Daily Mashriq

افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع؟

افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع؟

خیبر پختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے قیام میں مزید توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی ڈیڈلائن جو 30جون کو ختم ہو رہی ہے اس میں مزید توسیع نہ کی جائے۔ صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہم نے افغان مہاجرین کی 40سال مہمان نوازی کی لیکن ان کی وجہ سے خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں امن وامان کے مسائل ہیں۔ کاروبار اور انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو چکا ہے۔ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاکر پاکستان کیخلاف موجود جذبات کا خاتمہ کریں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آج سے لگ بھگ 42/40 سال قبل سابق آمر جنرل ضیاء الحق نے جن مقاصد کیلئے پاکستان کو افغانستان اور سوویت یونین کی جنگ میں جھونکا، اس کے حوالے سے ملک کے اندر اب بھی دو رائے موجود ہیں۔ بعض حلقے اسے نام نہاد جہاد اور روس امریکہ جنگ قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اب بھی اسے سابق سوویت یونین کی جانب سے پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی کے نظرئیے سے جوڑتے ہوئے روسی افواج کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تحت افغانستان کے راستے پاکستان تک رسائی سے جوڑتے ہیں۔ ہر دو نظریات کے حامیوں کے پاس اپنے اپنے بیانئے کے حوالے سے دلائل کے انبار موجود ہیں تاہم یہاں ان دو نظریات کے حوالے سے بحث کرکے کسی بھی ایک نظرئیے کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں ہے البتہ اس بات سے کوئی بھی نظریاتی دھڑا انکار نہیں کرسکتا کہ اس جنگ کے نتیجے میں کم وبیش 50لاکھ افغان مہاجرین کو اپنا وطن چھوڑ کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا اور ایران میں تو نہایت کم تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد ہوئی جنہیں نہایت ہی سختی سے باربڈ وائر یعنی خاردار تاروں کے نرغے میں قائم شدہ کیمپوں میں سخت ترین پہرے میں رکھا گیا‘ ان کی سخت نگرانی کی گئی اور صبح کے وقت ان مہاجر کیمپوں سے باہر جانے والوں کو بہرصورت شام کے وقت کیمپوں میں واپس آکر رپورٹ کرنے کا پابند بنایا گیا جبکہ پاکستان میں انہیں ایسی مادرپدر آزادی حاصل رہی جو خود پاکستانیوں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا جہاں یہ سب سے زیادہ تعداد میں لا کر بسائے گئے کے معاشرتی ڈھانچے کو شدید نقصانات کیساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر بھی انتہائی مشکلات کا شکار ہونا پڑا۔ مقامی لوگوں کے روزگار پر انہوں نے قبضہ جمایا‘ صوبے کے بالائی علاقوں کے جنگلات‘ جہاں ان کا قیام رہا ان کے ہاتھوں تباہ ہوتے رہے‘ معاشرتی صورتحال میں بگاڑ ان کی وجہ سے پیدا ہوتی رہی‘ چوری چکاری‘ اغواء برائے تاوان‘ ڈاکہ زنی‘ قتل مقاتلے بڑھتے چلے گئے جبکہ ان کیخلاف تھانوں میں مقدمات تک کا اندراج ممکن نہیں تھا جو مبینہ طور پر ’’ اوپر‘‘ سے نازل کردہ احکامات کا شاخسانہ تھا۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے سب سے اہم اداروں نادرا اور محکمہ پاسپورٹ کو بھی ’’رشوت‘‘ سے داغدار کرتے ہوئے پاکستان کے جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ بنوانے تک رسائی حاصل کرکے نہ صرف اندرون ملک جائیدادیں خرید لیں بلکہ پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے بیرون ممالک میں بھی اپنی ناکردنیوں سے پاکستان کو بدنام کر دیا۔ سب سے زیادہ بدقسمتی یہ تھی کہ ملک کے اندر بعض سیاسی قوتیں بھی ان کی پشت پناہی کرتی رہیں بلکہ اب بھی سلسلہ تھما نہیں ہے اور کچھ سیاسی حلقے تو انہیں پاکستان کی شہریت دینے پر بھی تلے بیٹھے ہیں حالانکہ اب نہ صرف ان کے اپنے ملک کے حالات خاصے تبدیل ہوچکے ہیں اور اس وجہ سے ان کے پاکستان میں مزید قیام کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔ خاص طور پر جبکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردیوں کی وارداتوں میں ان کی تلویث کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ لوگ نہ صرف افغانستان سرزمین سے آنے والے دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں‘ ان کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اتنی مدت تک پاکستان کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے بعد صلہ یہ دیتے ہیں کہ جب انہیں واپس بھیج دیاجاتا ہے تو یہ سب کچھ بھول کر اُلٹا پاکستان کو برا بھلا کہنے لگ پڑتے ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے اور قائداعظم کی تصاویر کی بے حرمتی کرتے ہیں (ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں) مگر کوئی شرم محسوس نہیںکرتے۔ اس وقت بھی ان کی موجودگی سے پاکستان کے معاشی اور معاشرتی حالات کا جو حشر ہو رہا ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ مگر خدا جانے وہ کیا عوامل ہیں جو ہر بار ان کے قیام کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کی واپسی کے دو ٹوک فیصلے اور انہیں پاکستان میں مزید قیام کی اجازت نہ دینے کی راہ میں مزاحم ہو جاتے ہیں اور یہ اسی طرح ہمارے سروں پر مسلط رکھے جاتے ہیں چونکہ ان کے قیام کی وجہ سے سب سے زیادہ مسائل کا سامنا خیبر پختونخوا کے عوام کو کرنا پڑتا ہے اس لئے صوبائی حکومت نے وفاق کو انہیں یہاں مزید قیام کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے پیغام دے کر صوبے کے عوام کی درست ترجمانی کی ہے اس لئے امید ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کے عوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے گی اور افغان مہاجرین کو مزید قیام کی اجازت کے حوالے سے کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یو این ایچ سی آر کو اس سلسلے میں پاکستان کو مزید دباؤ میں لانے کی بجائے اب ان کی واپسی کیلئے ضروری اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کے عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

متعلقہ خبریں