Daily Mashriq

بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو

بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو

پہلے خیال تھا کہ شاید کھچڑی پک رہی ہے مگر بعد میں احساس ہوا کہ نہیں یہ تو مکس دال ہے جس میںسے مختلف دالوں کے ذائقے پھوٹ رہے ہیں اور حکومت کے حواری اس دال کو مزید ذائقہ دار بنانے کیلئے پیاز، لہسن کامکس تڑکا دے کر اسے نئے ذائقوں سے آشنا کر رہے ہیں۔کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ایک آڈیو ویڈیو مکسنگ کے انکشاف نے بلا سوچے سمجھے سرکاری بھونپوئوں کو بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار ادا کرنے پر مجبور کردیا اور جب کسی سمجھدار نے احساس دلا دیا کہ لیگ(ن) کی (موجودہ) دختر اول نے ان کیلئے جو ٹریپ بچھایا تھا وہ اس میں پھنس چکے ہیں تو اچانک یوٹرن کا حکم مل گیا حالانکہ جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا تو سرکاری حلقوں نے چاروں طرف سے لفظوں کی گولہ باری شروع کر کے صورتحال کو مشکوک بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور جس جج کیخلاف الزامات سامنے آئے اس کے ردعمل سے پہلے عقل کے ان’’بلند قامتوں‘‘ نے محاذ گرم کر کے ثابت کیا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا مطلب کیا ہے یعنی جن پر الزام تھا وہ تو خاموشی کی بکل اوڑھ کر منقار زیر پر رہا اور محاذ وزیروں اور مشیروں نے سنبھال کر ’’مکس دال‘‘ میں کالا کے ثبوت دینے شروع کر دیئے،حالانکہ اس معاملے کا حکومتی حلقوں سے ’’کچھ لینا دینا‘‘ نہیں تھا، اور یہ تنازعہ متعلقہ جج اورلیگ(ن) کے مابین تھا جبکہ بلا ضرورت اس میں حکومتی بزرجمہروں نے ٹانگ اڑا کر خود ہی اس ٹریپ میں پھنسنے کی کوشش کی جو بچھایا ہی اسی مقصد کیلئے تھا، یعنی بقول شاعر

اُلجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا!

اور جب احساس ہوا یا احساس دلایا گیا تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا، احساس دلانے والے کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے، اب یوٹرن لے بھی لیا جائے تو جو تیرکمان سے نکل چکے وہ تو واپس نہیں آسکتے، صرف یہ دیکھنا ہے کہ نشانے پر لگے یا نہیں، تو مؤدبانہ عرض ہے کہ ان تیروں نے بوم رینگ کی صورت واپسی کا سفر اختیار کرلیا ہے اور خود تیرانداز ہی ان کے زد میں آچکے ہیں، اس صورتحال پر جسٹس وجیہہ الدین صدیقی کا تبصرہ چشم کشا ہے، انہوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں متعلقہ جج کے ایک دستخط شدہ کاغذ کیساتھ ساتھ ایک اور خط جو انہوں نے اپنے اوپر لگائے جانیوالے الزامات کی تردید کے حوالے سے لکھا ہے کے حوالے سے دوسوال اُٹھائے ہیں،ایک تو یہ کہ اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ تردیدی خط پر جج کے دستخط ان کے (اصل؟) دستخطوں سے میچ نہیں کرتے اور دوسرا یہ کہ اتوار کے روز تو عدالت کی رجسٹری بند ہوتی ہے تو یہ خط کیسے جاری ہوا؟ اب دیکھا جائے تو لیگ(ن) کے بچھائے ’’سنہری جال‘‘ میں لوگ پھنستے ہی جارہے ہیں اور یہ جو وزیراعظم کے کہنے پر حکومت اس معاملے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ویڈیو کا نوٹس لے، حکومت پر اعتراض ہوگا تو صورتحال تو پہلے ہی اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت والی بن چکی ہے اسلئے کہ جتنا شور سرکاری مہربانوں نے مچانا تھا، مچالیا۔ دوسری جانب متعلقہ جج صاحب نے متضاد بیانات سے معاملے کو مزید مشکوک بنا لیاہے، انہوں نے پریس کانفرنس کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو نواز شریف کے مقدمے سے پہلے کی ہے، اس پر تو ناطقہ سربہ گریباں اور خامہ انگشت بدنداں والا محاورہ چسپاں کیا جاسکتا ہے،یعنی اگر یہ ویڈیو نواز شریف کے مقدمے سے پہلے کی ہے تو کیا انہیں تب الہام ہوگیا تھا کہ نواز شریف کیخلاف کوئی مقدمہ قائم کیا جائیگا، وہ مقدمہ ان کی عدالت میںآئے گا (ان پر ویڈیو میں ظاہر کئے گئے حالات) نواز شریف کو سزادینے کیلئے مبینہ دبائو ڈالا جائیگااور پھر ان کو ڈرائونے خواب آئیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ سبحان اللہ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں جج صاحب، اب ہم یہ بھی تو نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے یا پھر وہ جو کہتے ہیں کہ انسان کو ایک جھوٹ چھپانے کیلئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیںکیونکہ اللہ جانتا ہے ہم کسی پر خواہ مخواہ بہتان طرازی کرکے اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتے مگر جو تبصرہ حالات کے تحت بنتا ہے اسی تک خود کو محدود رکھنا چاہتے ہیں، یعنی بقول کسے روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ! اور بقول نسیم اے لیہ

توہین عدالت کا ارادہ تو نہیں تھا

بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو

چلیں چھوڑیں، ماضی میں نہیں جھانکتے مگر حال میں زندہ رہنے کا حق تو ملنا چاہئے اور یہ جو مکس دال میں بہت کچھ کالا نظر آرہا ہے اس میں چمچ ہلانے سے بہت کچھ نکلنے کے خطرات کے پیش نظر جس طرح دیگر سیاسی رہنماء ماہرین قانون وغیرہ بھی اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہوگیا ہے اس لئے اب عدالت خود ہی اس حوالے سے انکوائری کا حکم دے، اگرچہ حکومتی ترجمان یہ بات بھی تواتر کیساتھ کہتے آئے ہیں کہ اس معاملے کو میڈیا پر لانے کی بجائے عدالت لیجانا چاہتے تھے مگر اس کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے تو ہر موقع پر انصاف کی طلب کی ہے تاہم ہر جانب سے مایوس ہونے کے بعد اسے میڈیا پر لے آئے ہیں، گویا گھی جب سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلتا تو انگلیاں ٹیڑھی کرنا پڑجاتی ہیں،بہرحال اب گیند عدلیہ کے کورٹ میں ہے اور عدلیہ بہتر جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے،بھلا ہم مشورہ دینے والے کون ہوتے ہیں۔

منم عثمان مروندی کہ یار خواجہ منصورم

ملامت می کند خلقے ومن بردار می رقصم

متعلقہ خبریں