Daily Mashriq

چترال میں گلیشئر پھٹنے کا واقعہ

چترال میں گلیشئر پھٹنے کا واقعہ

چترال کے معروف سیاحتی مقام گولین گول کے بلند وبالا پہاڑوں پر واقع گلیشئر پھٹنے سے وادی کے مختلف حصوں کا متاثر ہونا اور سیاحوں کے محصور ہونے کے واقع میں کسی قیمتی انسانی جان کا ضیاع نہ ہونے کی وجہ بروقت اطلاع ملنا اور فوری طور پر خطرے کے مقام سے دور جانے کا موقع ملنا ہے۔ علاوہ ازین گلیشئر پھٹنے اور سیلاب کی صورت اختیار کرکے آبادی تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگنے کے باعث بھی نقصان کم ہوا ۔چترال میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں اس قسم کے کسی واقعے کی اولاً بروقت اطلاع کا امکان کم بتایا جاتا ہے جبکہ آبادی اور گلیشئرز کے درمیان گولین کی طرح میدانی علاقہ واقع نہیں بلکہ پہاڑ کی چوٹی اور نقطہ آغاز کا فاصلہ ہے۔ گاؤں سنوغر جس کے سرکنے کے سب سے بڑے خطرے سے ماہرین خبردار کر چکے ہیں پھسلن پر واقع ہی نہیں بلکہ پوری طرح گلیشئر کی نشیب اور زد میں ہے۔ گاؤں ریش میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے نمایاں اثرات ابھی معدوم نہیں ہوئے۔ ان سارے خطرات اور حکومتی اقدامات وانتظامات کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آنا فطری امر ہے۔ اگرچہ گولین گول میں کوئی انسانی المیہ رونما نہیں ہوا اور محصور مکین کسی فوری خطرے سے دوچار نہیں ہوئے۔ حکومتی امدادی ٹیموں نے بھی حتی المقدور سعی کی لیکن اس سارے عمل سے یہ بات ایک مرتبہ پھر صراحت سے آشکار ہوئی کہ چترال میں خطرات سے نمٹنے اور متاثرہ لوگوں کی فوری امداد کے انتظامات نہایت ناکافی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کو شہری علاقوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کا ہی شاید تجربہ ہوگا کجا کہ اس قسم کے حالات میں ان سے ہنگامی مدد کی توقع کی جائے۔ صرف افرادی قوت سے بھی اس قسم کے حالات سے نہیں نمٹا جاسکتا اس کیلئے جن ضروری آلات، ساز وسامان اور تربیت کی ضرورت ہے اسے سمجھنے اور اس کے مطابق انتظامات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ جہاں تک گلیشئر کے پھٹنے کے واقعات کا تعلق ہے اس ضمن میں ماہرین کی سفارشات سے حکومت کو آگاہ کرچکے ہیں توجہ طلب امر یہ ہے کہ ہر سال شندور پولو ٹورنامنٹ کے انعقاد کے دنوں میں یہ واقعات اکثر کیوں پیش آتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اس موقع پر جس بڑے پیمانے پر ہیلی کاپٹروں کی آمد ورفت ہوتی ہے اور تیز آواز کے باعث ارتعاش کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ کمزور پڑنے والے گلیشئرز کے اچانک ٹوٹنے کا باعث بن رہی ہیں۔ مقامی افراد قدیم دور سے یہ احتیاط کرتے آئے ہیں کہ گلیشئر اور برف سے ڈھکے چوٹیوں کے آس پاس اونچی آواز میں بولنے سے ہی گریز کرتے ہیں کہ برف سرک نہ جائے۔ چترال میں حالات کے تناظر میں حکومت کو مزید امدادی سامان، وسائل اور عملے کو تیار رکھنے کے انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ ہنگامی حالات میں بروقت اقدامات کئے جاسکیں۔

مقصد ایک تو پروگرام الگ الگ کیوں؟

خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی طرز پر غربت میں کمی اور غریب عوام کی فلاح وبہبود کیلئے اپنا ’’احساس پروگرام‘‘ شروع کرنے کا اقدام احسن ہوگا جس کیلئے وفاقی حکومت کیساتھ رابطے میں رہ کر اس پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ غربت کے خاتمے کیلئے حکومتی کاوشوں کو دیرپا بنایا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ہی نوعیت اور مقصد کیلئے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کے الگ الگ پروگرام شروع کرنے پر دوہرے انتظامات وسائل اور عملے کی ضرورت پڑے گی۔ الگ دفاتر کا قیام، گاڑیاں اور دیگر ضروری لوازمات پر دوہرے اخراجات ہوں گے جس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ یا تو مرکزی حکومت صوبائی پروگرام کی معاونت کرے اور اس کیلئے وسائل دے یا پھر صوبائی حکومت اپنا الگ سے پروگرام شروع کرنے کی بجائے مرکزی حکومت کے انتظامات سے استفادہ کرے اور ان کو وسائل فراہم کرے۔ دوہرے پروگرام شروع کرنے پر اتفاق مناسب فیصلہ نہیں، اس پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ مرکزی اور صوبائی حکومت ایک ہی مقصد کیلئے یکسوئی کیساتھ مل کر کام کریں تو کامیابی کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔

انسداد سمگلنگ کی ذمہ داری کا جائز مطالبہ

ڈرائی فروٹ کے تاجروں نے ٹیکس ادائیگی پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کاروبار کو دستاویزی بنانے کے وعدے کیساتھ اپنے جو مسائل اور مطالبات حکومت کو پیش کئے ہیں اس میں سب سے بڑا اور جائز مطالبہ ڈرائی فروٹ کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے کا ہے۔ انسداد سمگلنگ ہر جائز کاروبار کے تحفظ کی بنیادی اور اولین شرط ہے اور یہ کسٹمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمگلنگ کی روک تھام یقینی بنائے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کے حل کے بعد تاجروں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں لیت ولعل نہ ہوگا اور محصولات کی ادائیگی اور وصولی کے نظام میں بہتری آنا فطری امر ہوگا۔

متعلقہ خبریں