Daily Mashriq

اماںحضورؒ

اماںحضورؒ

دوعشروں سے سال بھر ابھی کم ہے مگر لگتا یہی ہے کہ اماں حضور کو رخصت ہوئے دوصدیاں گزر گئیں۔ماں تو ماں ہوتی ہے شاہ کی ہو یا گدا کی۔ رحمت سے بھرا لگتا ہے گھر ماں کی موجودگی میں، 9سال کی عمر میں روزگاراور تعلیم کیلئے پہلی بار اماں حضور سے جدائی کا دُکھ اُٹھایا تھا۔مگر انیس سال قبل ان کی دائمی جدائی کا دکھ سہنا پڑا، میرے نانا پیر سید عبدالرحمن شاہ بخاریؒ اپنی اولاد کو تعلیم سے روشناس کروانے کیلئے دیہی علاقے سے ملتان منتقل ہوئے تھے۔ نانا اور نانی اماں کا شمار اپنے وقت کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دن اماں جان خاندان کے بزرگوں کا تذکرہ کرتے ان کے علمی اور سماجی مقام سے روشناس کراتے ہوئے اچانک خاموش ہوگئیں، اپنے ارد گرد موجود بچوں کو انہوں نے پیار سے دیکھا اور بولیں۔ ’’سب سے اچھا اور کامیاب انسان وہ ہوتا ہے جو بزرگوں کے اعلیٰ اور سماجی موتیوں سے روٹی کمانے کی بجائے اپنی محنت سے اُس مقام تک پہنچے جہاں لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ صالح لوگوں کی اولاد ہے مجاوری کی بجائے محنت کرتی ہے‘‘۔ عشروں پہلے اماں کی کہی یہ بات ایسی پلے باندھی کہ پھر تعارف ہمیشہ اپنی ذات بنی، بزرگوں کے مقام مرتبہ کو بیچ بتا کر روٹیاں نہیں توڑیں۔ملتان میں ہمارے ننھیال کو وعظ والی بیبیوں کے خاندان کے نام سے شہرت وعزت ملی۔ آج بھی جب کبھی ملتان جاتا ہوں کسی نہ کسی جگہ جب کوئی یہ کہہ کر ملتا ہے آپ بی بی جی کے بیٹے ہیں نا تو والدین کی نیک نامی پر فخر ہوتا ہے۔ نصف صدی سے کچھ اوپر اماں حضور نے ملتان اور اس کے مضافات میں میلادالنبیؐ کی بابرکت محفلوں کے علاوہ خواتین کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ روشن وپرنور چہرہ، گونج دار آواز، نعت رسولؐ کے اشعار پڑھتیں۔ سعدی وجامی و شیرازی کے اشعار یا خطاب انہیں سننے والی خواتین مکمل خاموشی سے سماعت کرتیں۔ ہمیشہ یاد رہنے والی ایک بات ان کی دعا کا وہ حصہ ہے جس میں اماں فرمایا کرتیں۔ ’’اے میرے مالک جن سے ہم ناراض ہیں یا پھر ہم سے ناراض ہیں سب کی بہو بیٹیوں کا شرم پردہ رکھ‘‘۔ ملتان وگرد ونواح میں وعظ والی بی بی کے طور پر مرتبہ واحترام محض وعظ و سید زادی کے طور پر انہوں نے حاصل نہیں کیا بلکہ اپنے صاف ستھرے اُجلے کردار اور انسانیت پر یقین کا مل کیساتھ خدمت خلق کے ذریعے لوگوں کے دلوں میںگھر بنایا۔ اپنی سفید پوشی کے باوجود وہ ہمہ وقت مستحق خواتین کی مدد کیلئے تیار رہتیں۔ اماں کہا کرتی تھیں لوگ مجھے ہدیہ حضرت رسول اکرمؐ اور سیدہ بی بی فاطمہؓ کے نام پر دیتے ہیں یہ میرا انعام نہیں بلکہ میرے پاس تو امانت کے طور پر آتا ہے جس کا جتنا حق ہے خاموشی سے اس کے سپرد کردینا میرافرض ہے۔ اماں حضور کے عقیدت مندوں میں ہر طبقہ کی محترم خواتین شامل تھیں۔ ملتان کی قدیم آبادی سرائیکی بولنے والوں کا شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں اماں نے زندگی میں ایک آدھ بار وعظ نہ کیا ہو۔روایات کو جدیدیت کھاتی جارہی ہے، نصف صدی پیچھے کے ملتان کے ملتانی(سرائیکی) خاندانوں میں رواج تھا کہ وہ دلہن کو رخصت کرتے وقت اماں حضور یا خالہ جان کو ضرور بلاتے۔ دونوں ایسے مواقع پر مختصر خطاب کے ذریعے دلہن کو گھرداری کے امور اور فرائض کی طرف متوجہ کرتے ہوئے رخصت کرتیں۔ اماں کے بعض عقیدت مند خاندان تو اپنے خاندان میں وفات پانے والی محترم خاتون کا جنازہ اُٹھائے جانے سے قبل اماں سے خطاب ضرور کرواتے۔ مجھ مسافر بیٹے نے ہمیشہ اپنی والدہ کو جائے نماز پرہی بیٹھے دیکھا۔ انہوں نے اپنے لئے ایک تخت پوش بنوا رکھا تھا، اس تخت پوش کے گھر میں دوٹھکانے تھے، بڑے کمرے کے داخلی دروازے (ہمارے گھر کا بڑا کمرہ پرانی تعمیر کے طور پر چھ دروازوں والا کمرہ تھا تب بجلی نہیں ہوا کرتی تھی مگر روشن اور ہوادار کمرے میں گرمی بالکل محسوس نہیں ہوتی تھی)کیساتھ اور صحن میں سیڑھیوں کے پاس نماز تہجد کے بعد کچھ دیر اس پر آرام کرتیں پھر نماز فجر کی ادائیگی۔صبح کا نور پھیلتے ہی ان کی عقیدت مند خواتین کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ یہ تخت پوش صرف اس وقت خالی ہوتا جب اماں حضورکہیں وعظ کیلئے تشریف لے گئی ہوتیں یا کبھی کبھار وہ مخدوم پور پہوڑاں اور عبدالحکیم میں اپنے عزیز واقارب سے ملاقات کیلئے جاتیں۔نصف صدی سے کچھ اوپر قرآن وحدیث سنانے والی وعظ والی بی بی ہماری اماں کے سفر آخرت کے وقت لگتا تھا پورا ملتان اُمنڈ آیا ہے۔ان کا جنازہ بلا شبہ ملتان کے چند بڑے جنازوں میں سے ایک تھا، لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے نماز جنازہ دومرتبہ ادا کی گئی، ہمارے گھر کی دہلیز سے چوک خونی برج تک اُس صبح پائوں رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ جب صبح اماں سفر آخرت پر روانہ ہوئیں۔ نماز فجر کے بعد ان کی عقیدت مند خواتین بی بی جی کا آخری دیدار کرنے کیلئے تشریف لائیں اور یہ سلسلہ دس بجے صبح تک جاری رہا۔ اس کے باوجود یہ شکوہ آج بھی کانوں میں پڑجاتا ہے کہ بی بی جی کے بیٹوں نے جنازہ اُٹھانے میں جلدی کی، ہم آخری دیدار نہیں کرپائیں۔ اولاد کی تربیت اور خدمت خلق یا وعظ و میلاد اماں کو ان تین کاموں کے علاوہ کوئی اور کام تھا ہی نہیں، زندگی بیتا دی انہوں نے اس میںاور پھر ایک دن اپنے آقائومولا حضرت محمد مصطفیٰؐ اور رب العالمین سے ملاقات کیلئے روانہ ہو گئیں۔ ان کی اولاد کو لوگ آج بھی ملتانی بی بی جی کے بچے کہہ کر احترام دیتے ہیں۔ خالص رزق حلال سے اولاد کی پرورش کرنے والے والدین بھی بڑی نعمت ہیں۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائے اور اماں حضور کی قبر کو اپنے نور سے بھر دے۔ ’’ماواں ٹھنڈیا چھاواں‘‘