Daily Mashriq

اقوام متحدہ کے سابق حکام کو بچوں کے ریپ کیس میں قید

اقوام متحدہ کے سابق حکام کو بچوں کے ریپ کیس میں قید

کٹھمنڈو: اقوام متحدہ کے سابق حکام کو نیپال میں بچوں کا ریپ کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا۔

کینیڈا کے رہائشی 62 سالہ پیٹر جون دالگلش ہائی پروفائل انسانی حقوق کے رضاکار تھے جن پر گزشتہ ماہ فرد جرم عائد کی گئی تھی اور پیر کے روز انہیں 2 کیسز میں 9 اور 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ٹھاکر تریتل کی ضلعی عدالت کے حکام نے کہا کہ پیٹر دالگلش کو 12 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے جرم میں 9 اور 7 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

پیٹر دالگلش کو گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں کھٹمنڈو کے نزدیک کاوریپالانچوک ضلع سے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی جانب سے گرفتار کیا تھا۔

تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ پیٹر دالگلش کی گرفتاری کے وقت اس گھر میں دونوں بچے موجود تھے۔

پیٹر دالگلش نے خود پر لگے الزامات کی تردید کی تاہم ان کے وکیل سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا۔

اقوام متحدہ کے سابق اہلکار کو کینیڈا میں ملک کا دوسرا بڑا شہری اعزاز ’آرڈر آف کینیڈا‘ حاصل ہے اور ان کا نام سڑکوں پر موجود بچے، کم عمری میں مزدوری کرنے والے اور جنگ سے متاثرہ بچوں کی وکالت کرنے پر انسانی حقوق کے رضاکاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

انہوں نے 1980 میں بچوں کے حوالے سے فلاحی ادارے اسٹریٹ کڈز انٹرنیشنل قائم کیا تھا جو بعد ازاں ’سیو دی چلڈرن‘ سے مل گیا تھا۔

متعلقہ خبریں