Daily Mashriq

پسماندہ علاقوں کی ترقی

پسماندہ علاقوں کی ترقی

وزیراعظم عمران خان نے گورنر خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ محمود خان سے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی علاقوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ میں اخراجات میں ممکنہ حد تک کفایت شعاری اختیار کی جائے تاہم پسماندہ علاقوں کی ترقی اور کمزور طبقوں کی معاونت پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کم ترقی یافتہ یا پسماندہ علاقوں کی جانب توجہ مرکوز کرنے کا عندیہ دیکر درست سمت میں سفر کرنے کی نشاندہی کی ہے۔ اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ خصوصاً ہمارے قبائلی اضلاع ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران ان علاقوں میں افغان جنگ کی وجہ سے جو صورتحال رہی ہے اور یہاں پر جنگجوؤں نے جس طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ان کی وجہ سے ان علاقوں کا امن وسکون تک برباد ہوگیا تھا۔ پھر پاک فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے کئی علاقوں کے لوگوں کو بہ امر مجبوری عارضی ہجرت اختیار کرنی پڑی مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے صورتحال میں بہت تبدیلی آچکی ہے اور لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں مگر ان کی ترقی کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔ گزشتہ روز افواج پاکستان نے نہ صرف دفاعی بجٹ میں اضافے سے دستبرداری کا اعلان کیا بلکہ افسروں کی تنخواہوں میں بجٹ کے موقع پر اضافہ نہ لینے کا بھی اعلان کر دیا ہے جو افواج پاکستان کی ملک وقوم کیلئے ایک عظیم قربانی ہے‘ جس پر وزیراعظم نے اعلان کیا کہ یہ رقم قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی ترقی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ اس لئے امید ہے کہ ان دونوں علاقوں کی جانب بھرپور توجہ دے کر ان کی ترقی کیلئے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔

سیاسی ہنگامہ آرائی سے گریز کیجئے!

ملکی سیاسی صورتحال پر گرما گرمی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ وفاقی بجٹ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتیں مہنگائی کی آڑ میں حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کیلئے صلاح مشورے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر حکومت نے بعض جج صاحبان کیخلاف جو ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس بھیجا ہے اس کیخلاف پاکستان بھر کی وکلاء تنظیمیں متحرک ہوگئی ہیں اور 14جون کو ملک گیر ہڑتال کی کال دیدی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے سیاسی صورتحال میں تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ ادھر ایک اکنامک سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے پہلے سال کوئی معاشی ہدف حاصل نہیں کرسکی اور ترقی کی شرح 3.32فیصد تک گر گئی جبکہ مہنگائی کی شرح میں 9.1فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے اگرچہ حکومتی اقتصادی سروے آج بروز پیر جاری کیا جائے گا جس کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی تاہم پھر بھی سب کچھ اچھا نہیں ہے کا پیغام دے رہا ہے۔ ان حالات میں نہ صرف حکومت بلکہ حزب اختلاف پر بھی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ ملکی مفادات کو مقدم رکھ کر فیصلے کریں کیونکہ اقتصادی طور پر ہم ویسے بھی ڈینجر زون میں داخل ہوچکے ہیں یعنی آئی ایم ایف کے رحم وکرم پر ہیں۔

سوشل سیکورٹی کی جانب پیش رفت

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سماجی تحفظ کا بجٹ دوگنا کرتے ہوئے دس لاکھ غرباء کو راشن کارڈ اور غریب طلبہ کو ٹیوشن فیس اور وظائف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں سماجی تحفظ کی پالیسی ضروری ہوتی ہے، ہم غریب مستحق افراد کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے جارہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی ممالک میں سوشل سیکورٹی کا اپنا ایک نظام ہے جس کے تحت بیروزگار افراد کو روزگار نہ ہونے کی وجہ سے درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے الاؤنس دیا جاتا ہے جو یقیناً بھیک نہیں کیونکہ روزگار ملتے ہی ایسے افراد خود بھی اپنی تنخواہوں سے ایک معمولی رقم کی کٹوتی کے پابند ہوتے ہیں، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں غریب اور نادار لوگوں کو زکواۃ وغیرہ کی ادائیگی کے وقت یا پھر کسی بھی سیاسی رہنماء کے نام پر انکم سپورٹ کے حوالے سے امداد کی نسبت یہ پروگرام پروپیگنڈے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں، جن کا مقصد تو نیک مگر طریقہ کار غلط ہے۔ اس لئے سماجی تحفظ کے ان پروگراموں کو بھی بغیر کسی نام یا پھر بابائے قوم کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ کسی کو سبکی محسوس نہ ہو۔

متعلقہ خبریں