Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عیسیٰؑ چلے جارہے تھے کہ ایک شخص نے ان کاراستہ کاٹا بولا ابن مریم ؑ ! ذرا میری ایک بات سننا حضرت عیسیٰ ؑ راہ حق کے بتانے والے جلیل القدر پیغمبر اس کی آواز سنکر اپنی جگہ ٹھہرگئے ۔ اس نے راستہ روک کر اُن سے بات شروع کی ۔ بات کیا ان کی کاٹ شروع کی ۔ خواہ مخواہ اُلجھ پڑا ۔ اُلٹی سیدھی ہانکتا اور حضرت عیسیٰ ؑ کو بُرا بھلا کہتا رہا ۔ وہ کوئی بات سمجھاتے تو کٹ حجتی پر اُترآتا ۔کوئی بات مان کر ہی نہ دیتا۔ ہٹی ، ضدی ، چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی کرنا چاہتا ۔ یہ بے عقلی کی بات تھی ۔ حماقت کی بات : ۔حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندوں کوسدھارنے پر مامور تھے ۔ وہ بہت کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح کوئی بات اس شخص کی سمجھ میں آجائے مگر وہ تو نہ جانے کس مٹی کا بنا ہوا تھا کہ اپنی بات پر اڑا رہا ۔ لہجہ اس کا تلخ آواز اس کی تیز اور برہمی اُس کی اس درجہ تھی کہ جس نے دیکھا اُسے افسوس ہوا ۔راستے کی بات تھی ۔ خاصے لوگ جمع ہوگئے تھے ۔ سب حضرت عیسیٰ ؑ اور اس کی باتیں سنتے رہے لوگوں نے دیکھا وہ سختی کرتا تو حضرت عیسیٰ ؑ نرمی برتتے ۔ وہ بُرا بھلا کہتا آپ ؑ جواب نہ دیتے بلکہ کہتے تم تو بڑے شریف بڑے مہذب آدمی ہو کوئی حرج نہیں اگر غصہ آتا ہے غصے کو تھوک دو ! اور سکون سے میری باتیں سنو! مگر وہ اللہ کا دشمن برابر حضرت عیسیٰ ؑ کی ہتک کرتا رہا ۔ کم ظرف گالی گلوچ اور بد تمیزی کو اپنا سب سے بڑا حربہ سمجھتے ہیں ۔شریف اور اچھے لوگ گالی نہیں دے سکتے ! انہیں اپنی عزت کاخیال رہتا ہے ۔ کم ظرف اس بات سے اور شیر ہو جاتے ہیں ۔ بزرگوں کی بے عزتی کرتے ہیں ، کبھی انہیں ناروا خط لکھتے ہیں کبھی گالیاں دیتے ہیں ، کبھی راستے میں الجھ پڑتے ہیں ۔ وہ طرح دے جاتے ہیں جس کا جتنا ظرف ہوتا ہے وہ اتنا ہی خاموش رہتا ہے کم ظرف خاموشی کو کمزوری سمجھتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ گالیاں دینا اور جھگڑے پر اُترآنا کمزوری اور احساس کمتری کی نشانی ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے ، ایسے آدمیوں کے بارے میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں سکون اور چین سے محروم کردیتا ہے ۔ وہ ہر وقت غصے کی آگ میں جلتے رہتے ہیں ۔ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ دوسرے کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا ۔ اوروں کی نظروں سے بھی گرجاتا ہے ۔حضرت عیسیٰؑ سے جب اس راہ چلتے نے تکراراور بدکلامی کی انتہاکردی تو ایک شخص نے ان سے کہا حضرت ! آپ بھی اس سے کیوں نہیں اُلجھتے ، اسے ڈانٹتے بُرا بھلا کہتے ۔ حضرت عیسیٰؑ نے جواب دیا کہ اے عزیز ! یہ تو اپنے اپنے رکھ رکھائو کی بات ہے ، وہ اپنی حیثیت کا کام کرتا ہے ، میں اپنی حیثیت کا ، میں اس سے بُرائی نہیں سیکھ سکتا ، ممکن ہے وہ مجھ سے ادب ، تمیز اور اچھائی کی کوئی بات سیکھ لے ۔ اُس کی بدزبانی کا علاج میری بد زبانی نہیں ہوسکتی۔ بہترین اوراعلیٰ اخلاق ہی انسان کو ممتاز اور نمایا ں کرتے ہیں ۔ بااخلاق شخص کی عزت و احترام بہت کیا جاتا ہے ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں