Daily Mashriq

ٹریفک پولیس، اے ٹی ایمز اور لاچار ٹرانسپورٹرز

ٹریفک پولیس، اے ٹی ایمز اور لاچار ٹرانسپورٹرز

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پارکنگ کے مسئلے کے حوالے سے کئی برقی پیغامات آئے لیکن شامل کالم نہ ہوسکے، آج ابتدا اسی مسئلے سے کرتے ہیں۔ ٹریفک کا مسئلہ اپنی جگہ، گنجان بازاروں میں غلط پارکنگ کی وجہ سے جو رکاوٹ ہوتی ہے وہ ٹریفک میں رکاوٹ کیساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کیلئے بھی عذاب بنتا جا رہا ہے۔ فٹ پاتھ تو اولاً ہے نہیں جو ہیں اس پر بی آر ٹی کے واش رومز بن رہے ہیں، فٹ پاتھوں پر تجارت ہوتی ہے اور لوگ کوشش کرکے فٹ پاتھوں پر گاڑیاں بھی کھڑی کرتے ہیں یا کم ازکم گاڑی کا آدھا حصہ تو فٹ پاتھ پر چڑھا دیتے ہیں۔ ڈینز ٹریڈ سنٹر کے سٹیٹ بنک کے بالمقابل فٹ پاتھ کو عمودی تعمیر کر کے موٹر سائیکل پارکنگ بناکر باقاعدہ ٹھیکے پر دیدیا گیا ہے۔ ظلم اتنا کہ پیدل چلنے والوں کو پہلے سے گاڑیوں سے گھری آدھی سڑک کے وسط سے گزرنا پڑتا ہے۔ شعبہ بازار چوک میں پشاور جیل کی طرف سے چڑھائی سے اُترتے ہی اسی ہاتھ پہ میڈیکل سنٹر کے گیٹ کے عین سامنے اور اس سے آگے گاڑیوں کی دو دوقطاریں اس طرح کھڑی ہوتی ہیں کہ سوئیکارنو چوک سے شعبہ بازار کی طرف جانے والے پیدل حضرات کو راستہ تک نہیں ملتا۔ میڈیکل سنٹر جانے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو میڈیکل سنٹر کے صدر دروازے کے سامنے دو دو قطاروں میں کھڑی گاڑیوں کے درمیان اتنا راستہ نہیں ملتا کہ پیدل گزر سکیں، وہیل چیئر یا سٹریچر پر مریض لایا جائے تو پہلے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو تلاش کر کے گاڑیاں ہٹانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ میڈیکل سنٹر کے چوکیدار گاڑی مالکان کو راستے میں گاڑی کھڑی کرنے سے کیوں نہیں روکتے، بلڈنگ میں موجود ڈاکٹرز اور کاروبار کرنے والے کیوں احتجاج نہیں کرتے وہ اپنی جگہ، سمجھ سے بالاتر اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ شعبہ چوک پر ہر وقت دو تین موٹرسائیکل سوار وارڈن اور سپاہی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں مگر وہ کبھی بھی زحمت نہیں کرتے کہ چوک میں دکانوں کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے راستہ روکنے والوں اور میڈیکل سنٹر کے سامنے اور سوئیکارنو چوک تک کے سڑک کے دونوں اطراف پر کھڑی بے ترتیب گاڑیوں کو ہٹائیں۔

انجینئر عثمان اللہ وزیر نے بنوں سے برقی پیغام میں کہا ہے کہ بنوں کی تقریباً دس لاکھ آبادی کیلئے بنکوں کی برانچوں میں تین یا چار اے ٹی ایم لگی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان مشینوں کے باہر قطار لگی رہتی ہے۔ اکثر مشینیں خراب ہو جاتی ہیں اور پھر ٹھیک ہونے میں کئی مہینے لگتے ہیں۔ انہوں نے سٹیٹ بنک پشاور کے حکام پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیتے اگر وہ باقاعدگی سے انسپکشن کی ذمہ داریاں نبھائیں تو اس طرح کی صورتحال نہ ہو۔ اے ٹی ایمز نہ صرف صارفین کی سہولت کا باعث ہیں بلکہ خود بنکوں کیلئے بھی آمدن کا باعث ہوتے ہیں، ساتھ ہی عملے پر کام کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود حیرت ہوتی ہے کہ اے ٹی ایم مشین یا تو خراب ملتی ہیں یا پھر کیش سے خالی، یہ صرف بنوں کی نہیں تقریباً ہر جگہ یہ شکایت رہتی ہے بہرحال چونکہ بنوں سے باقاعدہ طور پر شکایت آئی ہے اس لئے بنک کے صوبائی صدور کو اس شکایت کے ازالے کی سعی کرنی چاہئے جبکہ سٹیٹ بنک پشاور کے چیف منیجر کو اس شکایت کا سختی سے نوٹس لینے کی ذمہ داری نبھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔میرے ایک قاری نے جس کا نام میں یہاں لکھنا ان کے مفاد میں نہیں سمجھتی، انہوں نے دو تین بار اُردو انگریزی دونوں زبانوں میں برقی پیغام بھیجا ہے۔ ان کا پیغام ہے کہ پڑانگ غار اور اردگرد کے پچاس مربع کلومیٹر علاقے میں جرائم پیشہ افراد کا مسکن اور منشیات کے محفوظ اڈوں کی ایک ایسی دنیا آباد ہے جس کی سرپرستی پولیس، لیویز اور دیگر سرکاری ادارے پوری طرح کرتے ہیں۔ اس لئے یہ پورا علاقہ مجرموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ اس بڑے علاقے میں سوائے آرمی کے آپریشن کے کوئی اور چارہ نہیں۔ مجرم اتنے طاقتور اور ہتھیاروں سے لیس ہیں کہ فوج سے بھی لڑ سکتے ہیں اس لئے پوری تیاری اور منصوبہ بندی کیساتھ پڑانگ غار کے پچاس مربع کلومیٹر علاقے میں آپریشن کر کے جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کیا جائے اور علاقے میں فوجی چھاؤنی تعمیر کی جائے۔ایک قاری نے بڑی دردمندی کیساتھ ضلع لکی مروت میں منشیات کی وباء پھیلنے، منشیات کی کھلے عام فروخت اور نوجوانوں کا نشے میں مبتلا ہونے پر برقی پیغام کے ذریعے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لکی مروت میں منشیات فروشوں کیخلاف سخت اقدامات کئے جائیں۔شمالی وزیرستان سے نیاز خان نے خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کی جانب سے چیک پوسٹوں پر فی گاڑی سو روپے کی وصولی کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر چیک پوسٹ پر خاصہ دار رقم وصول کرتے ہیں، انکار پر گاڑی سے پھل سبزی وغیرہ کے کریٹ اُتارتے ہیں۔ ضلع شمالی وزیرستان کے اس قاری کا پیغام کوئی انکشاف نہیں، یہ عام مشاہدے کی بات ہے ہر جگہ سڑک پر اس طرح کے نظارے ملتے ہیں لیکن اگر کسی کو نظر نہیں آتے تو حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کو۔ ان کے گزرتے ہوئے اس طرح کے مناظر پر نظر نہ پڑنے کی سمجھ آتی ہے کہ پہلے سے اطلاع مل جاتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ ان شکایات کا کسی کو علم نہ ہو۔ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور دیگر حکام سبھی کو اس صورتحال کا بخوبی علم ہوتا ہے لیکن دل دکھانے والا کوئی نہیں یا پھر حصہ اوپر تک جاتا ہے جو مسلسل خاموشی اور چشم پوشی کی سنجیدہ وجہ ہوسکتی ہے۔ قبائلی اضلاع کے دکھی عوام کو پہلے ہی کاروبار اور روزگار کے مواقعوں کی کمی ہے، لے دے کے جو چند روپے کمانے نکلیں تو کم ازکم ان کی جیبیں تو خالی نہ کی جائیں۔ ٹرانسپورٹر اور خاص طور پر ڈرائیور اور کنڈیکٹر بہت مشکل سے کماتے ہیں، سڑکوں پر سب سے زیادہ استحصال بھی ان بیچاروں کا ہوتا ہے، ہے کوئی نوٹس لینے والا۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں