Daily Mashriq


سوشل میڈیا کی لت

سوشل میڈیا کی لت

گزشتہ روز مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا تو 15سے لیکر 20 سال کی عمر تک چند بچے موبائل کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ میں نے ان کو کہا کہ مسجد میں نماز پڑھو، تلا وت کرو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے کوئی خراب کام نہیں کرتے ۔ میں نے کہا ریڈیو ٹی وی پر بھی اچھے پروگرام ہو تے ہیں مگر کوئی ٹی وی اور ریڈیو کو مسجد میں نہیں لاتا کیونکہ مسجد کے آداب ہیں۔اگر ہم غور کریں تو فی زمانہ انٹر نیٹ، کیبل، موبائل فونز،فیس بُک ، ٹویٹر ، نے ہماری نسل کا بیڑاغرق کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا ایجادات اکیسویں صدی کی اچھی اور کار آمد ایجادات ہیں مگر بد قسمتی سے ہم سب اور بالخصوص نوجوان نسل کے ہاتھوں غلط استعمال سے اکیسویں صدی کی یہ اچھی ایجادات اہمیت کھو بیٹھی ہیں ۔ اورحالات کو سمجھنے والے بڑے اور والدین اس کو شش میں ہیں کہ دور جدید کے ان آلات سے مجبوراًنوجوان نسل کو دور رکھا جائے ۔ جدھر بھی دیکھو خواہ جوان ہو یا بوڑھا ، لڑکا ہو لڑکی، مر د ہو یا عورت سب کے سب یعنی پور ا معاشرہ موبائل انٹر نیٹ ، کیبل، فیس بُک ، ٹویٹر کے ساتھ لگا ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسکے بغیر کوئی زندگی نہیں۔ ایک سروے میں کہا گیا کہ ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا ، فیس بُک سے 5 فیصد کا ر آمد یعنی Productive کام لئے جاتے ہیں جگہ80 سے 85 فی صدتک یہ صرف وقت ضائع کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان آلات میں بُہت ساری خامیوں کے باو جود اچھا ئیاں بھی ہیں مگر بد قسمتی سے ہم اسکو اعتدال، عمر کی مناسبت اور ذہنی بلو غت کے ساتھ استعمال نہیں کرتے بلکہ بغیر سوچے سمجھے ہر وقت اسکے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔سی این این کے مطابق جوان نسل انٹر نیٹ، کیبل اور سو شل میڈیا پر دن میں 9 گھنٹے صرف کرتے ہیں۔ اور زیادہ تر غیر ضروری کام ہوتے ہیں۔ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں بچوں کی کا ر آمد یعنی وہ سرگرمیاں میں جنکا تعلق انکی پڑھائی ، ورزش ، دینی اور دنیاوی علوم سیکھنے فنون لطیفہ سے ہو اُس میں 3 سے 4 گھنٹے تک کمی واقع ہوئی ہے ۔ ایک اور سروے کے مطابق اس وقت 67 فی صد جوانوں کے پاس موبائل فونز ہیں . اور اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور کی اطلاعات کے بین الاقوامی ماہر میکو چین کہتے ہیں کہ الیکٹرانکس آلات اور انٹر نیٹ کی وجہ سے دنیا ایک عالمی گائوں بن گئی ہے سوشل انٹر ایکشن میں اضافہ ہوا مگر اسکے نتیجے میں ہمارے مقامی کلچر کے ادارے جس میں خاندان ، حجرہ اور دوسرے ثقافتی ادارے شامل ہے وہ تباہ و برباد ہوگئے ۔ایک بین الاقوامی ادارے پیو کے سروے کے مطا بق سوشل میڈیا ہر ملک ہر علاقے ملک اور ہر قسم کے لوگ استعمال کرتے ہیں ۔لہٰذا بچے اور جوان ذہنی بلو غت نہ ہونے اور کم علمی کی وجہ سے جھانسے میں آتے ہیں ۔ اپنی عمر سے زیادہ لوگوں کے ساتھ رابطے شروع کرنے کی صورت میں کسی وقت کسی جوان اور کم عمر کے بچوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے جسکے نتیجے میں وہ بُری صحبت کا شکار ہوجاتے ہیں۔جہاں تک تہذیبوں اور ثقافتوں کا تعلق ہے تو مغربی اور مشرقی کلچر میں حد سے زیادہ فرق ہے وہاں بچوں کے ساتھ گرل اور بوائے فرینڈز آتے ہیں۔ خا وند بیوی کو کسی با ت پر جھڑک نہیں سکتا ۔ہر طرح کی مادر پدر آزادی ہے مگر اسکے بر عکس ہماری تہذیب اور تمدن اس سے بالکل مختلف ہے ۔ ہمارا دین اور تہذیب قطعاً اس قسم کی سر گرمیوں کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور عورت کا تقدس اور وقار ختم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اُنکے پدر آزاد کلچر کا ہماری جوان نسل پر بھی اثر ہوتا ہے ۔ میں نے خود ایک سروے کیا کہ بچے ساری رات مو بائل کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔ اور پھر دوپہر 12 بجے اُٹھتے اور نا شتہ کرتے ہیں۔ اور وہ بچے جو سکولوں ، کالجوں او ریونیور سٹیوں کو جاتے ہیں وہاںوہ توجہ دینے کے قابل نہیں ہوتے۔جہا ں تک گھر میں والدین اور سر پرستوں کا تعلق ہے تو وہ نو جوان نسل کی منفی اور اخلاقی اور مشرقی اقدار سے گری ہوئی سر گر میوں پرکڑی نظر رکھیں ۔ والدین اور بڑوں کا رویہ ہمیشہ بچوں کے ساتھ نارمل ہونا چاہئے اور دونوں کا رویہ ایسا ہو کہ دونوں یعنی باپ بیٹا یا بیٹی آپس میں ایک اچھے ما حول میں کسی بھی مو ضوع پر بات کر سکیں۔ بڑوں میں یہ صلا حیت ہونی چاہئے کہ وہ بچوں کو موضوع کے حساب سے مناسب جواب دے سکیں اور اپنے نئی نسل کو اچھائی اور بُرائی میں تمیز سکھائیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اُن ویب سائٹس کو بلاک کریں جو ہمارے مشرقی کلچر ، تہذیب ، روایات ، مشرقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔نوجوان نسل کو دن میں زیادہ سے زیادہ 2گھنٹے ٹی وی انٹر نیٹ اور کیبل کو دیکھنے کی اجازت دینی چاہئے۔ وہ کمرہ جس میں بچے سوتے ہوں اُن میں ٹی وی انٹر نیٹ اور کیبل کی سہولت نہیں ہونی چاہئے۔ ہم انٹر نیٹ، کیبل، موبائل فون ، فیس بُک ، ٹویٹر کو بند تو نہیں کر سکتے مگر ان چیزوں کے استعمال کی مینجمنٹ کر سکتے ہیں.۔ ڈاکٹر طا رق جمیل کا کہنا کہ بُرائی کی مثال خود رو پودے کی طرح ہے جسکے اُگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ اچھائی اور نیک کام کی مثال کیلے، آم یا کینو کے باغ کی ہے جو خود نہیں اُگتے بلکہ اسکواُگایا جاتا ہے اور انکی خدمت کی جاتی ہے۔لہٰذا اچھائی کو اپنانے کے لئے محنت، کوشش اور جستجو کرنی پڑتی ہے۔لہٰذا اگر سوشل میڈیا کا استعمال کرنا ہو تو اس میں بُرائی کی طرف نہیں اچھائی کی طر ف جانا چاہئے۔ زندگی بُہت تھوڑی ہے اور اس تھوڑی زندگی کو ہمیں فضول کاموں کے بجائے اچھے کاموں کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔باقی ہم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے اور ایک دن ہم نے اس کے حضور پیش ہونا ہے۔

متعلقہ خبریں