Daily Mashriq


امید کروں یا نہیں

امید کروں یا نہیں

نگران حکومت میں ہی نہیں اگر ایسے لوگ ملک میں واقعی وزیر ہونے لگیں ، دس مرلے ، کنال کے گھر میں رہنے والے لوگ ، پڑھنے لکھنے والے ، ایمانداری کی زندگی گزارنے والے لوگ ، زبان کے سخت لیکن اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ، چیزوں کو دیکھ بھال کر ، ایک عام آدمی کے مفاد کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ، ان کے بہتر مستقبل کے حوالے سے فیصلے کرنے والے لوگ ۔ اگر یہ لوگ اس ملک میں وزیرہوں ، وزیراعظم ہوں ، انصاف کرتے ہوں ، اس ملک کو ذاتی مفاد کے آنکڑے میںپھنساکر لوٹ نہ لینا چاہتے ہوں تو اس ملک کی شکل ہی بدل جائے ۔ بات صرف وزیروں کی ہی حد تک کہاں موقوف ہے ۔ ان میں سے کئی وزراء ایسے تھے جنہیں بیورو کریٹس اپنی انگلیوں پر نچا یا کرتے تھے ۔ ابھی ہماری یادداشتوں سے وہ نام محو نہیں ہوئے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اصل حکومت تو وہ چلا رہے ہیں ۔ اب بھی نگران حکومت کے اکثر وزراء کو جب اپنی گزشتہ کارکردگی کے بارے میں یہ لوگ مطلع کر رہے ہوتے ہیں تو ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں چلتی محسوس ہوتی ہیں ۔ راوی صرف چین لکھتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کی تو جون ہی بدل ڈالی گئی ۔ اتنا کام ہوا کہ قائد اعظم نے کیا کیا ہوگا ۔ اتنے معاہدے ہوئے اور وہ بھی اس قدر کمال فائدے کے ، کہ اب کچھ باقی نہیں رہ گیا ۔ عام آدمی اور دوسری جماعتوں کے وزراء نہ تو ایسے کمال بصیرت رکھتے ہیں ، نہ ہی وہ اس سے آگے کی کوئی بات سوچ سکتے ہیں ۔ اس سے آگے کی بات سوچنا ہو تو پھر انہیں جیسے لوگوں کو لانا ہوگا تاکہ وہ اپنے پروگرام کو مزید نئی بلندیوں پر لے کر جا سکیں ۔ میں حیران ہوں کاغذ پر بنے پاکستان میں اور اصلی پاکستان میں جہاں میںاور آپ رہتے ہیں کیا مماثلت ہے ۔ کاغذ پر بنے پاکستان میں بجلی بھی پوری ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا زیادتی سے بھی لوگوں کے معمولات پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ صحت اور زندگی کی تمام تر بنیادی سہولتیں انہیں حاصل ہیں ۔ ملک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے ۔ سڑکیں ، پل اورا نڈرپاس دھڑا دھڑا محض اس لیے بنائے جارہے ہیں کہ اشیاء تجارت کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔ بیرونی دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور صرف پاکستان کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس قدر اُتاولی ہورہی ہے کہ اگر انہیں ذرا بھی تاخیر سے جواب دیا جائے تو وہ دُکھی ہو جاتے ہیں ۔ اور آہ وفغاں کرنے لگتے ہیں ۔ گزشتہ حکومت نے تو کمال ہی کر ڈالا تھا اور انکے کمالات کی روشنی ابھی تک ہمارے دلوں اور ہمارے اندھے راستوں کو منور کر رہی ہے ۔ یہ سارے انہی وزراء کے ہاتھ کے چُنے ہوئے لوگ تھے ، ان کے جانے کے بعد بھی انہی کی راگنی سنائیں گے ۔ انہی کے حوالے سے راگ الاپیں گے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب جو بھی کہہ رہے ہیں سچ بول رہے ہیں ۔ میں ایک صاحب کوجانتی ہوں جنہیں انکے وزیر کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیل کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے یوں لاعلمی کا مظاہرہ کیا گویا یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ گاڑی کیا ہوتی ہے ۔ ان کے وزیر با تدبیر کے پاس کتنی گاڑیاں اور کیا کیا مراعات تھیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی ۔ وزیر صاحب اپنے محکمے میں اپنی مرضی کے ٹھیکیداروں کو انتہائی شفاف طریقے سے پیپر رولز کی پاسداری کرتے ہوئے ٹھیکے دلواتے تھے ۔ ان ٹھیکوں میں وہ ٹھیکیدار ، کب اور کیسے ارب پتی ہوئے ، یہ بھی کسی معصوم سرکاری افسر کو معلوم نہیں ۔ اب نیب کیا انکوائری کرے گی اور کیا شواہد تلاش کرے گی ۔ شواہد تو ایسے ہی کسی افسر کے قبضے میں ہونگے جسے انہوں نے کبھی نواز ا ہوگا ۔ کسی کُھڈے لائن پوسٹنگ سے اٹھا کر فائدے کی جگہ پر لگایا ہوگا انہیں ۔ وہ کیسے بتائیں گے کہ وزیر صاحب نے ان کے کان میں کیا کہا کہ کس کو کیا فائدہ پہنچانا ہے اور انہوں نے کیا راستے کس طور تلاش کیئے ۔

ہم جانے کس کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اس سب کا کیا فائدہ ہے ۔ ہم لوگوں نے ایک سیاسی حکومت کے ہاتھوں اپنی بد نصیبی کے قلم سے اپنی زندگی کے پانچ سالوں کو ضائع ہوتے دیکھا ہے ۔ اب ایک نئی حکومت کے انتظار میں ہم بیٹھے ہیں ۔ نہ یہ احساس ہے کہ ان لوگوں میں سے جنہیں بس ہم نے پارٹی بدلتے دیکھا ہے ۔ ہمارے مخلص کتنے ہیں اور کیا کر سکیں گے ۔ یہ خیال آتا ہے کہ ان کے پاس کوئی خواب ہوگا بھی یا نہیں کہ جس کو پورا کرنے کی جستجو میں یہ ایک نیا کل تراشیں گے ۔ یہ لوگ وہی ہیں ، انکے ناخنوں میں اب تک ہماری کھال پھنسی ہے ۔ یہ وہی لٹیرے ہیں ، ان کے سروں کے اوپر کوئی بھی جھنڈے ہوں ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے وفادار بیوروکریٹس بھی وہی ہیں ۔ ہاں ہمیں تسلی ہے کہ عدالت میں احتساب ہورہا ہے ۔ نیب کے چیئر مین کو کسی سے دبائو میں آنے کی عادت نہیں اس سے کیا کچھ ٹھیک ہوگا ، کس حد تک ٹھیک ہوگا اس کی گارنٹی کون دے گا ۔ بار بار ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ امید کرنی بھی چاہیئے یا نہیں ۔ یا بس یونہی وقت گزارنا ہے ۔

متعلقہ خبریں