Daily Mashriq


پانی کا بحران اور سیاسی پارٹیاں

پانی کا بحران اور سیاسی پارٹیاں

کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ اس کے باوجود کہ اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی میڈیا اور کسی حد پاکستانی میڈیا بھی ایک عرصہ سے خبردار کر رہا ہے کہ پاکستان جو ایک زرعی ملک ہے اس میںپانی کی شدید قلت برپا ہونے والی ہے لیکن 2018 ء کے عام انتخابات کے لیے سیاسی پارٹیوں نے جو منشور یا پروگرام جاری کیے ہیں ان میں کسی میں بھی پانی پالیسی کا ذکر نہیں۔ بڑی چھوٹی تمام سیاسی پارٹیوں نے پاکستان کو درپیش اس سنگین مسئلے کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ چند سال پہلے تک تو یہ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے انتباہ تھا، اب یہ حقیقت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت کے باعث قحط سالی کی صورت سامنے آ گئی ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کی حامل سیاسی جماعتوں نے پچھلے دنوں اسلام آباد دھرنے کی آڑ میں ایک بل نہایت چابکدستی سے منظور کروا لیا تھاجس کے مطابق انتخاب میں حصہ لینے والوں کو آئین کے تقاضوں کے مطابق اپنے اثاثوں' قرضوں اور ان کی معافی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کی تفصیل اور ایسے ہی دیگر معاملات کے بارے میں ووٹروں کو آگاہی فراہم کرنے والے گوشوارے کاغذات نامزدگی سے حذف کر دیے گئے۔ کتنے سیانے ہیں ہمارے عوامی نمائندے ۔ ان کا سیانا پن اس وقت بھی نمایاں ہوا جب کچھ عرصہ پہلے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنے مشاہروں اور مراعات میں تقریباً سو فیصد اضافے کا بل نہایت عجلت میں منظور کر لیا۔ ایسی ہی عجلت کا مظاہرہ انتخابات سے متعلق کاغذات نامزدگی میں سے اثاثوں اور ٹیکسوں سے متعلق گوشوارے حذف کروانے کے وقت بھی کیا گیا۔ یعنی ہمارے عوامی نمائندے مٹی کے مادھو نہیں بلکہ جب ان کے اپنے مفادات کا سوال ہو تو نہایت مہارت اور عجلت سے پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہیں اور جہاں عوامی اور قومی مسائل کی بات ہو وہاں ان کو جگانے والا کوئی نہیں، اپوزیشن کے ارکان بھی چپ سادھے رہتے ہیں۔ نہ صرف چپ سادھے رہتے ہیں بلکہ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں جیسے کہ اثاثوں ، قرضوں اور ٹیکسوں کے بارے میں گوشواروں کو حذف کرنے میں حکمران پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں سب نے متفقہ طور پر حصہ لیا۔قومی اور عوامی مسائل سے آگاہی کی کمی کا سوال نہیں ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے نمائندے اس آگہی میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتے۔ آگہی میں شرکت ایک رفاقت کا تقاضا کرتی ہے ، مل کر کام کرنے اور اعلیٰ تر مقصد کے حصول کے لیے کام کرنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے جوش جذبہ پیدا کرنے کے تقاضوں کو اجاگر کرتی ہے اور ہمارے نمائندے محض حکمرانی کے لیے ووٹ مانگنے آتے ہیں ، مسائل میں شرکت اور ا ن کے حل میں رفاقت کے لیے ووٹ نہیں مانگتے ۔ پانی کی کمی کے بارے میں یہ کوئی نیا انتباہ نہیں تھا۔ سپریم کورٹ میں دو سال سے سماعت کی منتظر کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک درخواست اس وقت سامنے آ گئی جب ملک بھر میں لوڈشیڈنگ سے عوام بیزار ہیں۔ درآمدی ایندھن سے پیدا ہونی والے مہنگی بجلی کی عدم دستیابی کے شاکی ہیں تو توجہ اس طرف گئی کہ پانی سے بجلی پیدا کی جائے تو سستی ہوتی ہے اور ڈیموں سے زراعت کو پانی ملتا ہے۔ اس پرسابقہ اپوزیشن لیڈر، قومی اسمبلی سید خورشید احمدشاہ کہتے ہیں سپریم کورٹ اس درخواست کی خود سماعت کرنے کی بجائے مشترکہ مفادات کونسل کو بھجوا دے۔ جو عام انتخابات کے بعد تشکیل پائے گی۔ یعنی معاملے کو لٹکا دیا جائے۔ ادھر سوشل میڈیا پر کالا باغ ڈیم کے حق میں مہم چلائی جا رہی ہے او راعداد و شمار سے اس کی افادیت ثابت کی جارہی ہے۔ لیکن قحط سالی کو کیا محض ایک کالا باغ دیم کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ اس پر بھی اگر آج کام شروع کیا جائے تو کم از کم پانچ سال مکمل ہونے میں لگیں گے۔

قحط سال کا خدشہ کہیں زیادہ سنگین او ربڑا ہے اور اس کی تہہ میں ہمارے اہل سیاست کی خاموشی یا ناکامی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم اگر اہل سیاست کو سزاوار قرار دیا جائے تو بھی مسئلے کا حل نہیں نظر آتا۔ اس کے متعددپہلو ہیں، ایک عالمی موسمیاتی تبدیلی۔ دوسرا بھارت کی آبی جارحیت ، تیسرا ہمارے لیڈروں اور کارگزاروں کی غفلت اور ہمارے عوام کی پانی کے استعمال کی بے اعتدالی ۔ کہا جاتا ہے کہ دریائے سندھ کا 21ملین مکعب فٹ پانی ہر سال سمندر میں گر جاتا ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر پانی سمندر میں نہ جائے گا تو سمندر کا پانی خشکی کا رُخ اختیار کرے گا۔ بھارت نے پاکستان آنے والے دریاؤں پر بیسیوں ڈیم بنا لیے ہیں اور اس سے بھی زیادہ ڈیموں کے منصوبے تیار ہیں۔ دریاؤں کا پانی مزید کم ہو سکتا ہے ، بھارت ہمارے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہے ۔ اس ففتھ جنریشن وارمیں صرف فوج کام نہیں آتی بلکہ ساری قوم کو یہ جنگ لڑنی ہو گی۔ فوج بھارت کے ڈیموں کا رُخ نہیں موڑدے گی ، اگر موڑے گی تو یہ پانی کہاں جائے گا ۔ اس لیے اس جنگ کا ہر اول دستہ پاکستان کے اہل دانش، اہل تدریس اور طلباء کو ہوناپڑے گا جو ہمیں پانی کے استعمال کا درس دیں تاکہ جو پانی میسر ہے اسے اس طرح استعمال کیاجا سکے ، کہ یہ عام صارفین ' زراعت اور صنعت کو ضرورت کے مطابق کو میسر آئے۔ پاکستان کے اہل سیاست کو عالمی سطح پر بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کی کوشش کرنی ہو گی۔موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق پانی کے استعمال کی عادات اور ترجیحات طے کرنی ہوںگی۔نئے ڈیم بنانے ہوں گے تاکہ سیلابی پانی ضائع نہ ہو ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام آدمی کو اس قدر باخبر ہونا ہوگا کہ وہ اپنے ووٹ مانگنے والے سے اس کی پارٹی اور پاکستان کی پانی پالیسی پر دانشمندانہ سوال کر سکے تاکہ ہمارے عوامی نمائندے ، عوامی اور قومی مسائل کے بارے میں لیس ہو کر اسمبلیوں میں پہنچیں اور انہیں یہ سوال ہو کہ ان کی کارکردگی پر ان کے ووٹر حساب لیں گے۔

متعلقہ خبریں