Daily Mashriq


کوڑا تلے دبنے والی قوم

کوڑا تلے دبنے والی قوم

پاکستان میں شاید ہی کوئی گوشہ' کونا اور علاقہ شہر ہو جس کو دیکھ کر ایک باذوق و جمال پرست انسان کو احساس ہو جائے کہ چلو شکر ہے کہیں تو وطن عزیز میں صفائی کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ کراچی جو کبھی ''روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا آج کچرے کے ایسے ڈھیروں میں تبدیل ہوگیا ہے کہ وہاں کے عوام بالخصوص چھوٹے بچوں کی حفظان صحت کے مسائل کا اہم سبب بن چکا ہے۔ ہماری بڑھتی بے ہنگم آبادی نے کراچی جیسے شہر سے نکلنے والے گندے ندی نالوں کے کناروں پر رہائش پذیر لوگ گھروں اور غسل خانوں کا سارا گند ان نالوں میں پھینک کر ان کے بہائو میں رکاوٹ کا سبب بن کر عوام اور بچوں کے لئے موت کے گٹروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کراچی کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا گندا شہر پشاور ہے جو کبھی کراچی ہی کی طرح پارکوں' باغات اور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا اور قصہ خوانی کے مشہور بازار میں علی الصباح ماشکی صاف پانی کاچھڑکائو کرکے صفائی ستھرائی کے ذریعے اس تاریخی بازار کے حسن میں اضافہ کا سبب بنتے تھے۔ آج پشاور کے بازاروں سے لے کر پارکوں' سڑکوں اور پوش علاقوں تک سب گندگی اور کوڑا کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی نہروں کا پانی کبھی جاری پانی کی وجہ سے پاک تصور ہو کر کھیتوں میں آب پاشی کے علاوہ گھروں میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ آج سارے شہر اور بالخصوص ہسپتالوں اور انڈسٹری کے فضلہ جات پھینکنے کے سبب انسانی زندگی کے لئے زہریلا ترین پانی بن چکا ہے۔

ہسپتال جس کی صفائی مسجد کی طرح ہونی چاہئے تھی تاکہ آنے والے مریضوں کی جلد شفایابی ہو سکے مریضوں اور عوام کی تھوک' کھانے پینے' نسوار' سگریٹ کا استعمال اور غسل خانوں کی صفائی نہ ہونا ہسپتال میں آنے والے صحت مند لوگوں کو بھی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خدشات سے دو چار کرتے ہیں۔ آپریشن تھیٹرز کا برا حال ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے گزشتہ کئی برسوں سے انصاف صحت' ایم ٹی آئیز بورڈ اور دیگر صحت کی سہولیات کے اشتہارات کے ذریعے پروپیگنڈہ سے ہم تو یہی سمجھے تھے کہ واقعی صحت اور تعلیم کے میدان میں بڑا کام ہوا ہے لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے تو ایک جملے کے سوال میں ''پی ٹی آئی حکومت 5 سال میں کیا کرتی رہی؟ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ وزیر اعلیٰ خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اس لئے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔'' سارا کچاچٹھا کھول دیا ہے۔

پختونخوا میں اب فاضل مادوں کو ٹھکانے لگانے اورنہروں اور دریائوں کو گند سے صاف کرنے کے ماسٹر پلان پر کام کیا جارہا ہے جس پر 23ارب روپے لاگت آئے گی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر پشاور میں صنعتوں ' ہسپتالوں اور گھروں کے فضلہ جات کو ٹھکانے پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو نہ جانے پنجاب کے بڑے بڑے شہروں اور کراچی کو صاف کرنے پر کتنا خرچ آئے گا اور پھر یہ یقین دہانی کون کرائے گا کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد واقعی ہمارے شہر صاف ہو جائیں گے یاکرپشن کرنے والے شہروں کی صفائی کے ماسٹر پلان میں اپنا حصہ وصول کرکے حکومت اورعوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر شہروں کواسی حال پر چھوڑ دیں گے۔

دراصل گھر' محلہ' کالونی اور شہر صاف رکھنے کے لئے لوگوں کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم اور دینی تعلیمات پر یقین کے ساتھ عمل وہ ذریعہ ہے جس سے قوموں کی کایا پلٹتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں دونوں چیزوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ ہماری مساجد کے واش رومز اور وضو خانے دیکھیں۔ خادم مسجد' مؤذن اور دیگر افراد کی موجودگی کے باوجودصفائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔

اسلام میں صفائی پربہت زور دیاگیاہے لیکن مسلمان بالخصوص پاکستانی' افغانی' انڈین اور بنگالیمسلمان جسمانی لحاظ سے جتنے میلے کچیلے ہوتے ہیں شاید دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں۔ اکثریت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ان کو صفائی کے لئے پانی میسر نہیں حالانکہ پانچ وقت نماز کے لئے وضو کرنے والی قوم میلی کچیلی اور گندی کیسے رہ سکتی ہے۔ اسلام کی ساری عبادات میں فکری' جسمانی اورروحانی لحاظ سے صاف ستھرا رہنے کی تلقین اور جھلک موجود ہے لیکن چونکہ ہمیں گہرائی کے ساتھ اسلام کو سمجھنے کی توفیق حاصل نہیں اس لئے سرسری طور پر ظاہری کارروائی کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام پر عمل کرلیا ہے۔

مغرب کو سائنسی ترقی نے صفائی پسند بنا لیا۔ ان کو پتہ چلا کہ آلودہ خوراک و آلودہ ماحول قوم کی اجتماعی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لئے نہیں نے اس کے لئے قانون سازی کی اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں قانون پر عمل کروانا بے لاگ ہوتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے نفیس ترین اور سب سے زیادہ صفائی پسند انسان تھے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان لوگوں میں جن پر آپۖ روز محشر فخر فرمائیں گے تب شامل ہو سکیں گے جب ہم خود کو اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھیں گے۔ آقائے نامدار نے آج سے چودو سو برس قبل ماحولیات کو صاف رکھنے کے لئے اپنی امت کو جامع تعلیم دی ہے۔(ترجمہ) ''اپنے ماحول کو صاف رکھو اور یہودیوں کی طرح نہ بنو'' اگر ہم نے ان تعلیمات مقدسہ پر عمل نہیں کیا تو یاد رکھئے کہ ہم اپنے شہروں کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں میں دب کر فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ اللہ نہ کرے۔ آمین

متعلقہ خبریں