Daily Mashriq

شناختی کارڈ، پاسپورٹ کیلئے آئی ایس آئی اور ایم آئی سے کلیئرنس کی تجویز

شناختی کارڈ، پاسپورٹ کیلئے آئی ایس آئی اور ایم آئی سے کلیئرنس کی تجویز

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجرا کے لیے ملٹری انٹیلی جنس(ایم آئی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے کلیئرینس کروانے کی تجویز دی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی نور عالم خان کی سربراہی میں ہونے والے ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں 8 لاکھ مسترد شدہ پاسپورٹ تلف کرنے کے حوالے سے کیے گئے آڈٹ پر گفتگو ہوئی جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 28 لاکھ 60 ہزار روپے کا نقصان ہوا تھا۔

کمیٹی کو اپنے ذاتی تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے نور عالم خان نے بتایا کہ پاسپورٹ آفس اور نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریش اتھارٹی (نادرا) میں غفلت اور بدعنوانی کی وجہ سے افغان شہریوں نے بھی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدعنوان افراد پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں جبکہ وفاقی تحقیقاتی ایجینسی (ایف آئی اے) اور ڈائریکٹر جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کچھ نہیں کررہے۔

جس کے بعد انہوں نے تجویز دی کہ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹس آئی ایس آئی اور ایم آئی کی کلیئرنس کے بغیر جاری نہیں کرنے چاہیے کیوں غیر ملکی افراد پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے خفیہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جس پر اپنی وزارت کا دفاع کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ میجر (ر) سلیمان اعظم خان نے ذیلی کمیٹی سربراہ کو کہا کہ اداروں پر بھروسہ رکھیں کیوں کہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور ملک سے اتنے ہیں وفادار ہیں، ان کا کہنا تھا وزارت اس معاملے کی تحقیقات کروائے گی۔

ذیلی کمیٹی نے جنوبی وزیرستان کے اسکاؤٹ کے لیے غذائی اشیا کی فراہمی کے حوالے سے وہاں کے نمائندے میجر عدنان سے پوچھا کہ وہ آڈٹ حکام کو متعلقہ دستاویزات کیوں فراہم نہیں کررہے؟

جس پر سیکریٹری داخلہ اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ ان کی وزارت اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ ساؤتھ وزیرستان انتظامیہ نے 16-2015 میں 39 کروڑ 72 لاکھ روپے اور سال 17-2016 میں 41 کروڑ 48 لاکھ روپے کی تازہ سبزیاں اور گوشت خریدا تھا، آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس کی پروکیورمنٹ کسی مقابلے کی بغیر کی گئی۔

جس پر میجر عدنان نے صورتحال پر وضاحت دینے کی کوشش کی تو کمیٹی سربراہ نے کہا کہ انہیں اس معاملے کا علم ہے اور کس طرح کام کیے گئے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر وزیراعظم اور اراکین قومی اسمبلی انکوائری کا سامنا کرسکتے ہیں تو یہ افراد کیوں نہیں، انہوں نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی رپورٹ ذیلی کمیٹی میں پیش کی جائے۔

متعلقہ خبریں