑے گا اس کے کارکن اتنا ہی اسے پسند کریںگے۔وہ حق پر ہے یا نہیں یہ تحریک انصاف والوں کا مسئلہ ہے مسلم لیگیوں کا ہرگز نہیں۔

متعلقہ خبریں