Daily Mashriq


پارٹی ٹکٹوں میں خواتین کو نظر انداز کرنے کی پالیسی

پارٹی ٹکٹوں میں خواتین کو نظر انداز کرنے کی پالیسی

خواتین اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد کا گرم جوشی کے ساتھ تحریک انصاف کی صف میں سر گرم ہونے کے باوجود خیبر پختواخوا سے صرف ایک خاتون کو صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا ٹکٹ جاری کرنا نہ صرف پارٹی کا خواتین سے انصاف نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے خواتین کو25فیصد کوٹہ دینے کی شرط کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ممکن ہے شرح کی یہ شرط دیگر صوبوں سے خواتین کی بڑی تعداد کو ٹکٹ دیکر پوری کی جائے اگرایسا کیا بھی گیا تو خیبر پختونخوا کی خواتین کارکنان سے پھر بھی نا انصافی ہوگی۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ خیبر پختونخوا کے روایتی معاشرے میں خواتین امیدواروں کاملنا مشکل ہے لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اوران کو ٹکٹ ملنے کی امید ہو تو خواتین کا آگے آنا فطری امر ہوگا۔ خواتین امیدوار سیاسی جماعتوں کی ٹکٹوں کی ترجیح نہ ہونے کی وجوہات کو سمجھنا مشکل نہیں لیکن الیکشن کمیشن کی شرط کو پورہ کرنا بھی ایک قانونی ضرورت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے بعد دیگر سیاسی جماعتیں اس ضمن میں کیا حکمت عملی اپناتی ہیں۔ معروضی صورتحال میں ان کا فیصلہ بھی اس سے مختلف نہ ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ صرف خواتین کی خصوصی نشستوں پر ہی پارٹی کے با اثر رہنمائوں کے اعزہ کو کھپانے کو کافی نہ سمجھیں بلکہ عام انتخابات میں بھی ان کی حوصلہ افز ائی کرکے خواتین کو قومی ترقی اور جمہوریت کے استحکام میں کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔

مون سون کی پیشگی تیاری کی ضرورت

مون سون کی آمد آمد ہے مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کے باعث مکانات گرنے اور خاص طور پر سیلابوں کا خطرہ ہر سال درپیش ہوتا ہے ۔ گزشتہ کئی سال سے اس موسم میں دریاؤں اور پہاڑی نالوں میں طغیانی آتی ہے۔ تیز آندھیاں چلتی ہیں جن سے بڑے بڑے ہورڈنگز زمین بوس ہو جاتے ہیں' درخت ٹوٹ جاتے ہیں ' بجلی کی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس موسم میں شدید سیلاب بھی آتے ہیں جن کے باعث دریاؤں کے قریب آباد لوگوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور ان کے لیے سایہ ' خوراک ' پانی اور دوائیاں ' ان کے مویشیوں کے لیے چارے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اب کی بار سیلاب کے بارے میں تو محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ابھی منظر عام پر نہیں آئی البتہ مون سون کی موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں سے خبردار ہونے کے لیے کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں۔ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے ارکان کو ابھی سے پیش بندی کر لینی چاہیے کہ انہیں شہریوں کو ابتلا سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا اقدام کرنے ہوں گے۔ نکاسی آب کے لیے گندے پانی کی گزر گاہوں کو کب تک صاف ہو جانا چاہیے اور بجلی کی سپلائی لائنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔ محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان مستقل رابطہ کا انتظام کیا جانا چاہیے تاکہ موسم کی متوقع تباہ کاری اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وسائل کا اندازہ بروقت لگایاجاسکے۔نگران حکومت کو متعلقہ اداروں کو تیاری کی حالت میں رہنے کی فوری ہدایت کرنی چاہئے تاکہ عین وقت پر ان اداروں کی کارکردگی حسب دستور صفر بن کر سامنے نہ آئے۔ متعلقہ ادار و ں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے روئیے میں تبدیلی لائیں اور صورتحال کا بہتر مقابلہ کرنے کیلئے خود کو بروقت تیار رکھیں۔

متعلقہ خبریں