Daily Mashriq

اے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

اے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

کشمیری رہنما برہان مظفروانی شہید کے تیسرے یوم شہادت کے موقع پر مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، اسلام آباد سمیت پاکستان بھر میں ریلیاں اور دیگر تقاریب ہوئیں جن میں ان کو زبردست خراج عقیدت پیش اور بھارت کیخلاف شدید احتجاج کیا گیا، کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف قراردادیں بھی منظورکی گئیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال بھی کی گئی۔ گزشتہ روز بھارتی فوج نے شہید برہان وانی کے آبائی قصبے ترال میں کشمیریوں کا مارچ روکنے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا تھا، تمام سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اور خاردار تار بچھا کر شہید کے مزار کا محاصرہ کیا جبکہ ان کے گھر کی ناکہ بندی کئے رکھی۔ برہان وانی کو بھارتی فوجیوں نے2016ء میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے علاقہ کوکرناگ میں جعلی مقابلہ میں شہید کر دیا تھا۔ قابض انتظامیہ نے سرینگر میں پوسٹر چسپاں کرنے کے الزام میںگرفتاریاں بھی کیں جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی جس کا واحد مقصد عوام کو وانی شہید کی تقریبات اور پیغام رسانی سے محروم رکھنا تھا۔ برہان وانی کی تیسری برسی پر آزاد کشمیر بھر میں تقریبات ہوئیں، یوم شہادت کو پاسبان حریت جموں کشمیر نے یوم مزاحمت کے طور پر منایا۔ کشمیری نوجوانوں پر مشتمل منظم دستے نے قومی ترانوں کی دھن پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرا کر برہان وانی شہید کی یادگار پر سلامی پیش کی۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان ڈاکٹر فیصل نے ٹویٹ میں کشمیری مجاہد برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد بھارتی مظالم میں شدت کے باوجود جاری ہے۔ مظالم کے شکار کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے لندن، میلان، برلن، میڈرڈ اور یورپ کے دیگر علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے برہان وانی کی شہادت سے لیکر اب تک ریاستی دہشتگردی کی کارروائیوں میں 1020نوجوانوں کو شہیدکیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے گزشتہ روز پچھلے ایک سال کے دوران کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں جموں کشمیر سول سوسائٹی کے اتحاد ’’جے کے سی سی ایس‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں ایک سوساٹھ سویلین مارے جاچکے ہیں جو گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں سے اکہتر ایسے لوگ ہیں جن کے قتل میں بھارتی سیکورٹی فورسز براہ راست ملوث ہیں۔ حتیٰ کہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مقبوضہ وادی میں اکیس سویلین مارے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتنی زیادہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود پچھلے سالوں کی طرح اس بار بھی ان واقعات کی تحقیقات کے بارے میں کسی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بین الاقوامی مسلمہ ثبوت ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی افواج ان پامالیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ اس رپورٹ میں پیلٹ گن کو خطرناک ہتھیار قرار دیا گیا ہے اور اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ بھارتی فوج نہتے شہریوں پر فولادی چھرے والی یہ پیلٹ گن مسلسل استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق نے پچھلے سال بھی اس طرح کی رپورٹ جاری کرکے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بین الاقوامی اور آزادانہ تحقیقات کی سفارش کی تھی۔ اقوام متحد ہ کی یہ رپورٹ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے منہ پر تھپڑ ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو موجودہ حکومت نے سلا دیا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد پاکستان کی جانب سے نہ تو کوئی مؤقف آیا، نہ ہی کوئی ردعمل ظاہر کیا گیا، صرف وزارت خارجہ کی جانب سے ایک ٹویٹ کر دیا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ کشمیری عوام اپنے حقوق کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بھارت کا پاکستان کیساتھ رویہ اتنا معاندانہ ہے کہ ان کے وزیراعظم مودی پاکستان کے وزیراعظم کی ٹیلی فون کال تک نہیں سنتے اور ادھر پی ٹی آئی کی حکومت بھارت سے تعلقات کی اُلفت میں بہے جارہی ہے۔ مودی جس طرح تڑلے دیتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا خاتمہ پہلے کرے پھر بات چیت ہوگی تو پاکستان کو بھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز بن کر ریاستی دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا چاہئے لیکن خارجہ پالیسی اس محاذ پر مکمل ناکام نظر آتی ہے اس کا اندازہ یورپی یونین ایشیا سینٹر کے زیراہتمام منعقدہ ’’بھارت میں الیکشن کے بعد مودی کی خارجہ پالیسی‘‘ کے موضوع پر سیمینار میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر اظہار خیال کیا گیا جس میں یورپی یونین کے نمائندوں کے علاوہ بھارت کے مندوب نے بھی شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی کا کوئی حوالہ نہیں ملا، یورپی یونین ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر فریزر کیمرون نے الیکشن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دوتہائی سے زائد اکثریت کے بعد پاکستان، چین، جاپان، جنوبی ایشیا اور یورپ کیساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی۔ چیٹم ہاؤس کے فیلوگیرتھ پرائس نے بھارت، پاکستان تعلقات کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ بھارت نے پاکستان پر بین الاقوامی طور پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔ مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھی پاکستان کو مدعو نہیں کیا جس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ پاکستان بھارت کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ذہنی برتری کی بنیاد پر یہ امکان ہے کہ اسی سال بھارت اور پاکستان میں مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ اس سیمینار میں بھارتی سفارتخانے کے مندوب نے اپنا سرکاری مؤقف یہ پیش کیا کہ پاکستان کیساتھ اس وقت تک تعلقات بہتر ہونے کے امکانات نہیں جب تک وہ اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا۔ اس امر سے اندازہ لگا لیا جائے کہ پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے۔

متعلقہ خبریں