Daily Mashriq

30 ارب کا پشاور میٹروبس منصوبہ اور حجام کی دکان

30 ارب کا پشاور میٹروبس منصوبہ اور حجام کی دکان

جس طرح پاکستان تحریک انصافنے لاہور میں شروع ہونے والی میٹروبس کو جنگلہ بس قرار دے کر اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ٹھیک اُسی طرح اب  پشاور   پشاور کے میٹرو منصوبے کو بھی کافی تنقید کا سامنا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں  پشاور میٹرو منصوبے کے انڈر پاس میں ایک حجام کی دکان کو دیکھا گیا۔ 

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر  پشاور  میں زیر تکمیل میٹرو بس منصوبے کے انڈر پاس میں حجام نے دکان کھول لی ۔  پشاور  کے علاقہ ہشت نگری میں میٹرو کے نیچے سے بنائے گئے انڈر پاس میں حجام نے چار کرسیاں، شیشہ، میز اور دیگر ضروری سامان رکھ کر روزی کا اڈہ کھول لیا ہے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حجام کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا اس لیے میں نے یہاں روزی کمانے کو ترجیح دی۔ 

حجام نے بتایا کہ اہم گزرگاہ ہونے کی وجہ سے میں یہاں چار دن سے اچھی روزی کما رہا ہوں۔ 30 ارب کے  پشاور میٹرو منصوبے کے انڈر پاس میں حجام کی دکان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور حجام کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا ۔ جبکہ دوسری جانب عوام نے پاکستان تحریک انصاف  اور وزیراعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ 

خیال رہے کہ صوبائی حکومت کا یہ منصوبہ 30 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود نامکمل ہے اور شہر میں جگہ جگہ کُھدائی سے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے پر پہلے ہی تنقید کی زد میں تھا اور رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر شئیر ہونے والی تصاویر نے پوری کردی۔ خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نےاکتوبر2017ء میں57 ارب کی لاگت سے 26 کلومیٹرطویل  پشاور  میٹرول بس یا ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس کی لاگت اب ایک کھرب روپے سے بڑھ چکی ہے۔

متعلقہ خبریں