Daily Mashriq

حکومت مبینہ ویڈیو کی حقیقت تو سامنے لائے

حکومت مبینہ ویڈیو کی حقیقت تو سامنے لائے

وزیراعظم عمران خان کا احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ تو مصلحت اور ضرورت ہوسکتی ہے، حکومت اس معاملے کی خود تحقیقات نہیں کرواتی تو بھی اس کی گنجائش موجود ہے لیکن حکومت وقت اس اہم معاملے سے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی۔ حکومت کی یہ دلیل کافی نہیں کہ ان کی تحقیقات حزب اختلاف کو قابل قبول نہ ہوگی۔ اگر اسے اصول مان لیا جائے اور حکومت حزب اختلاف کی سند قبولیت کو معیار بتانے لگے تو پھر خود حکومت کے وجود کا جواز بھی متنازعہ تسلیم ہونے کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں حکومت اس موقف کے بعد مزید معاملات میں بھی کیا حزب اختلاف ہی کی رائے لے گی جو ناممکن امر ہے۔ دریں اثناء وکلا کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو لیک کے تنازع پر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔ پی بی سی کے تمام اراکین کو ارسال کئے گئے خط میں ایڈوکیٹ راحیل کامران شیخ نے کونسل کو تجویز دی کہ چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی جائے جس کی سماعت سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی بی سی کو اس قسم کی کارروائی کا آغاز ہونے پر سماعت میں شریک ہونے کی درخواست اور عدالت کی معاونت کرنا چاہئے۔ خط میں کہا گیا کہ اس قسم کے واقعات سے ملک کے عدالتی نظام کی سالمیت اور معتبریت پر سوال اُٹھ جاتے ہیں جس میں مبینہ طور پر ایسا دکھایا جاتا ہے کہ عدلیہ کا ادارہ کمزور ہے جس پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ خط کے مطابق پی بی سی سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن بھی دائر کرے گی جس میں احتساب عدالت کے جج کیخلاف مناسب قانونی کارروائی کے احکامات کی درخواست کی جائے گی۔ مذکورہ ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد جج ارشد ملک نے بذاتِ خود ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں بلیک میلنگ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ جج نے اس اقدام کے پسِ پردہ عناصر کیخلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ مختلف مواقعوں پر ہونے والی گفتگو کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ خط میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ بغیر کوئی وقت ضائع کئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی صورت میں آزاد اور غیرجانبدار انکوائری کروانی کی استدعا کی جائے۔ مبینہ ویڈیو لیک کا معاملہ عدالت کے حوالے سے ہونے کے باعث حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے عدالت ہی مناسب فورم اور فیصلے کا مجاز ہے لیکن عدلیہ خودمختار اور آزاد ہونے کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی ادارہ ہے جو حکومت ہی کا ایک حصہ ہے جس کا تحفظ اور عزت واحترام یقینی بنانا حکومت وریاست کی ذمہ داری ہے اسلئے حکومت کا اس معاملے سے خود کو سراسر الگ رکھنے کا فیصلہ مناسب نہیں۔ عدالت عظمیٰ وکلاء برادری کے خط کا جو بھی فیصلہ کرے وہ اپنی جگہ لیکن یہ ممکن نہیں کہ عدالت بھی اس ضمن میں حکومتی اداروں کو الگ رکھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلاشبہ اس ضمن میں عدالت ہی مجاز فورم ہے لیکن کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ معزز عدالت کے جج کے حوالے سے سامنے آنے والی مبینہ ویڈیو کی فرانزک تحقیقات کروا کے اس اصلی وجعلی اور گھڑی ہوئی کی حقیقت سامنے لائے۔ عدالت اگر اس معاملے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو بھی اس ویڈیو کی فرانزک رپورٹ طلب کرنا یقینی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مبینہ ویڈیو کے منظرعام پر لائے جانے کے بعد بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ ہمارے تئیں حکومت کو اس ضمن میں کترانے سے احتراز کرنا چاہئے اور اس ضمن میں حزب اختلاف کی جانب سے اسے مسترد کرنے کی کمزور دلیل کا سہارا لینے کی بجائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ثابت کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کوئی مثالی تعلقات نہیں اور اس مبینہ ویڈیو سے جڑے معاملات سے براہ راست نہ ہو تو بالواسطہ حکومت کا تعلق بنتا ہے۔ جب حکومت ہر قسم کے معاملات کی تحقیقات اور خلاف قانون حرکات کے مرتکب عناصر کو کٹہرے میں لانے کی ازخود دعویدار ہے تو ایک ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کروا کر اس کے پیش کاروں کو غلط ثابت کر کے سزا دلوانے میں پس وپیش کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے۔ بہت سارے حساس معاملات ایسے سامنے آئے ہیں جس کی تردید اور انکار کافی نہیں ہوتی بلکہ ان کی تہہ تک پہنچنے کیلئے تحقیقات کرکے حقیقت حال کو سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس پر چپ سادھ لیا جاتا ہے جو مناسب طرزعمل نہیں۔ بہتر ہے کہ کم ازکم مبینہ ویڈیو کے اصلی اور جعلی ہونے کی حقیقت تک حکومت تحقیقات کرائے اور باقی معاملات عدلیہ پر چھوڑ دے۔بہتر ہوگا کہ مبینہ ویڈیو کی حقیقت آشکار کر کے اس باب کو خوش اسلوبی سے بند کر لیا جائے تاکہ اس معاملے کو کسی بھی مقصد کیلئے مزید اچھالنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبریں